Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

حضرت علی بن ابی طالب اور حق شناسی

Print Friendly, PDF & Email

تیرہ رجب المرجب حضرت علی بن ابی طالب کی ولادت باسعادت کا مبارک دن ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس پرمسرت دن پر خوشی کے گیت گانے لگا اور حق شناسوں نے کلمہ شکر پڑھا کہ دیکھو وہ علی آ گئے۔ جن کے دم سے حق کا نام قائم ہے۔ غدیر خم کے مقام پر مناسک حج کی ادائیگی کے بعد ختم الرسل آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے “مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ” کا اعلان کیا۔ تو یہ اعلان کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ مقام حضرت علی علیہ السلام اللہ اور اس کے رسول ص کے ہاں کیا ہے۔

تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائیں تو حضرت علی علیہ السلام جہاں بہادری و شجاعت میں بےمثل تھے وہیں صبروحلم میں ان کا کوئی ثانی نہیں ملتا۔ دشمن کے ساتھ جو مہربانی سے پیش آنے کا درس دیں، خود فاقے کر کے سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹائیں۔ علم کے وسیع خزانے ہونے کے باوجود جو تکبر نہ کریں، جہاں سے گزریں اپنی شخصیت و کردار کے علی اوصاف کے نقش چھوڑ کر گزریں۔ میدان جنگ ہو اور در خیبر ہو علی جب اس در کو اکھاڑیں تو دشمن بھی اس علی کی قوت پر جھوم اٹھے۔ پھر وہی علی جب منصب خلافت سنبھالیں تو اپنی حکمت و دانائی سے نظام ریاست چلا کر دنیا کو بتائیں کہ حکمرانی ملے بھی تو ضرورت مند و بے کس کی آواز کو اول فوقیت دی جائے۔ اپنے قاتل کے ساتھ جو صلہ رحمی کرے وہ علی کے سوا کہیں کوئی ملتا نہیں۔ حضرت علی ع کی شخصیت روشن سوچوں کے حامل و متلاشی لوگوں کے لیے قدرت کی طرف سے کسی انعام سے کم نہیں ہے۔ عقیدہ توحید کی گہرائی اور روح سمجھنے میں خطبات حضرت علی ع ایک واضح اور جامع انداز سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ہمیں انسانیت واپس دو!

خدا کی حمد و ثناء بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” تمام حمد و ثناء اس اللہ کے لیے ہے جو چھپی ہوئی چیزوں کی گہرائیوں میں اترا ہوا ہے۔ اس کے ظاہر و ہویدا ہونے کی نشانیاں اس کے وجود کا پتہ دیتی ہیں۔ گو دیکھنے والے کی آنکھ سے وہ نظر نہیں آتا۔ پھر بھی نہ دیکھنے والی آنکھ اس کا انکار کر سکتی ہے اور جس نے اس کا اقرار کیا ہے اس کا دل اس کی حقیقت کو نہیں پا سکتا۔ وہ اتنا بلند و برتر ہے کہ کوئی چیز اس سے بلند تر نہیں ہو سکتی اور اتنا قریب سے قریب تر ہے کہ کوئی شے اس سے قریب تر نہیں ہے”۔ جب بھی خطبات حضرت کا مطالعہ کیا تو ذہن میں یہ بات دستک دیتی ہے کہ
خدا کی خدائی سے روشنائی ہوئی
ابتداء محمد ص نے بتائی، انتہا علی ع نے سیکھائی۔

عقیدہ توحید پر جب بھی بات ہوتی ہے تو میں رہنمائی کے لیے در علی ع پر جا کر اس عقیدے کی منزلت کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں جو مختلف مقامات اور ہر میدان میں حضرت علی ع نے بیان کیا۔ کیونکہ عقیدہ ایک ایسی آگاہی و ایمان ہے جو آنے والی نسلوں کو ہدایت و روسنی فراہم کرتا ہے۔ ہر عقیدے کی ایک منزل ہوتی ہے اور منزل عقل و وسعت کی زرخیزی کی محتاج ہے۔ خوب صورت منزل کی جانب ہر کوئی قدم بڑھاتا ہے یہ جانے بغیر کہ یہ منزل ہمارے حق میں کتنی پائیدار اور بخشش والی ہے۔ اور عقائد کی منزل میں کوئی دشواری نہیں یہ تو آگاہی کے در ہیں جو اس پاک ذات کی کرم نوازی سے ملتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   حضرت علی بطور جج-ڈاکٹر تصور حسین مرزا

وہ پاک ذات جس نے ہمارے دلوں کو محمد و آل محمد ع کے گھر سے مودت سے جلا بخشی۔ کوشش کریں حق شناسی کی پہچان کریں کیونکہ حق و باطل میں فرق کر کے ہی ہم معرفت الہی حاصل کر سکتے ہیں اور معرفت الہی تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ محمد و آل محمد ع کے گھرانے کے غلام بنا جائے تب ہی کچھ فیض ملے گا تب ہی گمراہی میں ڈوبے انسان بیدار ہوں۔ آج کے اس بابرکت اور پر مسرت دن کے موقع پر ہمیں ضرورت ہے کہ ذات علی بن ابی طالب کو جانیں اور سمجھیں کیونکہ جب تک ہم سیرت علی علیہ السلام کو نہیں سمجھیں گے نہ حق کی پہچان کر پایں گے نہ باطل کی۔ یوں ہی ایک دوسرے سے الجھتے رہیں گے۔

Views All Time
Views All Time
733
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: