Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کھجوروں کا شہر بم (سفرنامہ ایران – دوسری قسط)

Print Friendly, PDF & Email

پہلی قسط کے لیے یہاں کلک کیجیے

بم شہر پہنچا تو ہر طرف کھجوروں کے باغ نظر آئے شہر کے گرین بیلٹ اور چوراہوں کو بھی کھجوروں کے درخت لگا کر سجایا گیا ہے۔ شام کا وقت تھا ہلکی روشنی میں درمیان اور آس پاس قطار اندر قطار کھجوروں کے درخت نہایت دلفریب منظر پیش کر رہے تھے۔ میں نے ٹیکسی ڈرائیور کو کہا کہ مجھے ایسے ہوٹل پہنچایا جائے جہاں انگریزی سمجھنے والے ہوں۔ چنانچہ بم شہر کے اکلوتے انگریزی دان اکبر انگلیسی کے گیسٹ ہاؤس میں مجھے پہنچا دیا گیا۔ پاکستانی بارہ سو پچاس روپے میں ایک رات کا کرایہ طے ہوا۔ کمرہ ٹھنڈا، کشادہ اور صاف ستھرا تھا۔ مجھے بھوک ستا رہی تھی اور شہر کے ریستوران جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے بند تھے۔ گھومتے ہوئے ایک سینڈوچ شاپ کھلی ملی اور میں نے اسے ہی غنیمت جانا۔ اندر موجود عملہ انگریزی کے چند الفاظ جانتا تھا۔ میں نے تعارف کرایا تو سب نے سینہ پر ہاتھ رکھ کر خوش آمدید کہا۔ سینڈوچ ہمارے ہاں موجود برگر سے بھی دگنے سائز کے تھے  اور پھیکے بھی۔ لہٰذا دو عدد کوک کے سہارے آدھے سینڈوچ کو مشکل سے نگلا۔ بل کا پوچھا تو ایرانی دکان دار نے منع کیا کہ رہنے دیں آپ مہمان ہیں میرے اصرار پر ایک سو پچاس پاکستانی روپے لیے۔

تھکاوٹ کی وجہ سے میں جلدی ہی سو گیا۔ صبح جاگا تو اکبر انگلیسی باہر شیڈ کے نیچے موجود تھا۔ اس کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے چینی کی ڈلی منہ میں رکھے ایرانی قہوہ کا لطف لیا۔ اکبر انگلیسی آغا کہنے پر چڑتا تھا انکل کہنے پرخوش ہوا، وہ انگلینڈ میں پلا بڑھا تھا۔ اس کے مطابق تم پاکستانی اور انڈین انگریزی زبان کا ریپ کرتے ہو۔ ناشتے کےلیے مجھے وہ قریبی ریستوران لے گیا جسے ایک خاتون چلاتی ہے۔ خاتون نے مسکرا کر زندہ دلی سے خوش آمدید کہا اور ناشتہ تیار کرنے لگی۔ یہ سادہ سا ریستوران تھا جس میں چار بندوں سے زیادہ بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی۔ آرائش بہترین طریقہ سے کی گئی تھی۔ سیڑھیوں پر گملوں میں بیلیں لگا کر گرل پر چڑھا دی گئی تھیں اور تکیوں اور چادروں سے اندر کمرے کو سجایا گیا تھا۔ ناشتہ میں آملیٹ، دال سے بنی ڈش اور نان تھا۔ اور نان کو دال سے بنے سالن میں ڈال کر آملیٹ مکس کر کے چمچ سے کھانا تھا۔ ذائقہ تھوڑا کھٹا تھا لیکن مزیدار ڈش تھی۔ خاتون ہر دوسری بات پر جانم کہہ کر مخاطب ہو رہی تھی اوراکبر انگلیسی اسے اپنی بیوی کے لطیفے سناتا رہا۔ اس کھانے کو ٹوٹل بل دو سو روپے بنا جبکہ خاتون نے بھی مہمان ہونے کے ناطے بل نہ لینے کا کہا۔

بم شہر میں ایک سادہ سا ریستوران جسے ایک خوش اخلاق خاتون چلاتی ہیں۔

واپسی پر آتے جاتے راہگیر اکبر اور دوسرے راہگیروں سے احوال پرسی کرتے نظر آئے۔ خواتین بھی یہاں دکانیں چلا رہی ہیں اور ہر راہگیر سے کسی بھی مرد کی طرح حال احوال ضرور پوچھتی ہیں۔ اکثر خواتین پردے کا لحاظ رکھتی ہیں کچھ ماتھے کے اوپر بالوں کو رنگنے کے بعد اسے بے پردہ رہنے دیتی ہیں جبکہ پینٹ شرٹ میں بغیر عبایا یا بڑی چادر کے صرف سر کے آخری کونا پر اسکارف چڑھائے بھی خال خال نظر آتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   فیصلہ میری مرضی کا | سبطین نقوی امروہوی

شہر میں دو منزلہ عمارتیں بھی کم ہیں بڑی عمارت تو ایک بھی نہیں۔ دو سو سال قبل بم شہر ارگ بم میں آباد تھا۔ اس شہر کے درمیان میں سپر مارکیٹ کے ساتھ ایک چھوٹی سی شفاف پانی کی نہر بہتی ہے اور اسی کے ذریعے بم شہر کی زراعت ممکن ھے۔ میلوں تک پھیلے کھجوروں کے باغ ہیں۔ اور جگہ جگہ کھجور کو پالش کرنے، پیکنگ اور گٹھلی نکال کر بادام ڈالنے کے یونٹ لگے ہیں۔ بم کی کھجور ایران سمیت پوری دنیا کو برآمد کی جاتی ہے۔ ذائقہ واقعی زبردست تھا مگر ہمارے ڈیرہ کی ڈھکی کھجور جیسا مزہ محسوس نہیں ہوا۔

صفائی کا بہترین نظام ہے ہر دکان کا سامان سلیقے سے آراستہ کیا گیا ہے۔ دکان دار ہر گاہک کا پورا حال احوال لیتا ہے۔ آتے ہوئے خوش آمدید اور جاتے ہوئے اللہ نگہبان کی دعا دی جاتی ہے۔ بینکار کا یہاں معاشرتی طور بڑا مقام ہے کسی کو بتاؤں کہ میں بینکر ہوں تو حسرت سے دیکھتے ہیں ایک دو نے تو اظہار بھی کیا کہ بینکار کی تنخواہ بہت ہوتی ہے اس لیے وہ دنیا گھوم سکتا ھے اب انہیں کیا پتہ کہ پاکستانی بینکر تھوڑے معاوضوں پر خون جلا رہے ہیں۔

ارگ بم کی سیر سے واپس لوٹا تو اگلے شہر ماہان کی تیاری پکڑی۔ اکبر انگلیسی مجھے دروازے تک چھوڑنے آیا اور بڑی گرمجوشی سے ملا اس نے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان ضرور آئے گا۔ میں نے فقرہ کسا کہ میرے انگریزی بولنے سے انگریزی کا کتنا ریپ ہوا۔ تو قہقہہ لگا کر بولا نہیں نہیں تم ایک شریف آدمی ہو۔ اور پھر بم شہر سے الوداع ہوا اور بذریعہ ٹیکسی ہامان اور کرمان کی راہ لی۔

یہ بھی پڑھئے:   یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

جاری ہے۔

Views All Time
Views All Time
528
Views Today
Views Today
2

One thought on “کھجوروں کا شہر بم (سفرنامہ ایران – دوسری قسط)

  • 17/07/2019 at 10:58 صبح
    Permalink

    Kiya baat hay lagta hay Bam city main aap kay saath saath safer ker rahay hain, bohut khoob

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: