Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ٹیکس اور عام آدمی

Print Friendly, PDF & Email

ٹیکس سسٹم کافی پیچیدہ ہے اور یہاں اگر میں ٹیکس سسٹم کی تفصیل یا ٹیکس کی مختلف اقسام میں جاوں گا تو مجھے بیان کرنے میں اور پڑھنے والے عام آدمی کو سمجھنے میں کافی مشکل پیش آئیں گی۔ میں اس معاملے کو آسان بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ ہر عام شہری کو اس بات کی صحیح سے سمجھ آ سکے۔ میرا اس معاملے پر لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ یہ معاملہ پیچیدہ نہ کروں بلکہ عام آدمی کے لئے جتنا ہو سکے آسان کروں۔ عام آدمی کو مسؑلہ تب تک نہیں سمجھایا جا سکتا جب تک اس کو آسان کر کے پیش نہ کیا جائے۔

کسی بھی ملک کی آمدن کا سب سے بڑا زریعہ اس ملک کے لوگوں سے اکٹھا کیا جانے والا ٹیکس ہوتا ہے۔ اور دوسرے نمبر پر برآمدات ہوتی ہیں۔ برآمدات بڑھانے کے لئے ملک میں پیدا ہونے والی اشیاء کی مقدار اور معیار کو بہتر کیا جاتا ہے اور اس کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ گورنمنٹ صحیح معنوں میں اس سیکٹر کے لئے کوشش کر رہی ہو اور قومی خزانے میں انویسٹمنٹ کرنے کی گنجائش بھی ہو۔ پاکستان چونکہ ایک بہت بڑے مالیاتی خسارے کا شکار ہے۔ اور یہ خسارہ ہر سال بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ ملک کے اخراجات اس کی آمدن سے بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔ اس خسارے کو کم کرنے کے لئے گورنمنٹ کے پاس اتنے فنڈز نہیں کہ وہ تھوڑے عرصہ میں ملکی پیداوار پر انویسٹمنٹ کر کے اس خسارے کو کم کر لے۔ یا ملک سے باہر ایسی انویسٹمنٹ کی جائیں جہاں سے آمدن کا ایک اچھا حصہ ملکی خزانہ میں داخل کیا جا سکے لیکن اس کے لئے بھی بہت بڑی مقدار میں فنڈز کی دستیابی ہونی چاہیے اور پاکستان چونکہ خود سالانہ مالیاتی خسارے کا شکار رہتا ہے تو یہ بھی تھوڑے عرصہ میں کرنا ممکن نہیں۔ خسارہ پورا کرنے کے لئے تین بڑی آپشنز کو مد نظر رکھا جاتا ہے جن میں عوام سے اکٹھا ہونے والا ٹیکس، ملکی پیداوار سے جڑی آمدن اور آخری آپشن قرضہ ہوتا ہے- جب پہلی دو آپشنز سے اخراجات پورے نہ ہوں تو خسارہ پورا کرنے کے لیے مجبوراً قرض لیا جاتا ہے۔ ابھی پاکستان کے اتنے وسائل نہیں کہ وہ  ملکی پیداوار سے کی گئی آمدن اور اعوام سے اکٹھا ہونے والے ٹیکس سے خسارہ پورا کر لےاسی لئے اس وقت قرضہ لینے کی شدید ضرورت ہے۔

جب قرضہ لیا جاتا ہے تو اس ملک کے نام پر لیا جاتا ہے یعنی آسان الفاظ میں یہ قرضہ اس ملک کی عوام کے نام پر لیا جاتا ہے۔ موجود حکومت میں جو پارٹی قرضہ لے رہی ہے یا اس سے پہلے جن پارٹیوں نے حکومت میں آ کر قرضے لئے انہوں نے اپنی پارٹی کے نام پر نہیں بلکہ اس ملک کی عوام کے نام پر لئے۔ تو اس لحاظ سے وہ پارٹی اس قرضہ اور اس کے اوپر لگے سود کی ادائیگی کی ذمہ دار نہیں ہوتی بلکہ اس ملک کی عوام ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ قرضہ لے لیا ہے تو وہ سود سمیت واپس بھی کرنا پڑے گا اور اسی عوام کو ہی کرنا پڑے گا جس عوام کے نام پر لیا گیا ہے۔ تو ہم جتنا مرضی چیخ وپکار کر لیں قرضہ ہم نے ہی واپس کرنا ہے۔ حکومتیں تو اپنا خسارہ پورا کرنے کے لئے قرضہ لیتی رہی ہیں اور خسارے کو پورا کرنے کا یہی حل نکالتی رہیں ہیں۔ لیکن اصل میں خسارے کو پورا کرنے کے لئے خام ملکی پیداوار بڑھانے پر توجہ دینی ہوتی ہے۔ ملکی پیداوار بڑھانے کے لئے حکومتوں کو اپنے اخراجات کے حوالے سے  قربانیاں بھی دینی ہوتی ہیں اور صحیح معنوں میں محنت بھی کرنی پڑتی ہے اور  مقامی کاروباری طبقہ کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ ملک کی انڈسٹریز میں انویسٹمینٹ کریں تاکہ ملک کی پیداوار بھی بڑھائی جا سکے اور باہر سے قرض کم سے کم لیا جا سکے۔ جو کہ ہمارے یہاں رواج ہی نہیں بس ایک ہی حل نکالا جاتا ہے کہ خسارہ پورا کرنے کے لئے قرض پکڑو اور اپنی حکومت کا وقت پورا کرو کیونکہ ادائیگی اس کے یا اس کی پارٹی کے ذمہ نہیں ہوتی۔ یہ ایک بہت بڑا منفی رویہ ہے جو ہماری حکومتیں کئی سالوں سے دکھاتی آ رہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:   سید علی ہجویری ؒ | پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی - قلم کار

 اگر مالیاتی خسارہ زیادہ ہو تو مہنگائی کرنی پڑتی ہے اور مہنگائی کرنے کے لئے انڈائریکٹ ٹیکسس بڑھائے جاتے ہیں۔ جب غریب کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مطلب اس کے ملکی خزانہ میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ وہ غریب کو ریلیف دے سکے۔ اس کے لیے گورنمنٹ کو رواں مالیاتی سال میں امیر لوگوں پر ٹیکس لگا کر اپنا خسارہ پورا کرنے اور آئندہ سالوں میں غریب لوگوں کو ریلیف دینے کے کوشش کرتی ہے۔ رواں سال میں ٹیکس امیر لوگوں پر اسی لئے بڑھایا گیا تاکہ آئندہ سالوں میں غریب کو ریلیف دینے کی کوشش کی جا سکے۔ جب تک امیر ٹیکس نہیں دے گا تو مستقبل میں غریب کو ریلیف بھی نہیں دیا جا سکے گا۔ آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جب تک ڈائریکٹ ٹیکس نہیں بڑھے گا تب تک انڈائریکٹ ٹیکس کی شرح کم نہیں ہو گی۔ اور جب تک انڈائریکٹ ٹیکس کی شرح کم نہیں ہو گی تب تک قیمتیں کم نہیں ہونگی۔ اسی لیے حکومتوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ڈائریکٹ ٹیکس کو بڑھایا جائے اور انڈائریکٹ ٹیکس کم کیا جائے جس سے غریب آدمی سمیت سب کو فائدہ ہو۔ 

ٹیکس کے معاملات کو ہمیشہ امیر لوگ پیچیدہ کر کے پیش کرتے رہے ہیں تاکہ غریب لوگوں کے احتجاج کی آڑ میں وہ خود اپنے اوپر سے توجہ ہٹوا سکیں۔ یہاں تو مسئلہ یہ ہے کہ امیر کاروباری طبقہ ہڑتال کی کال کر دیتا ہے اور غریب دکاندار کو اس کا حصہ بنا کر گورنمنٹ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ خیر اس میں سیاسی پارٹیوں کا بھی منفی کردار ہوتا ہے کیونکہ ہر سیاسی پارٹی کی ٹریڈ یونین ہیں جن کے ساتھ مل کر وہ اس سیاسی پارٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی ہے جو حکومت میں بیٹھی ہو۔ پچھلی حکومتیں بھی یہی کوشش کرتی رہیں لیکن ہر بار امیر نے اپنا مسئلہ غریب کا بنا کر پیش کیا اور ہر مرتبہ کامیاب ہوتا رہا۔ چونکہ ہمارے ملک میں غریب لوگ زیادہ ہیں یعنی ان کے ووٹ بھی زیادہ ہیں تو ہر بار اس وقت کی حکومتوں نے اپنا ووٹ بینک خطرے میں دیکھ کر اس معاملے میں مجبوراً نرمی دکھائی۔ اور اس طرح ہر بار غریب لوگوں کو امیر لوگ استعمال کرنے میں کامیاب ہوتے رہے۔ جس کا فائدہ ہر بار امیر لیتا رہا اور نقصان غریب اٹھاتا رہا۔ پوری دنیا میں بھاری ٹیکس دیئے جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں آمدن کے لحاظ سے ٹیکس دینا زیادتی سمجھا جاتا ہے۔ ان لوگوں سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ نے کبھی اپنا ٹیکس پورا دیا تو جواب میں کہتے ہیں کہ سرکار نے ہمیں کیا دیا ہے اور ہمیں سرکار پر بھروسہ بھی نہیں ہے۔ اس طرح کے بیانیے تب ہی اچھے لگتے ہیں جب آپ ٹیکس پورا دے رہے ہوں۔ اسی وجہ سے یہ لوگ بھی سرکار پر پریشر نہیں بنا پاتے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ یہ لوگ پورا ٹیکس نہیں دیتے۔ ہمیں اس معاملے کو سمجھنے کے لئے غور کرنا ہوگا۔ 

کچھ لوگ اس بات پر بہت زور دے رہے ہیں کہ یہاں تو ہر بندہ ٹیکس دیتا ہے تو وزیراعظم صاحب کیوں نہیں مانتے کہ سب ٹیکس دیتے ہیں۔ یہ بات وزیراعظم کو بھی پتہ ہے اور پوری قوم کو بھی پتہ ہے کہ یہاں دس ہزار کمانے والا بھی ٹیکس دیتا ہے لیکن اس کے باوجود وزیراعظم ہر بار اپنا بیان کیوں ایک ہی رکھتے ہیں اور اسی طرح کے بیانات ماضی میں پچھلی حکومتیں بھی دیتی رہی ہیں۔ ہم آج اس بات کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ بات تو سچ ہے کہ یہاں ہر انسان ٹیکس دیتا ہے لیکن انڈائرکٹ ٹیکس دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کی آمدن پچاس ہزار ہے اور آپ کے اخراجات بھی پچاس ہزار ہی ہیں۔ آپ نے اپنے اخراجات کرتے وقت انڈائریکٹ ٹیکس ادا کر دیا آپ اس کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ آپ نے اپنی پچاس ہزار کی آمدن پر ٹیکس دیا۔ جب آپ نے اخراجات کرتے ہوئے ٹیکس ادا کیا تو اس کا مطلب یہی ہے کہ آپ کی آمدن ہوئی تو آپ نے اخراجات کئے اور اسکا مطلب یہ بھی ہوا کہ آپ نے اپنی ساری کمائی پر ٹیکس دے دیا۔

یہ بھی پڑھئے:   گوادر کس نے ایجاد کیا؟ - نذیر ناجی

 اب بات کرتے ہیں اس فرد کی جس کی آمدن ماہانہ ایک کروڑ ہے اور اسکے اخراجات ماہانہ پانچ لاکھ ہیں۔ اس نے پانچ لاکھ کے اخراجات کرتے ہوئے تو ٹیکس ادا کر دیا لیکن اس طرح تو یہ ظاہر ہوا کہ اس کی آمدن پانچ لاکھ ہی ہے۔ اگر اس نے انکم ٹیکس اپنی آمدن کے حساب سے نہیں دیا تو بات تو یہاں رک جاتی ہے کہ بھائی جو باقی کے پچانوے لاکھ تھے وہ اس نے محفوظ کر لئے لیکن اس پر ٹیکس کیوں نہیں دیا گیا جبکہ دوسری طرف پچاس ہزار کمانے والے نے تو اپنی پوری رقم پر ٹیکس ادا کر دیا۔ مسئلہ تو پچاس ہزار والے کا ہے ہی نہیں اسکو تو ڈائریکٹ انکم ٹیکس سے اسی لئے چھوٹ دی گئی کہ وہ اپنے اخراجات کرتے ہوئے ٹیکس ادا کرتا رہتا ہے۔ مسئلہ اس کا ہے جس نے آپ ہی کی طرح انڈائریکٹ ٹیکس اخراجات کرتے ہوئے تو ادا کر دیا لیکن آمدن کے لحاظ سے انکم ٹیکس نہیں دیا۔ اب یہاں اگر پچاس ہزار کمانے والا احتجاج کرتا ہے اور حکومت کے خلاف ہو جاتا ہے تو ایک سیاسی پارٹی کو تو اس سے جو نقصان ہو گا سو ہو گا لیکن اس ملک کو اور اس کے لوگوں کو زیادہ نقصان ہو گا۔ آپ اگر پچاس ہزار ماہانہ کمانے والے شہری ہیں تو آپ ستر لاکھ ماہانہ کمانے والے سے توجہ ہٹانے کی وجہ کیوں بن رہے ہیں۔ اس کو تو آپ کی طرف سے گورنمنٹ پر پریشر چاہیے تاکہ آپ اپنے ووٹ کی دھمکی دے کر گورنمنٹ کو اس معاملے سے کسی حد تک پیچھے ہٹنا پڑے۔

دوسری طرف گورنمنٹ کہتی ہے کہ آپ سب لوگ ٹیکس ریٹرن جمع کروا کر سسٹم کا حصہ بنیں، اپنے کاروبار رجسٹر کروائیں اور اس کو بہتر کرنے میں سرکار کی مدد کریں۔ معیشت کا دستاویزی ہونے سے ملک کو ہی فائدہ ہو گا تاکہ جو ٹیکس سے بچ رہا ہے اسکو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔ جب آپکا سالانہ ٹیکس ہی نہیں بنتا تو آپ ٹیکس ریٹرن جمع کروا کر سسٹم کو سپورٹ کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی مجبور ہو کر اس میں شامل ہوں۔ جیسا کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں ختم ہونے والی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت تین ہزار ارب کے اثاثے ظاہر ہوئے اور حکومت ان لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں کامیاب ہوئی۔ لیکن ابھی تو بہت زیادہ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اثاثے ظاہر ہی نہیں کئے جن کے خلاف حکومت نے آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔ اس کا فائدہ مستقبل میں غریب کو ہو گا۔ اس پر مہنگائی کا بوجھ مستقبل میں انڈائریکٹ ٹیکس کی شرح میں کمی لا کر کم کیا جا سکے گا۔ اب یہ فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امیر طبقے کو بھی آپ کا ساتھ چاہیے اور سرکار کو بھی۔ ہمیں سوچنا یہ ہے کہ بس ہم ایسی سوچ بنائیں کہ کوئی ہمیں غلط استعمال نہ کر سکے۔

Views All Time
Views All Time
252
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: