Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

عمران خان کے سو دن

Print Friendly, PDF & Email

عمران خان کے پہلے سو دن کے پرو گرام سے ہمیں پیر مرتبان کا وہ اشتہار یاد آ گیا جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ پیر صاحب سے بعوض قلیل و خطیر رقم ( قلیل پیر صاحب کے لئے ، خطیر سائل کے لئے) جملہ تعویذ پاتے ہی دس دن میں روٹھے ہوئے محبوب کی یقینی واپسی ، گھریلو جھگڑوں یعنی بیوی سے مستقل نجات ، نا فرمان اولاد و ماتحت تابعدار ہونے کے ساتھ ساتھ پر اسرا ر یعنی خفیہ بیماریوں کا علاج ہو جائے گا ۔ ان روحانی کرامات کے ساتھ ساتھ ایلو پیتھی سے متھا لڑاتے ہوئے ، خشکی ، چنبل ، سر میں جوئیں ، گردے مثانے کی پتھری کے ساتھ ساتھ ، کھڑوس بلغمی آواز والے باس کی آ واز یا تو اتنی دھیمی ہو جائے گی کہ کان دانتوں کے ساتھ لگا کے آواز سننا پڑے گی ، یا آواز بالکل بند ہو جائے گی ۔ پھر شاید ڈانٹ پھٹکار کے پروانے ٹائپ شدہ ملا کریں گے.

سو دن کے پرو گرام میں جس بات کو اپوزیشن نے سب سے زیادہ میگنیفائی (Magnify) کیا بلکہ خان صاحب کے منہ سے نکلی اور اپوزیشن نے پکڑی وہ یہی ایک کروڑ نوکریوں والی بات رہی ، اپوزیشن کے مُدبران نے کروڑ نوکریوں کے وہ لتے لئے جیسے عاشق محبوب کو شادی کے بعد فائیو سٹار میں ڈنر کرانے کا وعدہ کرے اور معشوقہ یہ طعنہ دے کہ سال بھر کی عاشقی تو ایک برگر یا دہی بھلے کی پلیٹ آدھی آدھی بانٹ کر کھاتے گزر گئی ، بلکہ ہم میں تو یہ بھی طے تھا کہ کولڈ ڈرنک کی بوتل آدھی پہلے کون پیے گا اور تیلا(Straw)کون چُوسے گا۔ تو شادی کے بعد یہ کون سا فائیو سٹار ہوٹل ہو گا ، جہاں پہلی بار دو الگ الگ پلیٹوں میں کھانے کا موقع ملے گا کہ فائیو سٹار ہوٹل کے ایک وقت کے بوفے کا جتنا بل ہوتا ہے ، مڈل کلاس آدمی اس میں پورے مہینے کا موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوا لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   ملک کو درپیش سنگین چیلنجزاور ہم

اپوزیشن کے بیانات تو ایک طرف رہے ، کپتان کے کھلاڑی بھی پہلے ایک دن کروڑ میں لگنے والے صفرے گن گن کے بلکہ پوچھ پوچھ کے کنفرم کرتے رہے کہ خان صاحب نے ایک کروڑ ہی کہا تھا یا کچھ صفرے صحافیوں نے خود سے لگا دئیے۔ کسی دانا نے کہا اگر خان صاحب ایک ارب درخت لگانے کا دعوی کر سکتے ہیں تو یہ تو ایک ارب کا ایک فی صد بھی نہیں بنتا ، اتنا مبالغہ تو سیاست میں نیکی کی مانند ہے۔ ایک میچ میں کسی کھلاڑی نے کیچ چھوڑ دیا ، کپتان نے آکر خوب بُرا بھلا کہا، اگلی گیند پر خود کپتان نے کیچ چھوڑ دیا ، کھلاڑی جو پچھلی بال کا جلا بھنا کھڑا تھا ، کپتان سے پوچھا ، اب بتائیے ، کپتان نے تنک کر جواب دیا ، میں کپتان ہوں ، کیچ چھوڑوں یا پکڑوں میری مرضی ۔اس بات پر میاں نواز شریف کا وہ لطیفہ بھی یاد آ گیا ، کہ میرے اثاثے اگر آمدنی سے زیادہ ہیں تو تمہیں کیا ۔ اسی طرح خان صاحب بھی یہ کہہ سکتے ہیں میں ایک کروڑ نوکریاں نہ بھی دوں تمہیں کیا ۔ ہو سکتا ہے نعیم الحق کی طرف سے یہ بیان بھی آ جائے کہ کپتان کے بیان کو توڑ مڑوڑ کے پیش کیا گیا ہے ، خان صاحب نے یہ فرمایا ہے کہ ایک کروڑ نوکریاں نہیں دی جائیں گی ۔

واپس آتے ہیں سو دن پر ، ان سو دنوں کا اُس کہاوت سے کوئی تعلق نہیں کہ سو سنار کی تے اک لوہار دی ، لوہار تو کئی سو دنوں سے اپنی سیاست کی بھٹی ٹھنڈی ہونے کی دہائی دے رہا ہے ،لیکن پانامہ کے کلہاڑے کی بجائے اقامہ کی پھوار نے پچھلے نو برسوں سے بھڑکتی ہو ئی لوہار کی بھٹی یک بارگی یوں ٹھنڈی کر دی ، جیسے بھوک کی شدت سے گرمایا شیر ، سانڈ وں کی بارات دیکھ کر ٹھنڈا ہو جا تا ہے ۔ کچھ بد خواہوں کا کہنا ہے کہ پہلے سو دن تو خان صاحب بلے سے پچ ٹھیک کرتے کرتے نکال جا ئیں گے ، باقی کا عرصہ دہائیاں دینے میں گزر جائے گا کہ ن لیگ جاتے جاتے پچ ہی اکھاڑ کے لے گئی ۔

یہ بھی پڑھئے:   آن شور ، آف شور تجربات

ویسے بھی حکومت جاتے ہوئے خزانہ یوں خالی کر گئی ہے جیسے کرایہ دار گھر خالی کرتے وقت بلب ، پنکھے حتی کہ باتھ روم کی ٹونٹیاں تک اتار کر لے جاتے ہیں ۔ یوں بھی حکومت اور نئی شادی میں پہلے سو دن ہنی مون پیریڈ کہلاتے ہے ، جس میں دلہن اور حکومت کوئی کام نہیں کرتی ۔ البتہ ساس اور اپوزیشن تگڑی ہو ، تو شاید دلہن کچن میں اور ترقی اشتہارو ں میں نظر آنی شروع ہو جائے ۔ علامہ ماچس کا مختصر تجزیہ تو یہی ہے کہ پہلے سو دن تو عمران خان خود کویہ یقین دلانے میں گزار دیں گے کہ وہ واقعی وزیر اعظم بن چُکے ہیں اور یہ وہ خواب ہر گز نہیں ، جووہ پچھلے پانچ سال سے عوام کو دکھاتے رہے ہیں ۔ ہمارا بھی یہی مانناہے کہ اگر پہلے سو دن عمران خان کچھ کئے بغیر نکال گئے تو ، باقی کے پانچ سال پورے کرنا بھی ان کے لئے کچھ مشکل نہ ہو گا ۔کیونکہ جب عوام مایوس ہو جائے تو و ہ احتجاج تو کیا اُف تک نہیں کرتی ۔

Views All Time
Views All Time
342
Views Today
Views Today
1

زاہد شجاع بٹ

زاہد شجاع بٹ پیشہ ور سے زیادہ شوقیہ مزاح نگار ہیں ۔ ادب کے جراثیم بچپن ہی میں پائے جاتے تھے جو قریباََ چھ سال پہلے ایکٹیو ہوئے ۔ روزنامہ دن میں کالم نگاری سے لے کر دن نیوز چینل انفوٹینمنٹ پروگرام ’’ واہ واہ ‘‘ کی سکرپٹ نگاری سے ہوتے ہوئے اے پلس کے پروگرام آدھا کار سیزن دو کے لکھاری اور پھر ڈاکٹر یونس بٹ کے ساتھ ہم سب امید سے ہیں تک ان کا چھ سالہ سفر اب اگلی منزل کی طرف بڑھنے کو ہے ۔ کالموں کا مجموعہ "خبر یہ ہے کہ‘‘ نام سے چھپ چکا ہے۔ اگلی کتاب ترتیب کے مراحل میں ہے ۔ قلم کار میں آپ ان کے چبھتے اور مزاح سے بھرپور انشائیے اور طنزائیے پڑ سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: