Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

جناب وزیراعظم!ہم نے گھرجاناہے

Print Friendly, PDF & Email

اگرچہ بلندوبالاپہاڑوں کے بیچ یہ ایک پراسراراورپرخطرجنگل تھا‘ مگر بعدازتناول ماحاضر‘ برگدکے اس بوڑھے پیڑکی گھنی چھاؤں میں گھاس پرسرکے نیچے بازوکوتکیہ کیاتوجیسے بہشت کا جہاں آبادہوگیا۔بخدا جنگل کی نشاط انگیز‘ جادوئی خاموشی میں اثنائے استراحت‘ پرندوں اورجھرنوں کے دلفریب گیتوں کے فطری ماحول کی منظرکشی سے ہماراقلم قاصرہے۔ عیدکادوسرادن ہم نے یہیں گزارا۔ عرض کیاتھاکہ آپ کی دعاسے ہم خودبھی فقیرلوگ ہیں اور پیروں‘ فقیروں کی درگاہوں پرحاضریاں دینے والے بھی ہیں۔اس نیک مقصدکی خاطرعیدکاموقع ہمارے لیے سنہری ہوتاہے‘ جب ہمارے ملازمت پیشہ اوربیرون ملک مقیم کزن بھی ہماری عیدکی خوشیاں دوبالاکرنے گاؤں پہنچ جاتے ہیں۔تب یہ گناہ گارحسب توفیق اپنابکرایادیسی مرغے ساتھ لیے پہلے سے مانی گئی کوئی مَنت دینے آبادی سے دور‘ بہت دورجنگل میں کسی دربارپرحاضرہوجاتے ہیں۔ کئی حاسداسے منت کی بجائے پکنک قراردیتے ہیں‘مگرفقیرلوگ دنیاداروں کی کب پرواہ کرتے ہیں بھلا؟

علی الصبح فقراء کے لگ بھگ اٹھارہ مردانہ نفرپرمشتمل قافلہ‘قربانی کا گوشت اور دیگر سامان اٹھائے ایک مشکل ترین منزل کے لیے عازم سفر ہوا۔ اس دفعہ سخی آہوباہوکی نگری کے خوبصورت‘ مگر دشوار گزار پہاڑوں کے دامن میں آسودہ باوا گمٹی والی سرکار کے دربا رپر حاضری کا قصد تھا۔سالٹ رینج کے علاقے میں یہ قدیم دربار تاریخی قلعہ ثمر قند کے سائے میں واقع ہے ‘ جہاں گاڑی یا موٹر سائیکل تو درکنار ‘خچر کا جانا بھی محال ہے ۔ دشوارگزارگھاٹیوں اورندی نالوں کے اس طویل سفرمیں منزل تک پہنچنے کا واحد ذریعہ انسان کے پاؤں ہیں ۔ درگاہ کے ساتھ ایک درخت پر بہت سی گھنٹیاں بندھی ہوئی ہیں‘ جن کے ساتھ لٹکی رسی کھینچے سے یہ بج اٹھتی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ جو بھی یہ گھنٹیاں بجا کر کسی ایک خواہش کا اظہار کرے تو وہ پوری ہوتی ہے ۔ جومضبوط اعصاب یہاں پہنچنے میں کامیاب ہو جائے ‘وہ گھنٹیاں بجا کر ایک ہی خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ وہ خیریت سے گھر واپس پہنچ جائے ‘ تاہم قدرت نے اس وادی پر اپنا حسن فراخدلی سے نچھاور کیا۔

مسافروں کا پا پیادہ قافلہ جنگل میں قدم رکھنے سے قبل آخری گاؤں سے گزرا تو ایک جہاندیدہ بزرگ نے رہنمائی کی ۔ وہ دورتک ہمارے ساتھ چلے اور جنگل میں جا کر ہمیں منزل مقصود پر پہنچنے کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہاں کوئی باقاعدہ رستہ تو نہیں ‘البتہ ہم نے جا بجا درختوں کے ساتھ سبزجھنڈیاں باندھ رکھی ہیں ‘جو دربار تک مسافروں کی رہنمائی کرتی ہیں ۔انہوں نے ہمیں تاکیدی نصیحت کی کہ کسی بھی صورت ہم جھنڈیوں والا رستہ نہ چھوڑیں ورنہ خوار ہوں گے۔ خوارتوخیرہوناہی تھاکہ ہم نے ایک مشکل اور حساس سفرکاآغازغیرسنجیدگی سے کیااورجلدہی اصل رستے سے بھٹک گئے ۔ہنسی مذاق میں کوہ پیمائی اور دشوار گزار گھاٹیوں اور پانیوں کو عبور کرتے ہوئے جانے کب جھنڈیاں غائب ہوئیں اور ہم بیاباں میں غلط سمت میں نکل گئے ۔ اس دوران وہاں بکثرت پائے جانے والے جنوں اور بھوتوں سے ہماری سلام دعا ہوتی رہی‘ مگر ان میں سے کسی نے بھی ہمیں صحیح راہ نہ دکھائی‘ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ ہماری منزل کھوٹی کرنے میں ان جن بھوتوں کا کردار کلیدی ہے ‘جنہوں نے ہر دفعہ الٹی سمت میں ہماری رہنمائی کی ‘تاہم آفریں ہے گورے کی سائنس پر ۔ ہم نے ہینڈ سیٹ پرگوگل ارتھ سے نقشہ تلاش کیا اور ایک طویل اور جان توڑمسافت کے بعددوپہر کے وقت دربار شریف پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ۔

یہ بھی پڑھئے:   کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

اس ایڈونچر سے لطف اٹھاتے جنگل کے دلنشیں‘ پرسکون ماحول میں مسافروں نے آگ جلا کر گوشت بھونااورکھانے کے بعد بوڑھے برگدکی چھاؤں میں تادیرآرام کیا۔ ڈھیرگپ شپ اورکھیل کود کے بعدواپسی کا سفردرپیش ہواتو خیال آیاکہ گھرکاسفرناممکن حدتک مشکل ہوچکا۔ پس غریب الدیارمسافروں نے دربارکی گھنٹیاں بجا کر اپنی واحد خواہش کا اظہار کیا کہ ہم واپس گھر جانا چاہتے ہیں۔دن کی ہلکی بارش کے بعد جھنڈیوں والا رستہ ناقابل استعمال ہوچکاتھا‘سو ہم نے مخالف سمت کا پہاڑ عبور کر کے کلرکہار کا قصد کیا ۔اس مشکل کوہ پیمائی کے بعد کراں تا بہ کراں پھیلا سر سبز میدان سامنے تھا ۔ایک کچی ڈھوک پر رُک کر پانی پیااور باقی کا سفر چاند کی روشنی میں طے ہوا۔ خاموش ‘پُر اسرار رات اورچاند کی سحر انگیز چاندنی میں تاحدنظرسرسبزمیدان کا پیدل سفر۔ جیساکہ عرض کیا‘منظر کشی مسافرکے بس کی بات نہیں ‘ بس قاسمی صاحب کا ایک شعر یاد آیا ہے:
حسن اُس کا بیاں سے باہر
اور لکنت میری زباں میں بھی

تاہم اول شب کا یہ خوبصورت سفر بھی سراب ثابت ہوا۔ جب تادیر سڑک نظر نہ آئی اور ہم تھکاوٹ سے چور ہو گئے تو بیزاری غالب آ گئی ۔ المختصر! بڑی جان جوکھوں کی مسافت کے بعد گاڑی تک پہنچ ہوئی اور رات گئے تھکے ہارے مسافرطویل چکرکاٹ کر گھر پہنچے ۔

ایسا حادثہ ہمارے ساتھ پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ 70برس قبل بھی ہم رستہ بھول گئے تھے‘ جب ہم نے قائداعظم کے بتائے رہنمااصول پس پشت ڈال دیے۔ تب سے آج تک ہم جنگلوں اور ویرانوں میں بھٹک رہے ہیں ۔منزل تک پہنچنے کے لیے بابائے قوم نے ہمیں سبزجھنڈیوں کارستہ دکھادیاتھا‘مگرہم نے ان کے بعداس حساس سفرکوغیرسنجیدہ لیا اورٹھٹے مذاق میں قیام پاکستان کا مقصد اندھی ‘گونگی اور بہری راہوں میں کھو گیا ۔ ہم جمہوری فلاحی مملکت کی بجائے کوئی مافوق الفطرت قسم کی ریاست بنانے میں جت گئے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہاں بھی ہماری منزل کھوٹی کرنے میں جنوں اور بھوتوں کا بڑا دخل ہے‘ جو زبردستی ہمارے ساتھ چمٹ گئے اور آج تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔ان میں سے کئی تو وہ ہیں‘ جوسرے سے ہی اس منزل کے مخالف تھے اورہردفعہ غلط سمت میں ہماری رہنمائی کرتے رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنا گھر وہ نہیں لگتا‘ جسے آباد کرنے کے لیے ہمارے بڑوں نے ہندوستان کابٹوارہ کیاتھا۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم معجزوں کے منتظر قوم ہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ ہم کوئی زنجیر عدل ٹائپ چیز کھینچیں اور گھنٹیاں بجنے پر کوئی جن حاضر ہو کرپوچھے کہ کیا حکم ہے میرے آقا؟ جواب میں ہم لجاجت سے کہیں کہ ہمیں گھر جانا ہے ۔کبھی فطری اورکبھی غیر فطری طریقے سے ہم نے کئی دفعہ نئے سرے سے سفر کا آغاز کیا۔ہر دفعہ ایڈونچر سے لطف اٹھاتے ہم نے جانا کہ اب منزل قریب ہے مگر گل پوش راہیں جلد ہی خار زاروں میں تبدیل ہو گئیں ۔ کئی امجداسلام امجددہائی دیتے رہے ۔۔۔اتنا بے سمت نہ چل‘ لوٹ کے گھر جانا ہے۔۔۔ مگر رہبروں کے بھیس میں رہزن ہمیں سبز جھنڈیوں کے رستے سے دورکرتے رہے۔ہم نے ہر طرح کی خواری برداشت کی‘ مگر بابائے قوم کے رہنما اصولوں کو درخوراعتنا نہ سمجھا۔

یہ بھی پڑھئے:   مودے کا پنڈ، بے بے کی گواچی گاں اور عصر حاضر کا عوامی چوک

جناب وزیراعظم!پاؤں کے ساتھ دلوں کوبھی تھکادینے والی لمبی مسافت کے بعدمسافران خستہ حال نے فطری طریقے سے آپ کو اپناسالارقافلہ منتخب کیاہے۔مسافروں سے آپ کے پہلے خطاب اورعزائم سے امیدبندھ چلی ہے کہ آپ بابائے قوم کے سبزجھنڈیوںوالے رستے سے نہیں ہٹیں گے ‘ جوہماری منزل تک جاتاہے۔ہمیں امن وآشتی کی ان جھنڈیوں کے سہارے ہی اپنے گھرجاناہے‘ جہاں ایک وسیع النظراورروشن خیال سماج ہمارامنتظرہے۔ وہاں سماجی انصاف کے اصولوں پرمبنی ایک جدیدریاست ہماری راہ تکتی ہے ‘ جس میں علم کی شمعیں روشن ہیں اورتمام شہری بلاتخصیص رنگ ونسل اورعقیدہ ونظریہ برابرہیں۔وہاں جہالت کی کوئی گنجائش ہے ‘ نہ بدعنوانی کے لیے کوئی جگہ۔انتہاپسندی کاکوئی مقام ہے ‘ نہ لال بجھکڑوں کے لیے اندھی عقیدت اور جذباتی استحصال کے ارزاں مواقع۔

حضوروالا! مسافرانِ آبلہ پازنجیرعدل سے گھٹیاں بجاکراپنی واحدخواہش کا اظہارکرتے ہیں کہ ہم نے آپ کی قیادت میں اسی رستے سے اپنے گھرجاناہے۔ وہی ہماری منزل ‘ وہی جھوک رانجھن‘ وہی ڈیرہ ہیرکاہے۔ہم بیابانوں میں بھٹکتے تھک چکے ہیں‘اب ہمیں کسی اوررستے سے انجانی منزل کی طرف نہیں جانا۔ہم جان چکے ہیں کہ رستہ کتناہی خوشنماکیوں نہ ہو‘ منزل کاتعین کیے بغیرسراب ہوتاہے۔۔۔کیاآپ بحیثیت قافلہ سالار اسی رستے پرقائم رہیں گے یایہ نیا سفربھی مسافرانِ خستہ جاں کے لیے سراب ہی ثابت ہوگا ؟۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
426
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: