Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

فلم “وراثت” مروجہ فیشن سے مختلف دیہاتی سماج کی حقیقی کہانی

Print Friendly, PDF & Email

جدید ہندی سینما (70 کی دہائی کے بعد) میں دیہاتی سماج اور اس کے مسائل و مشکلات کی عکاسی خال خال ہی نظر آتی ہے ـ 80 کی دہائی کے متوازی سینما کے استثنا کو چھوڑ کر مین اسٹریم نے کم ہی دیہات کو اپنا موضوع بنایا ہے ـ دیہاتی سماج نے اگر کبھی سینما میں جگہ بھی پائی تو اسے اس طرح پیش کیا گیا جیسے وہاں سب خوشل منگل ہے ـ

1997 کی فلم “وراثت” مروجہ فیشن سے مختلف دیہاتی سماج کی حقیقی کہانی ہے ـ اس فلم میں مغربی یا شہری عینک سے گاؤں کا “اورینٹلسٹ” تجزیہ کرنے کی بجائے دیہاتی سماج کا حصہ بن کر اس کے تضادات اور مسائل و مشکلات کا گہرائی سے جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے ـ

فلم ایک لندن پلٹ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان شکتی ٹھاکر (انیل کپور) کے گرد گھومتی ہے ـ شکتی ٹھاکر اپنی فیشن ایبل گرل فرینڈ انیتا (پوجا بٹرا) کے ساتھ گاؤں پہنچتا ہے ـ وہ چاہتا ہے کہ اپنے والد اور گاؤں کے مکھیا راجا ٹھاکر (امریش پوری) سے مختصر ملاقات کرکے اس سے انیتا کے ساتھ شادی اور شہر میں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کھولنے کی اجازت حاصل کرکے چلا جائے ـ یہاں سے شہری و دیہاتی سماج کے درمیان تضادات کی ابتدا ہوتی ہے ـ جدیدیت سے دور اور پسماندگی کی دلدل میں دھنسے دیہاتی اور راجا ٹھاکر شہری فیشن کے انداز و اطوار اور لباس کو لے کر پریشان ہوجاتے ہیں ـ وہ اسے اپنی روایات پر حملہ تصور کرتے ہیں ـ

شکتی ٹھاکر رفتہ رفتہ دیہاتی سماج کی پسماندگی، جہالت، بیچارگی اور غربت کے ساتھ منسلک ہوکر اس کی تہہ میں اترنے لگتا ہے ـ انیتا اور گہنا (تبو) بالترتیب شہری و دیہاتی نمائندہ بن کر اسے دوراہے کھڑا کردیتے ہیں ـ راجا ٹھاکر اور اس کے چھوٹے بھائی برجو ٹھاکر (گووند نام دیو) کے درمیان خاندانی دشمنی کے باعث گاؤں منقسم ہے ـ اس تقسیم اور دشمنی کی آگ کو برجو ٹھاکر کا تند خو اور انا پرست بیٹا بلّی ٹھاکر (ملند گناجی) برقرار رکھنے کا خواہش مند ہے ـ دو بھائیوں کی خاندانی دشمنی اور اعلی طبقے کی انا پرستی کی قیمت گاؤں والے چکاتے ہیں ـ شکتی ٹھاکر نہ چاہتے ہوئے بھی اس ماحول کا اٹوٹ حصہ بن جاتا ہے ـ

یہ بھی پڑھئے:   محبت اور پاکستان (حاشیے) | تنویر احمد

شکتی ٹھاکر گاؤں کو جدت اور روشنی کا ہم سفر بنانا چاہتا ہے جبکہ بلّی ٹھاکر اس خواہش کو دخل در معقولات سمجھ کر آمادہِ فساد ہوجاتا ہے ـ

“وراثت” شہرہِ آفاق تامل فنکار کمل ہاسن کی پروڈکشن میں بنی تامل فلم “تھیور مگن” کا ہندی ری میک ہے ـ اس کی کہانی بھی کمل ہاسن کی تخلیق ہے ـ اسکرین پلے کو ہر ممکن حد تک دلچسپ بنایا گیا ہے ـ تین حصوں پر مشتمل اسکرین پلے ایک خوبصورت وحدت ہے ـ شکتی ٹھاکر اور انیتا کی شہری محبت، شکتی ٹھاکر اور گہنا کا دیہاتی تعلق اور دیہاتی سماج پر منڈلاتے جہالت کے کالے بادل ـ تین کہانیوں کے باوجود وحدت تاثر فلم کے اختتام تک برقرار رہتا ہے ـ

پریادرشن نے اس فلم میں بھی اپنی باریک بین ہدایت کاری کا مکمل ثبوت دیا ہے ـ انہوں نے کاسٹیوم کے انتخاب، بیل گاڑی، موٹر اور ریل گاڑی کے استعاراتی استعمال ، گاؤں کی چھوٹی چھوٹی رسموں و روایتوں کو دکھانے میں قابلِ تعریف فن کا مظاہرہ کیا ہے ـ

فلم کی سینما ٹو گرافی اور ایڈیٹنگ کا معیار اچھا ہے ـ بعض مقامات پر بلاوجہ کلوز اپ شاٹس لئے گئے ہیں اگر وہ بھی نہ ہوتے تو زیادہ بہتر ہوتا ـ موسیقی بلا مبالغہ اے ون ہے ـ خاص طور پر تین گیت گلے لگانے کے قابل ہیں ـ

یہ بھی پڑھئے:   عریاں مناظر اور ننگی گالیاں، کیا یہی ہے نیا بھارتی فارمولہ؟ دوسرا حصہ

“ڈھول بجنے لگا، گاؤں سجنے لگا
کوئی لوٹ کے آیا ہے”

“پایلیا چُن مُن، چُن مُن
جھانجریں رُن جُھن، رُن جُھن”

“اک تھا گاؤں جہاں کا
اک ایسا تھا راجا”

اداکاری کا شعبہ کافی حد تک مضبوط ہے ـ امریش پوری، انیل کپور، تبو اور گووند نام دیو نے کرداروں کی بہت اچھی نمائندگی کی ہے ـ ملند اور پوجا نسبتاً کمزور ہیں ـ خاص طور پر ملند کی اداکاری پر تصنع نمایاں ہے ـ مضبوط ترین اداکاری تبو اور امریش پوری کی رہی ـ

مجموعی طور پر “وراثت” فنی لحاظ سے قابلِ ستائش کاوش ہے البتہ نظری لحاظ سے اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے ـ نظریاتی پہلوؤں پر اگر زیادہ توجہ دی جاتی تو شاید مروجہ انٹرٹینمنٹ کا معیار کمزور ہوجاتا مگر ہندوستان دیہات کی ایک بہتر شکل سامنے آجاتی ـ

Views All Time
Views All Time
333
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: