Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

جہوریت کو چلنے دو

Print Friendly, PDF & Email

آئندہ عام انتخابات کے منعقد ہونے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے ، کم و بیش تمام باقاعدہ سیاسی جماعتوں (اس سے مراد وہ جماعتیں ہیں جو ایوان میں عوامی نمائندگی  رکھ چکی ہیں اور امیدوار بھی رکھتی ہیں) میں ٹکٹوں کی تقسیم پر تقسیم کھل کر سامنے آ چکی۔ امیدواروں کے آپس کے اور قیادت کے ساتھ اختلافات بھی روز روز سامنے آرہے ہیں، کہیں وفاداری پر پیسے کو ترجیح دینے کے الزامات لگ رہے ہیں تو کہیں وفاؤں پر اصول پرستی ، خود پسندی آڑے آرہی ہے۔ہر جماعت  دوخواہشیں رکھتی ہے (یہ بظاہر اوروقتی طور پر انتخاب سے پہلے کی خواہشات ہیں بعد از انتخاب  ان  میں زبردست اضافے کا امکان  موجودہے)  کہ 1ـ جس کو وہ ٹکٹ جاری کرے اسے عوام منتخب کرلیں۔ 2ـ جسے عوام منتخب کرتے ہیں اسے ہم ٹکٹ جاری کردیں۔

یہ جوڑ توڑ اور ہنگامے تو خیر الیکشن کا حُسن ہیں جیسے اختلاف رائے جمہوریت کا حُسن ہے۔جمہوریت سے یاد آیا وطن عزیز میں تو جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ، یہ تو کوئی  گلا سڑا،  لولا لنگڑا اور فالج زدہ نظام ہے جسے جمہور اپنا دل بہلانے کے لیے خوشی  خوشی میں جمہوریت  جمہوریت کہہ کر پکارتا ہے، حقیقی جمہوریت دیکھنی ہے تو ہمیں عصر حاضر کے ارسطووں سے غیر ملکی  مثلاً امریکی، یورپی نظام پر ٹھیک ٹھاک قسم کا بیان سننا ہوگا اور اگر ایسے میں ہم نے کوئی سوال کردیا تو اسے گستاخی تصور کیا جاسکتا ہےاور اگر ہمیں ان کی بات یا انہیں ہماری بات سمجھ نہ آئی تو ہمیں یہ کہہ کرہمارے حال پر  چھوڑ دیا جائے گا کہ برتن میں مقدار سے زیادہ چیز اور عقل میں سمجھ سے زیادہ بات نہیں آسکتی لہٰذا مزید وقت برباد کرنے کی ضرورت نہیں ،دفع کرو۔

جمہوریت کیسا نظام ہے؟ کیا یہاں کوئی نظام  ہے؟کسی شخص کے ذہن میں جمہوریت کا عمومی خاکہ کیا ہے؟ ہمارے ہاں جو نظام ہے اسے کیا کہا جاسکتا ہے؟ یہ سوال بہرحال مناسب سوال ہیں فی الحال میرا موضوع نہیں، انشاءاللہ کسی روز  اسے بھی موضوع بنائیں گے اور عمومی خاکے پر بحث بھی کریں گے۔ ابھی کے لیے اس شعر پر اکتفا کرتے ہیں

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں  کو  گنا  کرتے  ہیں  تولا  نہیں  کرتے

ہاں تو بات ہورہی تھی آنے والے الیکشن کی، ہم بھی باتوں باتوں میں جانے کہاں کو نکل جاتے ہیں ۔خیر الیکشن کی آمد آمد ہے اور ایسے میں وہ امیدواران جنہیں عوام پہلے منتخب کرکے ایوان تلک بھیجتی رہی ہے انہیں اپنے حلقوں کے دورے کرنے پڑرہے ہیں ، جو پہلے کامیاب نہیں ہوئے ان کے لیے تو یہ مرحلہ پھر بھی آسان ہیں بہ نسبت  ان کے جو ایوانوں کی زینت بنتے رہے ہیں، انہیں اپنے حلقوں میں عوامی ردعمل کا سامنا  کرنا پڑھ رہا ہے، کہیں عوام سابقہ پنج سالہ کاکردگی پر سوال کررہی ہے تو کہیں  حلقے میں نہ آنے کا شکوہ، کہیں جماعت بدلنے پر باتیں سنا رہی ہے تو کہیں سابقہ وعدے یاد دلارہی ہے۔ یہ سب بھی الیکشن کا حُسن ہے ایسے ایسے لوگوں کو بھی اپنے حلقوں کے دورے کرنے پڑتے ہیں ، لوگوں کے ساتھ بیٹھنا پڑتا ہے جن کی وہ آواز تک سننا وہ پسند نہیں کرتے ۔ آج  عوام جو سوال کر رہی ہے یہ نہایت خوش آئند  عمل ہے، حد تو یہ ہے کہ الیکٹیبلز کو بھی ایسی باتیں سننا پڑ رہی ہیں جنہیں سیاسی جماعتیں ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں ، جو کم و بیش ہر دور میں اقتدار کا مزہ  لوٹتے ہیں  اور ان کا سب سے بڑا ہتھیار بھی  یہی تو ہوتا ہے کہ  ووٹر صرف ہمیں دیکھتے ہیں جماعت کو نہیں ان سے بھی سوال ہورہے ہیں، انکی گرفت بھی اپنے قلعوں میں کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے(صرف دکھائی دے رہی ہے یا حقیقتاً ہو بھی رہی ہے اس کا ادراک نتائج آنے کے بعد ہی ہوسکے گا)۔

یہ بھی پڑھئے:   پولیس نہیں الیکشن عملہ کو ضلع بدر کریں

ووٹر کا حق ہے وہ اپنے سابقہ منتخب نمائندے سے جواب طلب کرے اور آئندہ  نمائندگی کے خواہش مندوں کو بھی  اچھی طرح پرکھے ایساپہلے تو نہ ہوتا تھا، کوئی عام شخص ایک وڈیرے یا بااثر ترین فرد سے پہلے تو کبھی یوں گویا نہ ہوتا تھا، یہ سب کیسے ممکن ہوا ؟کیا راتوں رات کوئی کایا پلٹ گئی، سالہاسال سے جاری زبان بندی پر  ‘بول کے لب آزاد ہیں تیرے’  نے شب خون مار ڈالا یا پھر وہ بات جسے چند لوگ بہت خوشی سے پڑھیں گے کہ عوام میں شعور آگیا اس کا سبب فلاں فلاں فلاں سیاسی جماعت یا رہنما ہے۔ اس کے اسباب میں یہ ذکر شدہ عوامل بھی کارفرما ہوسکتے ہیں،الیکٹرانک پرنٹ، سوشل میڈیا کا بھی اس سلسلے میں ایک اہم  کردار ہے۔  لیکن ایک چیز ایسی ہے جو پہلے کبھی نہ تھی وہ ہے “تسلسل”۔ آج الحمداللہ وطن عزیز میں دومنتخب  اسمبلیاں تسلسل کے ساتھ اپنی مدت مکمل کرچکی ہیں،مسلسل دوسرا منتخب صدر امسال ستمبر میں اپنی آئینی مدت مکمل کر کے ذمہ داریاں تیسرے منتخب صدر کے حوالے کرے گا، اگر اللہ نے چاہا تو ایک منتخب وزیراعظم بھی اپنی آئینی مدت مکمل کرےگا  جو آج تک ہوا  نہیں، دیگر آئینی ادارارے بھی اپنی حدود میں رہتے ہوئے  آئینی معیاد پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔بدقسمتی سے ایسا منظر دیکھنے کے لیے وطن عزیز کو ستر برس انتظار کرنا پڑا ،گزشتہ دس برس سے جاری اس جمہوریت کے تسلسل کے  سفر میں بے شمار قربانیوں کے بعد آج ہم اس مقام تک پہنچنے کے قابل ہوئے ہیں، یہ دس برس جن دشوار گزار  راستوں اور کٹھن منزلوں سے ہوتے ہوئے مکمل ہوئے ان کی بات پھر کبھی کریں گے۔

جی ہاں ہم اسی تسلسل کو آج  کے تبدیل شدہ رویوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں،یہ جماعتیں یہ رہنما تو پہلے بھی تھے مگر یہ تسلسل نہیں تھا، سوچیئے اگر یہ تسلسل کا سفر  1970ء کے پہلے عام انتخابات کے ساتھ ہی شروع ہوگیا ہوتا تو آج ہم اقوام عالم میں کہاں ہوتے، ملک دولخت ہوتا نہ مارشل لاء لگتے،  دہشت گردی سے  ہزاروں خاندانوں کے افراد لقمہ اجل نہ بنتے،لاکھوں ، کروڑوں افراد اس لعنت سے متاثر نہ ہوتے، خطے ، اسلامی ممالک، پوری دنیا  میں ہمارا  ممتاز مقام ہوتا،  ہم پسماندگی و قرضوں کی دلدل میں نہ دھنسے ہوتے، ہم بجلی، پانی، گیس کی کمی کے مسائل کے بروقت حل  کے لیے تدارک کرتے، مسئلہ ِکشمیر  حل ہوچکا ہوتا، ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہمارے دوستانہ باہمی عزت اوراحترام کے تعلقات ہوتے۔ ممکن ہے کوئی پڑھنے والا  ان باتوں کو محض خیالی ہی سمجھے تو اس سے یہ کہنا چاہوں گا آئندہ 70 نہیں فقط 10-15 سال ہی انتظار کرلے مجھ سمیت بہت سے لوگ پر امید ہیں  کہ وہ ان میں سے بیشتر مسائل کو خود حل ہوتا دیکھ لے گا اور  باقی ماندہ مسائل  کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کا تعین ضرور دیکھ لے گا مگر یہ سب باتیں مشروط ہیں جمہوریت کے  تسلسل کے ساتھ۔

یہ بھی پڑھئے:   ہمارے ووٹ کی حق دار سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ اچھے امیدوار ہیں

ووٹرز جہاں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیر و قائد حزب اختلاف خورشید شاہ ،سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور دیگر سالہاسال سے منتخب ہونے والےسیاست دانوں اور مختلف ادوار میں وزیر رہنے والوں سے انکی کارکردگی بارے سوال کر رہے ہیں یہ اچھی بات ہے اور اس بات کا اثر محض باتوں تک نہیں ہونا چاہیے بلکہ ووٹ کی پرچی پر بھی ہونا چاہیے، اگر کسی سابقہ نمائندے کی کارکردگی متاثر کن نہیں تو عوام کو اسے مسترد کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ ایسے میں ہماری ووٹرز کے ساتھ ساتھ دیگر تمام اداروں ،عہدےداروں ، سیاست دانوں سے بھی گزارش ہے بہت تجربےکرلیے ہم نے اب مزید نئے نئے تجربات سے گریز کیا جائے، ملک کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا جائے اور اس نعرے کو بلند کیاجائے. پاکستان کو بڑھنے دو، جمہوریت کو چلنے دو.. کہیں ہم ایسا کرنے میں ناکام  ہوگئے تو تاریخ ہمیں ایسی قوم کے طور پر یاد کرے جس نے اپنی بربادی کا سامان خود  مہیا کیا ،خود اپنی بھی دشمن تھی اور اپنی آنے والی نسل کی بھی۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ باد

Views All Time
Views All Time
389
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: