Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

اپنے ہی بازوؤں میں توانائی چاہئیے

Print Friendly, PDF & Email

میری جب بھی کسی ایسی نوجوان خاتون سے ملاقات ہوئی جو اپنی تعلیم کے آخری مراحل میں ہو یا تعلیم مکمل کئے ہوئے تھوڑا عرصہ ہوا ہو، میں اس سے پہلا سوال یہی کرتی ہوں کہ آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟ کہاں جاب کرنی ہے؟ کہاں اپلائی کیا؟کیا کام کرنے کا سوچا؟یقین کیجیئے 80% جواب یہی ملتا ہے کہ ہمیں اجازت نہیں ہے، ہمارے گھروں میں لڑکیاں جاب نہیں کرتیں، معیوب سمجھا جاتا ہے۔ان میں سے بیشتر لڑکیوں کے رشتے دوران تعلیم طے ہوچکے ہوتے ہیں اور تعلیم مکمل ہوتے ہی ان کی شادی کر دی جاتی ہے۔یہ درست ہے کہ اس معاشرے کے رسم و رواج کے مطابق لڑکیوں کی شادی والدین کے دیگر فرائض جن میں بچوں کی تمام ضروریات، تعلیم و تربیت شامل ہیں مگر میں آج تک یہ نہ سمجھ پائی کہ لڑکیاں پڑھ لکھ کر گھر بیٹھنے پر کیوں مجبور کر دی جاتی ہیں۔

عمومی خیال یہی ہے کہ لڑکیوں کو گھر داری ہی کرنی چاہئیے حالانکہ گھر داری تو لڑکی اعلیٰ تعلیم حاصل کئے بغیر بھی کر ہی لیتی ہے۔ستم تو یہ ہے کہ ایک لڑکی میڈیکل کی پانچ سالہ تعلیم حاصل کرتی ہے، ڈاکٹر بنتی ہے اور والدین اسے اسپتال میں نوکری کرنے کی اجازت دینے کے بجائے اس کی شادی کر دیتے ہیں۔میرا مشاہدہ ہے کہ ان میں سے اکثر لڑکیاں چند سال بعد بالکل ایک گھریلو خاتون کے رو پ میں ڈھل جاتی ہیں جب کہ ایک ورکنگ وومن اپنے کام، گھر اور فیملی میں توازن برقرار رکھتے ہوتے سب کچھ بہت بہتر طریقے سے مینیج کر پاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں خواتین کی زندگیوں اور تقدیر کے فیصلے مردوں نے اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں۔وہی طے کرتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا کرنا چاہیئے۔اکثر مرد یہ شکوہ کرتے نظر آتے کہ ان کی گھروں کی خواتین ان کے معاملات میں دل چسپی نہیں لیتیں، مثلاً اگر کوئی ادبی ذوق رکھتا ہے تو خاتون خانہ ادبی ذوق نہیں رکھتیں۔میں ایسے لوگوں سے سوال کرنا چاہتی ہوں کہ کیا وہ خود خاتون خانہ کی پسند و نا پسند سے واقف ہیں؟ کیا انہوں نے خود کبھی یہ جاننے یا اس پر بات کرنے کی ضرورت محسوس کی؟میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ ٹیلی وژن کے مارننگ شوزاور ٹی وی سیریلز دیکھنے والی بیشتر خواتین وہی ہوں گی جو عدم توجہی کا شکار ہوں گی، تعلیم یافتہ اور ہنر مند بھی ہوں گی مگر انہیں کام کرنے اور ہنر استعمال کرنے کے لئے گھر کے مردوں کی اجازت درکار ہو گی، لہذا وہ اس بے کار مشغلے پر اپنی توجہ مبذول کر کے خود کو مصروف رکھتی ہیں۔اگر انہیں کام کرنے ،اپنی صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کے استعمال کا موقع فراہم کیا جائے تو نہ صرف وہ معاشرے کا ایک فعال فرد بن سکتی ہیں بلکہ معاشی طور پر بھی گھر میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔ایک دل چسپ بات یاد آئی۔میرے دفتر میں ایک کولیگ ہر روز بچوں کو صبح اسکول چھوڑنے اور وقت کی کمی کی شکایت کیا کرتے تھے،کئی بار شکایتیں سننے کے بعد میں نے ان سے دریافت کیا کہ آخر آپ اپنی بیگم کو ڈرائیونگ کیوں نہیں سکھا دیتے؟اس طرح آپ کو اس جھنجھٹ سے بھی نجات ملے گی اور آپ کی بیگم بھی مصروف ہو جائیں گی۔ یہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی اور چند ماہ بعد ہی وہ اس بات پر خوش اور مطمئن تھے کہ ان کی بیگم نے نہ صرف بچوں کو اسکول سے پک اینڈ ڈراپ کی ذمہ داری بلکہ دیگر ذمہ داریاں مثلاًیوٹیلیٹی بلز، بچوں کے اسکول میں پیرنٹس ٹیچر میٹنگز اٹینڈ کرنا اور گھر کا سامان اور سودا سلف لانے کی ذمہ داری بھی سنبھال لی۔ضرورت اعتماد کی ہے ، اعتماد کیجیئے اور اعتماد دیجیئے کیوں کہ عورت اس معاشرے کا ایک فعال فرد ہے۔باہمی دل چسپیوں کے معاملات بھی دو طرفہ ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   قربانی پر اپنی انا کو قربان کر دیں

دنیا میں وہی قومیں معاشی طور پر خوش حال اور مستحکم ہیں جہاں خواتین کو کام کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔عورت کام کر کے نہ صرف گھر کی بلکہ ملک کی خوش حالی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔خواتین ہر شعبے میں کام کر رہی ہیں ۔کوئی بھی شعبہ دیکھئے، تعلیم، طب، انجینئیرنگ،مالی ادارے،فیشن انڈسٹری، فن، بیوٹی انڈسٹری،کارخانے حتیٰ کہ کھیتوں میں بھی مرد کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہے، عورت کی شمولیت کے بغیر ہر شعبہ نا مکمل ہے۔ایسی خواتین بھی مثال ہیں جو اپنے گھروں کا پورا پورا بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ہمارا ملک تو یوں بھی آئے دن حادثات کی زد میں رہتا ہے اور ایسی کئی خواتین ہیں جو باپ ،بھائی یا شوہر کی معذوری یا انتقال کی صورت میں ہر قسم کی تکالیف کا نہ صرف مقابلہ کر رہی ہیں بلکہ اپنے گھر کو مالی طور پر سہارا بھی دے رہی ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ خواتین کو باہر نکلنے میں کئی تکالیف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔معاشرتی دباؤ، آمد ورفت کی عدم سہولیات،ٹریفک کے مسائل،ہراسمنٹ اور کام کی جگہ پر صنفی امتیاز کا سامنابھی کرنا پڑتا ہے۔ کئی کارخانوں میں کام کرنے والی عورتیں کم تنخواہ اور کم معاوضے پر کام کرنے پر مجبور کر دی جاتی ہیں جب کہ کام وہ مرد کے برابر ہی کر رہی ہوتی ہیں۔میرا مشاہدہ ہے کہ صنفی امتیاز کا سامنا تقریباً ہر کام کرنے والی عورت کو ہی کرنا پڑتا ہے چاہے وہ کسی بھی شعبے میں ہو۔

یہ بھی پڑھئے:   ایک کالم، کالم نگاروں کی خدمت میں - ظہوردھریجہ

دراصل خواتین کو یہ بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ معاشی خودمختاری سب سے بڑی اور بنیادی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے ذہنوں میں معاشی استحکام کی اہمیت کا ادراک کرنا ہو گا۔ ،جس روز عورت یہ بات سمجھ لے گی کہ اسے کسی کا محتاج اور دست نگر نہیں ہونا چاہئیے اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہئیے اس روز وہ اپنے قدم اس زمین پر جما پائے گی۔ اس کے لئے اسے پر اعتماد ہو نا ہو گا، خود پر بھروسہ کرنا ہو گا۔ہر قسم کی مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا، اپنی قوت بازو پر بھروسہ کرنا ہوگا۔جس روز اسے یہ احساس ہو گیاکہ وہ اس معاشرے کا اہم ستون اور فعال فرد ہے اس روز وہ اپنی تقدیر بدلنے پر قادر ہو جائے گی۔عدیم ہاشمی نے کیا خوب کہا ہے
لڑتے ہیں کب کسی کے لئے دوسروں کے ہاتھ
اپنے ہی بازوؤں میں توانائی چاہئیے

Views All Time
Views All Time
565
Views Today
Views Today
1

امِ رباب

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: