Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

زندان کی چیخ ۔انیسویں قسط

Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekhبھٹو صاحب کا خاندان کئی صدیوں سے سندھ کے علاقے لاڑکانہ میں آباد تھا۔ مقابلتاََ جنرل ضیاء کا خاندان 1947ء کے بٹوارے میں ہجرت کر کے جالندھر سے پاکستان اٹھ کر آیا تھا۔ ضیاء الحق کا والد فوج کے مذہبی امور کے شعبہ میں پیش نماز (امام مسجد) تھا۔ مولوی اکبرعلی ضیاء الحق کے والد کا نام تھا۔ اس کے بڑے کون تھے کب مسلمان ہوئے مرضی سے اسلام لائے یا تلوار کے خوف سے یہ کسی کومعلوم نہیں۔ چونکہ وہ پاکستان کا آرمی چیف تھا اس نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اب ہر لاپتہ بات پتہ تھی۔ عدم وجود کو وجود حاصل تھا۔ لیکن ہم جنرل ضیاء دور کی سرکاری مشینری کے کل پرزوں کی بھٹو اور ان کے خاندان سے نفرت کو دستیاب مسلم تاریخ کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ خلافت راشدہؓ کی نعش پر اٹھی اموی بادشاہت کا بنو ہاشم، آلِ فاطمہؑ اور آلِ ابوطالبؑ سے کیا رویہ تھا۔ کیا یزید نے حضرت محمد ﷺ کی نواسی سیدہ زینب ؑ اور خانوادۂ رسالت مآب کے دوسرے قیدیوں کو اپنے دربار میں پیش کیے جانے پر نہیں کہا تھا کہ ’’آج بدر و احد کے ہمارے مقتول زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ بنوہاشم کا انجام کیا ہوا‘‘؟ عباسیوں کے خلیفہ منصور دوانقی نے امویوں کی لاشوں پر قالین بچھوا کر دسترخوان نہیں لگوایا؟دونوں سوالوں کا جواب اثبات میں ملتا ہے تاریخ میں۔ یوں اگر ہم اموی، عباسی اور عثمانی خلافتوں کے بکھرنے سے قائم ہونے والی مسلم ریاستوں کے حکمران خاندانوں کے افعال و اعمال پر غور کریں تو سارے کے سارے اپنے اپنے وقت کے ضیاء الحق ہی لگتے ہیں۔ ماضی تو ماضی ہے۔ ہمارے عہدکے (اس دور کے جس کے بارے لکھا جا رہا ہے) حکمرانوں ، ان کے درباریوں اورکارندوں کی ذہنیت بھی وہی ماضی کے حکمرانوں والی ہی ہے۔ حاکم وقت اللہ کا انتخاب ہے اور اس کی مخالفت اسلام دشمنی۔ بھٹو صاحب، ان کے خاندان، پیپلز پارٹی اور دوسرے جمہوریت پسندوں کے لئے ضیاء رجیم کی سوچ اتنی گھٹیا تھی کہ شاہی قلعے کے اہلکاروں کی باتیں سن کر خون کھولنے لگتا تھا۔
فلک شیر اعوان کے جانے کے کچھ دیر بعد کرنل رفیق لغاری لاؤ لشکر سمیت نازل ہو گیا۔ مگر اس دن وہ اپنے ساتھ آنے والے ایک شخص کو جس عاجزی کے ساتھ سر سر کہہ کر مخاطب کر رہا تھا وہ بڑا مزیدار تھا۔ کافی دیر تک لغاری اور اس کے ساتھ آنے والا شخص ڈاکٹر سے میرے بارے میں دریافت کرتے رہے۔ ایک دو بار مجھ سے بھی پوچھا کیسا محسوس کر رہا ہوں۔ کیا کہتا۔ بس یہی کہا کہ اچھا ہوں اللہ کا شکر ہے۔ لغاری نے طنزئیہ انداز میں کہا،’’اللہ یاد آگیا ۔ باقی اسلام قرآن بھی یاد آجائے گا۔ یہاں بڑے بڑے خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں‘‘۔ اس جاہل کو کیا جواب دیتا۔ لڑائی ہماری ضیاء الحق سے اللہ سے تو نہیں۔ لیکن جس متکبرانہ اندار میں لغاری نے کہا کہ یہاں بڑوں بڑوں کو خدا یاد آجاتا ہے میں نے دل ہی دل میں یہ ضرور کہا کہ اگر قیامت کے دن مجھے ٹکر گئے تو تم کو گریبان سے پکڑاور گھسیٹ کر اللہ تعالیٰ کے محبوت حضرت محمد ﷺ کے پاس لے جاؤں گا اور فریاد کروں گا آقا ﷺ میرا مقدمہ سنیں اور مجھ سے انصاف کریں۔ اپنی ساری آزاد خیالی کے باوجود میں آج بھی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ شاہی قلعہ میں مظالم ڈھانے والوں اور ان کے مالک جنرل ضیاء الحق کو ایک دن گریبانوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا پاک بتولؑ کے بابا جان ﷺکی عدالت میں پیش کر کے انہیں سزا دلواؤں گا۔ شاہی قلعہ کے عذاب بھگت کر جب جیل منتقل ہوا تو ایک دن نہج البلاغہ کے مطالعہ کے دوران امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کا یہ ارشاد نظروں سے گزرا۔’’جس مظلوم کا بدلہ لینے والا کوئی نہ ہو اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے خود لینے کا وعدہ کیا ہے‘‘۔ کرنل لغاری اور دوسرا افسر دوتین باتیں مجھ سے کرنے اور ڈاکٹر سے گفتگو کے بعد واپس چلے گئے۔ پھر سے تنہائی تھی۔میں آج بھی کوٹھڑی کے اندر تنہا قیدی اور باہر بندوق بردار پہرے دار۔ مجھے شاہی قلعہ میں آئے ہوئے ایک ماہ سے کچھ اوپر کا وقت ہو چکا تھا۔ باہر کی دنیا میں کیا ہو رہا تھا؟ ماں باپ بہن بھائی عزیز رشتہ دار، دوست احباب کون کس حال میں تھا اور میرے لئے کیا سوچتا تھا کچھ خبر نہیں تھی۔بس یہ یقین تھا کہ جس کو بھی یاد آتا ہو ں گاوہ دعائیں ضرور کرتا ہو گا۔ قیدیوں اور وہ بھی شاہی قلعہ کے بوچڑخانے کا قیدی آسوں اور امیدوں سے باندھ کر رکھتا ہے خود کو۔ کیا عجیب دن رات تھے۔ کبھی کبھی جی چاہتا تھا کہ کسی تاخیر کے بغیر یہاں سے جان چھوٹ جائے۔ واپس اپنے پیاروں کے درمیان چلا جاؤں۔ تنہائی ہوئی تو پھر سے اعوان کی ترغیب بھری باتیں یاد آنے لگیں۔ اس حد تلک تو اس کی بات درست تھی کہ میراپیپلز پارٹی سے کوئی باضابطہ تعلق نہیں تھا لیکن یہ بھ تو سچ تھا کہ میں اور میرے جیسے دوسرے جو لوگ فوجی حکومت کی مخالفت کر رہے تھے ان میں سے بہت ساروں کا پی پی پی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مثلاََ طلباء سیاست میں میرے آئیڈیل نذیر عباسی، نذیر عباسی سندھی قوم پرست طلباء کی تنظیم سندھ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر تھے اور جنرل ضیاء کے عہد ستم میں ایک ریاستی بوچڑ کھانے میں تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ ایس این ایس ایف کے ساتھیوں اور دیگر قوم پرستوں کا مؤقف تھا کہ نذیر عباسی پر لاہور کے شاہی قلعہ میں تشدد ہوا مگر میری معلومات کے مطابق ان پر کراچی کے کورنگی کریک کیمپ پر۔ یہ وفاقی خفیہ ایجنسیوں کا کراچی میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں بنایا گیا تحقیاتی سنٹر تھا۔ جس میں سندھ بھر سے گرفتار کر کے لائے گئے سیاسی کارکنوں کی بس کھال نہیں اتاری جاتی تھی باقی سب ہتھکنڈے آزمائے جاتے تھے۔ نذیر عباسی بھی ’کورنگی کریک کیمپ‘ کے اسیر تھے یہیں ان پر وحشیانہ تشدد ہوا۔ ان کے خلاف جتنے بھی مقدمات تھے وہ اندرون سندھ اور کراچی میں درج ہوئے تھے۔ پنجاب یا صوبہ سرحد (خیبر پختونخواہ کا پرانا نام) میں کوئی مقدمہ نہیں تھا۔ البتہ کوئٹہ میں نذیر عباسی، حمید بلوچ (حمید بلوچ کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں پھانسی دی گئی تھی۔ بی ایس او کے حبیب جالب اور چند دوسرے طلباء و سیاسی رہنماؤں کے خلاف نومبر 1978ء میں ایک مقدمہ مارشل لاء کے تحت درج ہوا تھا۔ مجھے بھی یہ سعادت نصیب ہوئی کہ میرا نام بھی اس ایف آئی آر میں شامل تھا جو اس بنیاد پر درج ہوئی تھی کہ عبدالقدوس بگٹی کی دعوت پر اس کے بھائی وجاہت بگٹی کی دعوت ولیمہ میں شرکت کرنے والوں نے وہاں جنرل ضیاء الحق اور فوج کو گالیاں دیں اور آپس میں وعدہ کیا کہ وہ مارشل لاء حکومت کے خلاف پیپلز پارٹی نے تحریک چلائی تو اس میں بھرپور شرکت کریں گے۔
نومبر 1978ء میں درج ہونے والی اس ایف آئی آر بارے میری آج بھی دو ٹوک رائے ہے کہ یہ جھوٹ کی تاریخ کا حصہ تھی۔ وجاہت بگٹی کی دعوت ولیمہ میں مجھ سمیت جتنے بھی دوست دور دراز سے کوئٹہ آئے تھے سب کے ذہنوں میں ایک ہی بات تھی کہ چلو دو دن خوشی کے ہیں خوب انجوائے کرتے ہیں۔ کراچی اندرون سندھ اور بلوچستان بھر سے تقریباََ دو سو افراد اس دعوت ولیمہ میں شریک ہوئے تھے۔ باقی چالیس پچاس یا اس سے کچھ اوپر عبدالقدوس اور وجاہت کے خاندان کے لوگ تھے۔ یہ ضرور ہے کہ مختلف علاقوں کے طالب علم ایک جگہ جمع ہوئے تو ان میں سیاسی و سماجی حوالوں سے گفتگو بھی ہوئی ہو گی۔ مگر یہ کہنا کہ وہاں کوئی سیاسی اجلاس منعقد ہوا یا مارشل لاء حکومت کے خلاف پی پی پی کی کسی تحریک کا حصہ بننے کا وعدہ (عہد وپیمان) ہوا صریحاََ غلط تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ یہ بات ضرور ہوئی تھی کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دورِ اقتدار میں قوم پرستوں اور ترقی پسندوں کے ساتھ جو سلوک کیا تھا کیا اسے بھلا کر اس کی حمایت کی جاسکتی ہے؟ بلوچ دوست کہتے تھے پی پی پی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے البتہ جو طلباء کراچی اور اندرون سندھ سے گئے تھے ہمارا مؤقف تھا کہ پیپلز پارٹی ایک سیاسی جماعت ہے اس کے دور اقتدار میں یقیناََ زیادتیاں ہوئی مگر سیاست میں ذاتی دشمنیاں نہیں ہوتیں۔ فوج کا اقتدار پر قبضہ کرنا کسی بھی طرح درست نہیں تھا۔ اب خدا جانے کس عقل کے اندھے نے دعوتِ ولیمہ میں موجود سرکاری مخبروں کی گھڑی ہوئی رپورٹ پر اعتبار کیا اور کس نے مشورہ دیا کہ ان سب کے خلاف پرچہ ٹھوک دو؟ شاہی قلعہ سے جیل منتقل ہونے کے بعد بہت سارے قیدیوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں بعض سرکاری افسر یہ کہتے رہے کہ تم لوگ تو پیپلز پارٹی کے مخالف تھے تمہیں تو فوج کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ بھٹو شاہی سے نجات دلائی۔ تب مجھے ایک بھار پھر اعوان کی ترغیب بھری باتیں یاد آئیں۔ پیپلز پارٹی سے ہٹ کر دوسری جماعتوں کے کارکنوں اور ترقی پسند حلقوں سے تعلق رکھنے والوں سے اس طرح کی باتیں منصوبے کا حصہ تھیں۔
جاری ہے۔۔۔
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
1034
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ ۔آٹھویں قسط

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: