Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

شجر شجرہیں تو ہیں بستیاں آباد ہر سُو

Print Friendly, PDF & Email

خیال نوIDEAS9 لاہور کے نوجوانوں کی سماجی تنظیم ہے، اور گزشتہ کافی عرصے سے لاہور میں بہت خوبصور ت اور innovative سوچ کے ساتھ کام کررہی ہے، یہ نوجوان جہاں اس سماج میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو ختم کرنے اور لوگوں کے آپسی بھائی چارہ کو فروغ دینے کے لئے بہت سی سماجی سرگرمیاں کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ بہتر ماحول اور فضا کے لئے ایک بہت خوبصورت سرگرمی سر انجام دے رہے ہیں، اور ہے Adopt a Tree for Your Loves One یعنی اپنے پیاروں کے نام پر ایک درخت کو پروان چڑھائیں۔

اور اس برس شجرکاری مہم کے دوران خیال نو IDEAS9 کے نوجوان پاکستان کے قومی ہیروز،قومی شہید کے نام پر درخت لگارہے ہیں ۔ اور ان کی طرف سے زندہ دلانِ لاہور کے ہر شہری کو دعوت ہے کہ جسے آپ سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں انہیں یاد رکھنے کا بہترین طریقہ ہے کہ کے ان کے نام پر ایک درخت لگائیں۔

درخت لگانا انسانی صحت کی بقا کے لئے نہایت ضروری ہے اور یہ ماحولیاتی آلودگی کو ختم کر دیتا ہے لیکن بدقسمتی ہمارا مسلم معاشرہ اسکو بھول بیٹھا ہے کہ درخت لگانا ہمارا دین ہے ہمارے نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت ہے درخت لگانے کی اہمیت بیان کی گئی حدیث سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے نبی صلى الله عليه وسلم نے کس قدر اپنی امت کو درخت لگانے کے بارے میں متوجہ کیا ہے

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

اگر قیامت قائم ہوجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا سا پودا ہو تو اگر وہ اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ حساب کے لئے کھڑا ہونے سے پہلے اسے لگا لے گا تو اسے ضرور لگانا چاہئے۔‘‘

درخت لگانا دنیاوی زندگی کے فائدے کے ساتھ ساتھ ہماری اخروی زندگی کا بھی بہت بڑا فائدہ ہے –

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان نے کوئی درخت لگایا اور اس کا پھل آدمیوں اور جانوروں نے کھایا تو اس لگانے والے کے لیے صدقہ کا ثواب ہے (گویا کہ یہ صدقہ جاریہ ہے)۔“

درخت لگانا ایک طرف صدقہ جاریہ ہے جبکہ دوسری طرف انسانی زندگی کی بقاء انہی درختوں کی مرحون منت ہے۔ہم نے اپنے جنگلات کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اُس کی سزا سیلابوں اور دوسری آفات کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

درختوں کی قدر اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب موسم گرما کی تپتی دھوپ میں کوئی تھکا ہارا مسافر کچھ وقت کیلئے درخت کے سایہ سے مستفید ہوتا ہے تو اس وقت اسے جہاں چند لمحے سکھ ملتا ہے وہیں اس کے لبوں سے درخت لگانے والوں کیلئے دعا بھی نکلتی ہے جو بہت بڑی سعادت ہے ،میرا خیال ہےکہ وہ لوگ جو درختوں کی افادیت کو نہیں سمجھتے وہ ان درختوں کو بے معنی سمجھ کر کاٹ دیتے ہیں انہیں ان کی حقیقت اور فائدے کا تب پتہ چلتا ہے جب ماحول پر گندا ہونے کے ساتھ ساتھ بارشوں میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

اتنی اہمیت کے حاصل ہونے کے باوجود درختوں کی پاکستان (جو کہ ایک زرعی ملک ہے) میں بہت کم تعداد ہے۔ جو کہ دن بدن مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔ 1990ء کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 3.3 فیصد جنگلات موجود تھے۔ لیکن 2015ء کے ولڈ بینک کے ترقیاتی اعدادوشماردکے مطابق پاکستان میں جنگلات 1.9 فیصد رہ گیا ہے۔ جبکہ ہمارے ہمساٸے ملک بھارت میں 23.77 فیصد جنگلات موجود ہیں۔ 2015 کے ولڈ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 362520 مربع کلومیٹر زرعی زمین موجود ہے اور جنگلات تقریباً 14720 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہیں۔ درختوں اور جنگلات کی کمی کی وجہ سے پاکستان میں گرمی کا عرصہ اور شدت دونوں بڑھ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے فصلوں کی کاشت کا وقت متاثر ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانوں اور جانوروں کو بھی دشواری اور گرمی کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔
خیال نوIDEAS9 کی اس مہم کا مقصد پاکستان میں پودوں کی تعداد کو بڑھانا اور اور ماحول کی تبدیلیوں کو روکنا اور پاکستان کو سر سبزوشاداب بنانا ہے۔ ،کیونکہ اگر ہر پاکستانی اپنی انفرادی کوشش کے ذریعے درختوں کی تعداد کو بڑھاٸے گا تب جا کر پاکستان سرسبز پاکستان کہلائے گا۔ اسی سلسلے میں ہر لاہوری سے گزارش ہے کہ خیال نوIDEAS9کی اس مہم کا ساتھ دیں۔ کیونکہ “درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے”
آپ کو اس کے لئے زیادہ کچھ نہیں کرنا بس اس نمبر پر کال کرنی ہے 9443172-0321

#AdoptATree

Views All Time
Views All Time
879
Views Today
Views Today
5
یہ بھی پڑھئے:   آئیے ایک ایک پودا اپنائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: