Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

تربیت اولاد، مگر کیسے؟

Print Friendly, PDF & Email

اگر بچے سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس سلسلے میں اسلام نے بچے کی اصلاح نہایت ہی مشفقانہ انداز میں کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ علاج کا درست طریقہ یہ ہیکہ ہم اسے نرمی اور پیار سے سمجھائیں اور اس کی غلطی پرتنبیہ کریں۔ مضبوط دلائل سے اسے یہ سمجھائیں کہ اس سے جو غلطی سرزد ہوئی ہے اسے کوئی بھی اچھا انسان پسند نہیں کرے گا۔ اس طرح بچہ سمجھ جائے تو ٹھیک ورنہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسے نرم انداز میں سزا دی جائے۔

نرمی سے سمجھانے کی ایک زبردست مثال حدیث میں بیان ہوئی ہیکہ ”سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک بدو نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو لوگ اسے روکنے کے لئے دوڑے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو، اس لئے کہ تمہیں آسانی پیدا کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے نہ کہ مشکلات پیدا کرنے کے لئے۔ مگر ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے کہ اگر بچے سے کوئی غلطی ہو جائے تو بجائے اسے اچھے انداز میں سمجھانے کے اس پر تھپڑوں اور لعنتوں کی بارش کر دی جاتی ہے اور اگر یہی سلسلہ تھوڑے لمبے عرصے تک چلتا رہے تو اس سے بچہ ضدی ہو جاتا ہے اور بڑوں کا کہنا نہیں مانتا اگر ان کا کہا ہوا کام کر بھی لے  تو دلی طور پہ وہ کام نہیں کرتا اور آہستہ آہستہ بغاوت پر اترتا چلا جاتا ہے.

یہ بھی پڑھئے:   دو لاکھ والی کتاب

دوسری طرف ہم کیا کرتے ہیں کہ بچے سے ایک بار غلطی ہو جائے تو اسے ہمیشہ ہی اس کی غلطیوں کا طعنہ دیا جاتا ہے اور اسے بار بار اس کی ناکامیوں کا احساس دلاتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ بزدل اور ضدی ہوجاتا ہے۔ بچے میں چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے جو کہ نہایت خطرناک ہوسکتا ہے۔لیکن اگر ہم بچے کو اس کی غلطیوں اور ناکامیوں پر اسے طعنے دینے اور اس کا مذاق اڑانے کی بجائے اسے موجودہ حالات کے مطابق مشہور اور کامیاب شخصیات کی محنت، ان کی کامیابی کے لئے کی گئی کوششیں اور ناکام لوگوں کی مثالیں دیں گے تو وہ بڑی آسانی سے آپ کی بات سمجھے گا آپ کو اپنا دوست مانے گا اور اپنی غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش بھی کرے گا۔

 ہمارے معاشرے میں دوسرا اہم مسئلہ بچوں کی نفسیاتی تربیت کا فقدان ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہئے کہ ان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت پہ بھی خاص توجہ دیں مثال کے طور پہ بچہ جب عقل مند اور ہوشیار ہو جائے تو اسی وقت سے اسے جرآت، بے باکی، صداقت و شجاعت اور بہادری کی تربیت دی جائے، اسے کامل اور مکمل ہونے کے لئے شعور دیا جائے۔ وہ دوسروں کے لئے بھلائی اور خیر کے جذبات رکھے۔ وہ غصہ پر قابو رکھے، مطلب یہ کہ اسے نفسیاتی اور اخلاقی فضائل اور کمالات سے آراستہ ہونے کی تربیت دی جائے۔ مگر ہمارے ہاں بچے کو کسی بھی مسئلہ کے مثبت پہلو اور اس کا حل بتانے کی بجائے اسے ڈرایا جاتا ہے مثلا بچہ جب پہلی مرتبہ سانپ دیکھتا ہے ڈرنا توانسان کی فطرت ہے وہ یقیناً ڈر جائے گا مگر اس کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ یہ کیا چیز ہے پھر وہ اپنے بڑوں سے یا والدین سے پوچھے گا کہ یہ کیا چیز ہے تو والدین اسے بتاتے ہیں کہ یہ بہت خطرناک چیز ہے یہ انسان کو کاٹ لیتو انسان اس سے مر بھی جاتا ہے۔ ایسی باتیں بتانے سے بچہ خوفزدہ ہو جاتا ہے اور مستقبل میں خطروں سے ڈرنے لگتا ہے۔ اس طرح بچپن سے ہی اس میں بزدلی پیدا ہو جاتی ہے۔ لہذا بچوں کی تربیت کا خاص اہتمام کیا جائے۔ یہ ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔

Views All Time
Views All Time
400
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: