Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

زندان کی چیخ ۔سولہویں قسط

Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekhمارشل لاء حکومت نے بڑوں بڑوں کی ’’چیں‘‘ بلا دی۔ خود پیپلز پارٹی کے وہ بہت سارے رہنما جو یہ سمجھتے تھے کہ اکتوبر1977ء کے انتخابات ہماری واپسی کا ذریعہ بنیں گے۔ انتخابات کے التوأ کے بعد ان میں سے بہت سارے فوجی حکومت کے قدموں میں ڈھیر ہو گئے۔ بعض نے سمجھوتوں کا راستہ اپنایا جیسا کہ بھٹو صاحب کے کزن ممتاز علی خان بھٹو اور سابق وفاقی وزیرِ قانون و پارلیمانی امور عبدالحفیظ پیرزادہ۔ پاکستان کی پہلی سینٹ کے وائس چیئرمین مخدوم سجاد حسین قریشی تو ایک بریگیڈئیر کی تاب نہ لا پائے۔ البتہ پیپلز پارٹی کے وہ کارکن جن کا تعلق معاشرے کے عام طبقات سے تھا وہ بڑی استقامت کے ساتھ مارشل لاء کے خلاف میدان میں ڈٹ گئے۔ بہت سارے ترقی پسندوں کا دوغلا چہرہ بھی اس دور میں بے نقاب ہوا۔پاکستان میں ترقی پسند قوم پرستوں کے بڑے رہنما جناب عبدالولی خان تو گویا بغض و عناد سے بھرے جیل سے رہا ہوئے۔ نیشل عوامی پارٹی (کالعدم) کے رہنماؤں کے اتحاد کی ہنڈیا حیدرآباد جیل کے اندر ہی پھوٹ گئی تھی۔ جیل سے رہا ہونے ہوئے تو بلوچ و پشتون رہنماؤں کے راستے الگ ہوگئے۔ بلوچ رہنماؤں میں سے جناب میر غوث بخش بزنجو سماجی و سیاسی اقدار کا بھرم قائم رکھے ہوئے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ مارشل لاء حکومت کا ساتھ دینے سے بہتر ہے کہ گھروں میں بیٹھ رہا جائے۔پشتون رہنما کہتے تھے کہ بزنجو صاحب بعض ایرانی بلوچ رہنماؤں کے کہنے پر جنرل ضیاء الحق کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تاکہ بھٹو کو فائدہ ہو۔ میر صاحب نے نہ صرف اس کی تردید کی بلکہ دو ٹوک انداز میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن فوجی جنتا کے ہاتھوں ان کے قتل میں حصہ دار بننے والے تاریخ کے مجرم ہوں گے۔ میر غوث بخش بزنجو ان بلوچ رہنماؤں میں سے جنہوں نے 1973ء کے آئین پر دستخط کئے تھے۔ اس پر انہیں بعض بلوچ رہنماطعنے بھی دیتے تھے۔ لیکن حقیقت ہے کہ انہوں نے کسی دباؤ اور طعنوں کو خاطر میں لائے بغیرپاکستان نیشنل پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت قائم کی تاکہ قوم پرست ترقی پسندوں کو نیا سیاسی پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔
میر غوث بخش بزنجو کی نیشنل پارٹی نے پاکستان کی سیاست کی تاریخ میں پہلی بار صوبوں کی تاریخی، ثقافتی، لسانی اور سماجی بنیادوں پر ازسرِ نو تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے سرائیکی بولنے والوں کو ایک الگ قومی اکائی کے طور پر تسلیم کیا۔ ان کی جماعت میں یوسف مستی خان، سیدمحمد قسور گردیزی، نواز بٹ، ڈاکٹر رشید، سیدہ عابدہ حسین نمایاں تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے میر غوث بخش بزنجو کو رام کرنے کی بہت کوششیں کیں۔ ضیاء الحق کے معتمد خاص میر علی احمد تالپور نے میر صاحب سے دوبار کراچی اور ایک بار کوئٹہ جا کر بھی ملاقات کی مگر ان کا مؤقف تھا کہ سیاسی اختلافات ذاتی دشمنیوں میں تبدیل کرنے کا خمیازہ آئندہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ میر غوث بخش بزنجو ان رہنماؤں میں سے تھے جو بھٹو سے اپنے اختلافات کے باوجود کھلے عام یہ کہتے تھے کہ 1977ء کا مارشل لاء امریکی سازش کا نتیجہ تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ فوجی حکومت افغانستان کے انقلاب ثور کے خلاف جن عالمی سازشوں میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اگر بھٹو حکومت ہوتی تو افغانستان کے عوامی انقلاب کا خیر مقدم کیا جاسکتا تھا۔ حیدر آباد سازش کیس میں گرفتار نیشنل عوامی پارٹی کی قیادت کے پشتون بلوچ دھڑوں میں اختلافات کا آغاز اس وقت ہوا جب بلوچ رہنماؤں کو ان کے رابطہ کاروں نے اس سازش کے حقیقی کرداروں سے آگاہ کیا جو حیات محمد خان شیر پاؤ کے قتل کے لئے کابل میں تیار کی گئی تھی۔ گو بعد ازاں پشتو رہنماؤں نے اپنے سابق بلوچ ساتھیوں پر بہت سارے الزامات لگائے مگر ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا کہ آخر جنرل ضیاء الحق کی حمایت کیوں کی جائے۔ کیا محض بھٹو دشمنی میں؟ بھٹو صاحب کے ان کے اقتدار کے دنوں کے لاڈلے اور پھر معتوب ہوئے معراج محمد خان اور ان کی پارٹی قومی محاذ آزادی کے سیکرٹری جنرل سید اقبال حیدر مارشل لاء کے خان عبدالولی خان کی طرح حامی تو نہیں تھے مگر انہیں یہ خوش فہمی ضرور تھی کہ پیپلز پارٹی کے ترقی پسند کارکنوں کا بڑا حصہ ان کی جماعت کی طرف رجوع کرے گا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ پی پی پی کے درجن دو درجن لیڈروں اور ان کے لائی لگوں نے اپنی اوقات ضرور دیکھائی لیکن کارکنوں کی 99فیصد اکثریت بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑی رہی۔ مارشل لاء کے خلاف ڈٹ جانے والے جیالوں کا حوصلہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان، سندھ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن، این ڈی پی کی نظریاتی حلیف طلباء مزدور کسان رابطہ کمیٹی ، فتح یاب علی خان کی مزدور کسان پارٹی سمیت دیگر چھوٹی بڑی ترقی پسند تنظیموں کے کارکن بحالی جمہوریت کے لئے ان کے دست و بازو بن گئے۔ جنرل ضیاء الحق کے لئے یہ صورتحال غیر متوقع تھی۔ ان کی ایما پر جنرل فیض علی چشتی اور میر علی احمد تالپور نے فتح یاب علی خان سے کراچی میں ملاقات کی اور انہیں پی پی پی کے دورِ حکومت میں ترقی پسندوں سے امتیازی سلوک یاد دلاتے ہوئے پی پی پی کے حمایت سے پیچھے ہٹنے کو کہا۔(جناب فتح علی خان نے بعد ازاں ایک موقع پر مجھے دیئے گئے انٹرویو میں نہ صرف اس بات کی تصدیق کی بلکہ یہ انکشاف بھی کیا کہ جس وقت دو رکنی حکومتی وفد ان سے ملاقات کے لئے ان کے گھر پر موجود تھا انہیں ممتاز علی خان بھٹو کا ٹیلیفون آیا اور انہوں نے بھی مشورہ دیا کہ اگر حکومت کی بات نہ بھی مانی جائے تو بھی مزدور کسان پارٹی مارشل لاء کے خلاف پی پی پی کا ساتھ نہ دے)
جماعت اسلامی بہر طور نہ صرف جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی پرجوش حامی تھی بلکہ جنرل ضیاء سے سب سے زیادہ فائدہ جماعت اسلامی نے ہی اٹھایا۔ اکتوبر 1977ء سے دسمبر 1985ء کے درمیان وفاقی اور چاروں صوبوں کے سرکاری ملازمتوں میں غیر اعلانیہ طور پر جماعت اسلامی کے کارکنوں کے لئے کوٹہ رکھا گیا۔ یو ں کہہ لیجئے انتخابی عمل میں اڑھائی سے تین اور اتحادوں کی سیاست کی کی صورت میں 5سے 7 نشتیں لینے والی جماعت اسلامی کی تو لاٹری نکل آئی۔ اس کے حامی جرائد ایک طرف تو جنرل ضیاء الحق کی بیسویں صدی کے محمود غزنوی کے طور پر پیش کرتے تھے اور دوسری طرف یہ تاثر دیتے کہ جماعت اسلامی ہی جنرل ضیاء کی اصل عوامی قوت ہے۔ جولائی 1977ء کے مارشل لاء نے جماعت اسلامی کو بپھرا ہوا سانڈ بنا دیا تھا۔ تلخ ترین حقیقت یہ ہےکہ کہ مولانا سید مودودی کی وفات کے بعد میاں طفیل جماعت اسلامی کے امیر بنے تو جماعت ایک فاشسٹ پنجابی گروپ میں تبدیل ہو گئی۔ تعلیمی اداروں کے اندر جماعت کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان کا عمومی کردار وہی تھا جو آج پاکستانی معاشرے میں طالبان یا لشکرِ جھنگوی کا ہے۔ مخالف طلبا تنظیموں اور ترقی پسند خیالات کے اساتذہ کے ساتھ تو جمعیت کا برتاؤ جماعتِ اسلامی کے اعلیٰ آدرشوں کا عملی نمونہ تھا۔ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ ملک بھر سے پیپلز پارٹی اور سوشلسٹ خیالات رکھنے والے لوگوں کو اکٹھا کر کے بحیرہ عرب میں پھینک دیں ایک منظم منصوبے کے تحت نصاب ہائے تعلیم کو جماعتی اسلام کے قالب میں ڈھالا گیا تو دوسری طرف ریڈیو ٹی وی جیسے قومی اداروں میں گھس آنے والے ان کے ہم خیال اَت اٹھائے ہوئے تھے۔ اخبارات و جرائد پر سنسر نافذ تھا۔ ٹرسٹ کے اخبارات حکومتی خبرناموں کی صورت بن چکے تھے۔ ان اخبارات میں موجود ترقی پسند صحافیوں نے دباؤ کا مقابلہ کرنے کی پوری کوشش کی لیکن ریاستی طاقت کا مقابلی کیسے ہوتا۔ یہ وہ دن تھے جب ملک کے کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ’’مشرق‘‘ کے صفحہ اول پر جنرل ضیاء الحق کی تصویراور کلام مقدس عبارت کے طور پر نمایاں کر کے شائع کیا جاتا اور جماعت کے کارخانے سے ایسے ایسے لکھنے والے ڈھونڈ کر لائے گئے جنہوں نے جمہوریت دشمنی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ ان پرآشوب برسوں کے دوران پاکستانی سماج کے مظلوم طبقات کے جمہوریت پسند سیاسی کارکنوں، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور دانشوروں نے ثابت قدمی کے ساتھ مارشل لاء اور جماعت اسلامی کی غنڈہ گردی کا مقابلہ کیا۔ جنرل ضیاء الحق کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ جمہوریت پسندوں کو کسی ایک جگہ جمع کر کے طیاروں سے بمباری کروا دے۔ باوجود اس کے کہ عالمی سامراجی طاقتیں جنرل ضیاء الحق کے ساتھ تھیں۔ پھر بھی کبھی کبھی مغرب کے ذرائع ابلاغ پاکستانی جمہوریت پسندوں کی پرعزم جدوجہد اور فوجی حکومتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی خبریں دینے پر مجبور ہو جاتے۔ جنرل ضیاء الحق تو جنرل ضیاء عام درجے کا فوجی افسر بھٹو صاحب کا نام آتے ہی یوں ہاتھ سے اکھڑتا جیسے بھٹو نے اس کا باپ مارا ہو۔
جاری ہے۔۔۔
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
1242
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زندان کی چیخ ۔انیسویں قسط

One thought on “زندان کی چیخ ۔سولہویں قسط

  • 11/07/2016 at 10:36 صبح
    Permalink

    یہ بلا افراط و تفریط پاکستان کی تاریخ ہے اور وہ بھی ایک بے باک قلم سے ،،،،

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: