Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

المیوں کا المیہ – دہشت گرد کون؟

Print Friendly, PDF & Email

ایک سال پہلے کہیں کچھ سرچ کر رہا تھا۔ جب یہ کتاب نظروں کے سامنے سے گزری تو کوشش کی کہ ڈاونلوڈ کر لوں۔ کیونکہ برائٹ بکس والے جنہوں نے یہ کتاب چھاپی تھی اس کا پتا نہیں تھا کہ یہ کس جگہ ہے اور کتاب اتنی پرانی تھی کہ امید لگانا فضول لگا کہ اب تک یہ موجود بھی ہو گی ۔ چونکہ پی ڈی ایف پڑھنا مشکل ہو گیا ہے تو اس لیے اس وقت کا انتظار کر رہا تھا۔ جب ہارڈ میں کہیں شاہ جی کی لائبریری سے یہ نظر آئے اور فوری طور پر اُچک لوں۔ کل کتابیں لائبریری میں لگاتے ہوئے یکدم یہ کتاب ملی تو فوری طور پر سائیڈ پر کر لی۔ کیونکہ 1973 سے 2001 کے افغانستان کے حالات میری دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔ 

کتاب دہشت گرد کون کا عکس

دہشت گرد کون؟ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد امریکہ کی پالیسی میں آنے والی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں ہمارے خطے پر پڑنے والے اثرات کی بات گئی ہے۔ چونکہ یہ کتاب 2001 میں لکھی گئی اس لیے یہ کتاب ایک ایسا تھیسز محسوس ہوتی ہے جس میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ، افغان خانہ جنگی، امریکہ کے اندر موجودہ علیحدگی پسند تنظیموں کا کردار، امریکہ کی بین القوامی پالیسی کا اینالسس کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں افغانستان کی مختصر لیکن جامع تاریخ بیان کی گئی ہے۔ سی ای اے اور دوسری امریکی ایجنسیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور سب سے اہم بات مستقبل کا جو منظر نامہ پیش کیا گیا تھا وہ بہت حد تک آج ٹھیک ثابت ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   شام کا نوحہ ، حقیقت کیا ہے؟ - کرن ناز

میرے لیے کتاب کی پشت پر فضل الرحمان صاحب کا تبصرہ دلچسپ اور تھوڑا حیران کر دینے والا بھی تھا۔ لیکن کتاب پڑھنے کے بعد اور خاص کر کتاب میں موجود واحد انٹرویو جو مولانا فضل الرحمان صاحب کا ہے اس کو پڑھ کر اس دور کے مزہبی طبقوں کے نظریات اور خیالات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ لکھنے والے نے خود کو غیر جانبدار رکھنے کی ہر ممکنہ کوشش کی جس میں وہ کامیاب ہوتے نظر آئے ہیں۔ بس اسی لیے روایتی مسلمانوں والے دلائل سے ہٹ کر وہ دلائل پڑھنے کو ملے جس کو اس وقت کی اہل دانش ہائی لائٹ کر رہی تھی۔ بلکہ یہ کتاب پڑھ کر محسوس ہوا کہ سوشل میڈیا سے باہر والے اہل دانش کی رائے ہواؤں میں تیر چلانے والی نہیں ہوتی بلکہ اس میں ماضی کے تلخ تجربات اور مستقبل کی منظر کشی حقائق پر مبنی ہے۔

کتاب دانشورانہ موشگافیوں کی بجائے تاریخی حوالوں کے ساتھ ساتھ اس دور کی ملکی اور بین القوامی اور دانش کے خیالات کا بہت شاندار تجزیہ کیا ہے اس لیے پڑھ کر نتائج اور تجزیے سے اختلاف ممکن ہے لیکن امریکہ کے جنگی جنون پر جو رائے تھی وہ آج بھی سچ ثابت ہو رہی ہے۔ کتاب پڑھ کر اسامہ بلادن کی شخصیت کا جو روایتی تصور میرے ذہن میں تھا اس کو بہت حد تک دوبارہ سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ رحیم اللہ یوسفزائی کے ایک کالم کا حوالہ پڑھتے ہوئے جو انہوں نے اسامہ کا آخری انٹرویو کرنے کے بعد لکھا تھا۔ ایسا محسوس ہوا کہ اسامہ بلادن اس قدر طاقتور نہیں تھا جس طرح اس کو بنا کر پیش کیا تھا۔ ایک ایسا شخص جس سے دنیا کو خوفزدہ کیا ہوا تھا وہ اس قدر بے بس تھا کہ ملاعمر کی لگائی گئی حدود قیود کو فالو کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اور امریکی حملے کے خوف سے ملا عمر بھی اسامہ بلادن کو افغانستان کو چھوڑنے کا کہہ رہا تھا۔۔۔ سب سے دلچسپ جواب مولانا فضل الرحمان صاحب نے ایک سوال کا جواب دیتے ہو دیا جب ان سے پوچا گیا کہ اسامہ بلادن کو ملاعمر نے افغانستان چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے تو مولانا صاحب نے فرمایا امیر المومنین نے حکم نہیں دیا بلکہ عرض کیا ہے کہ اسامہ بلادن افغانستان کو چھوڑ دیں۔ مجھ جیسے طالب علم کے لیے یہ کتاب بنیادی چیزوں کو سمجھنے اور ایک مختلف میں بہت معاون ثابت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   سعودی لنگر خانہ اور بیعتِ والئی بیت الابیض | کاشف بٹ

Views All Time
Views All Time
169
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: