پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

Print Friendly, PDF & Email

umme rubabاللہ تعالیٰ نے بہت سے حشرات الارض بنائے مگر کچھ ایسے حشرات بھی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے،ان میں سے ایک غیرت نامی کیڑا بھی ہے جو ہمارے معاشرے کے مردوں کے دماغوں میں پیدائشی طور پرداخل کر دیا گیا ہے۔یہ کیڑا یوں تو دماغ میں ہر وقت کلبلاتا رہتا ہے مگر اس کیڑے کا تعلق عورت ذات کی تمام حرکات و سکنات سے مشروط ہے بشرطیکہ وہ عورت آپ کی ماں ،بہن،بیوی یا بیٹی ہو۔اگر یہ کیڑا کسی مرد کو کاٹ لے تو اس کی غیرت زور سے جاگ اٹھتی ہے اور وہ اپنے خاندان کی کسی عورت مثلاً اپنی ماں ،بہن، بیوی یا بیٹی کا قتل کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔خدشہ تو یہ ہے کہ اگر یہ کیڑا اسی طرح اتنی جلدی جلدی ان نام نہاد غیرت مندوں کو کاٹتا رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ ماں ،بہن،بیوی اور بیٹی کو اپنی جان اور عزت بچانے کے لئے خود کشی کرنی پڑے گی۔
یہ غیرت اس وقت تک نہیں جاگتی جب تک عورت بھیڑ بکری یا قربانی کے جانور کی طرح خود کو پیش کرتی رہے۔جہاں اسے احساس ہوا کہ وہ بھی ایک انسان ہے اور جیتا جاگتا وجود رکھتی ہے یہ غیرت یک دم بیدار ہو جاتی ہے۔جب عورت پر تشدد روا رکھا جاتا ہے نہ صرف ہاتھ سے بلکہ اس پر زبانی تشدد کیا جاتا ہے، بد کلامی، گالم گلوچ، طعنوں، تشنوں اور دنیا کے سب سے آسان کام بد کرداری کے الزامات سے اس کا کلیجہ چھلنی کیا جاتا ہے اس وقت یہ غیرت کہاں ہوتی ہے ؟ اس وقت کسی کو خیال نہیں آتا کہ اس جیتے جاگتے گوشت پوست کے وجود کے بھی جذبات ہو سکتے ہیں اور یہ بھی کسی تکلیف اور ذہنی اذیت سے گذر سکتی ہے۔اس وقت کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس پر کیا بیت رہی ہے؟اس لئے کہ کچھ عورتیں اپنا گھر بچانے کے لئے ،کچھ خاندان کی عزت و ناموس کے لئے یا اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر چپ سادھ لیتی ہیں۔خود پر زندگی حرام کر لیتی ہیں۔اور جو خود کو بھیڑیوں کا تر نوالہ بننے سے بچاتی ہیں انہیں اس پر بھی یہ سننے کو ملتا ہے،ہونہہ،بڑا غرور ہے سمجھتی کیا ہے خود کو۔۔
اور اگر کوئی عورت قندیل کی طرح اپنی آزادی کا انتخاب کرتی ہے اسے اپنی آزادی کی قیمت اپنی جان دے کے چکانا پڑتی ہے۔عورت کی آزادی کی حدود کا تعین بھی مرد اور معاشرہ ہی کرتا ہے، مرد کی آزادی لا محدود ہے۔عورت کی ھدود پر آرڈینینس بھی لاگو ہوتے ہیں۔جن کا اطلاق صرف عورت پر ہی ہوتا ہے، مرد پر کسی مذہب، اخلاقیات اور آردینینس کا اطلاق نہیں ہوتا۔اب زمین پر اتنے خدا ہیں کہ وہ آسمان پر بیٹھے خدا کو مشورے دینے کے اہل ہو چکے ہیں کہ اسے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں۔نیکی بدی،گناہ ثواب اور جزاوسزا کے فیصلے یہ زمینی خدا زیادہ بہتر اور جلدی کر لیتے ہیں اور قیامت برپا کر دیتے ہیں،پھر قیامت کا انتظار کیوں؟
تو اے زمینی خداؤ، اے فرشتو، اے غیرت مندو تمہیں سمجھانا مشکل نہیں ہے، نا ممکن ہے،اس معاشرے کی عورت اس زمین پر تمہارے فیصلوں کی محتاج ہے، تم زندہ زمین میں گاڑ دو، جلا دو،چہرے پر تیزاب پھینک دو، غیرت کے نام پر قتل کر دو، مارو پیٹو، ہر قسم کی اذیت دو۔مذہب اور اخلاقیات کی باتیں کرنے والو یا تو تمہارا مذہب جھوٹا ہے یا تم جھوٹے ہو۔

Views All Time
Views All Time
1625
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   کائٹ رنر ناول تبصرہ بلال حسن بھٹی

امِ رباب

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

2 thoughts on “پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

  • 18/07/2016 at 7:32 صبح
    Permalink

    بہت خوب ، بہت اعلی تحریر ہے ،،،،

    معاشرے کی بے حسی ملاحظہ فرمائیے کہ ایسے واقعات تواتر سے ہوتے چلے جاتے ہیں ،،،
    لوگوں کی رائے پہ اثر انداز ہونے والا میڈیا
    اِس میں سنسنی کا پہلو اُجاگر کرتا ہے ،،

    مذہبی دانشور اپنی اپنی صدیوں کی دُھول سے اَٹی عینکیں لگا کر دیکھتے ہیں ،،،،

    حکمران اسے روزمرہ میں شمار کرتے ،،، اُن کے نزدیک یہ ہوتا ہے ،،، چلتا ہے ،،،

    عوام گُھٹن محسوس کرتے ہیں اور یہ ازل سے محکوم و مجبور اکثریت کسی اگلی قربانی کا انتظار کرتی ہے ،،

    شاید تعلیم اور شعور ، تہذیب و احساس اس منظر نامے کو بدل سکے ، ،

    Reply
  • 20/07/2016 at 3:59 صبح
    Permalink

    خوب۔

    آخری سطر کے جواب میں میرا خیال ہے کہ دونوں ہی جھوٹے ہیں۔

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: