Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

عالمی یوم یتامیٰ :امیر المومنین علی ابنِ ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی سیرت اپنایے

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان میں بیسیوں ملکی اور بین الاقوامی فلاحی ادارے یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں یتیم بچوں کی کفالت کرنے والے چند اداروں نے پاکستان میں یتیم بچوں کی آواز بننے کے لیے پاکستان آرفن کئیر فور م تشکیل دیا جس میں الخدمت فانڈیشن پاکستان سرفہرست ہے۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان آرفن کئیر فورم ہر سال 15 رمضان کو یوم یتامیٰ کے طور پر منائے گی۔ اور گزشتہ سال پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی15رمضان کو یوم یتامیٰ منانے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے ۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی نے دسمبر2013میں پہلی بار ترکی کی معروف سماجی تنظیم آئی ایچ ایچ کی تجویز پر تمام اسلامی ملکوں میں 15 رمضان کویتیم بچوں کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھاجسے دنیا بھر میں یتیم بچوں کی کفالت اور فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والے اداروں نے عملاََسراہا ہے۔

اب جبکہ پوری امت مسلمہ 15رمضان المبارک کو یوم یتامیٰ منارہی ہے چھ روز بعد یتیم پرور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یوم شہادت بھی ہے حضرت علی ؑکے بارے میں مشہور ہے کہ آپ نصف شب کے بعد گھر سے نکلتے اور دن بھر کی اپنی کمائی سے ضرورت مندوں اور حاجت مندوں کو اپنا تعارف اور پہچان کروائے بغیر غذا و دیگر اشیا پہنچاتے تھے۔ جب آپ کی شہادت ہوئی تو معلوم ہوا کہ رات کی تاریکی میں آنے والا شخص امیر المومنین حضرت علیؑ کے سوا کوئی نہ تھا ۔مومنین کی اخلاقی خوبیوں میں سے ایک یتیموں کی سرپرستی اور ان کے ساتھ لطف و مہربانی کا مظاہرہ کرنا ہے، کیونکہ انسانوں کی زندگی میں ایسی مشکلات و محرومیاں ہوتی ہیں، جن کا علاج صرف الفت و محبت ہوتا ہے، حضور ﷺنے بھی یتیموں کی سرپرستی اور ان کا احترام کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ایک حدیث میں فرمایا سب سے زیادہ پسندیدہ گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم عزت و احترام کی زندگی گزارتا ہو۔ یعنی اسلامی تعلیمات یتیموں کی مدد ان کی عزت و احترام کی طرف متوجہ کرتی ہیں، تاکہ وہ سرفرازی و سربلندی کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور بے چارگی، حقارت اور بے کسی کا احساس نہ ہو،

یہ بھی پڑھئے:   ارے کوئی تو روکو ان کو

امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ ملک اور عوام کے حالات سے باخبر تھے، خصوصاََ یتیموں، بیواؤں، غریبوں سے غافل نہیں ہوتے تھے، لیکن کبھی اپنی حکومت کے کارندوں اور امت اسلامیہ کو سبق دینے کے لئے ایک عام انسان کی طرح کام کیا کرتے تھے۔ ایک روز آپ نے دیکھا کہ ایک عورت شانوں پر پانی کی مشک رکھے جا رہی ہے، آپ نے اس سے مشک لی اور اس کے گھرتک پہنچا دی، اور پھر اس عورت کے حالات دریافت کئے، اس عورت نے کہا، علیؑ نے میرے شوہر کو کسی سرحد پر بھیجا جو وہاں قتل ہو گیا، اب میرے یتیم بچے ہیں اور ان کے خرچ کے لئے بھی میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، اس لیے خود ہی کام کرنے پر مجبور ہوں۔ امیر المومنین حضرت علیؑ اپنے بیت الشرف پلٹ آئے اور پوری رات پریشانی اور بے چینی کے عالم میں گزاری، جب صبح نمودار ہوئی ، آپ نے کھانے پینے کا کچھ سامان لیا اور اس کے گھر کی طرف روانہ ہوئے،آپ کے بعض اصحاب نے کہا: لائیے یہ بوجھ ہمیں دیدیجئے تاکہ ہم اس کے گھر تک پہنچا دیں، تو آپ نے فرمایا قیامت کے دن میرا بوجھ کون اٹھائے گا؟ اس عورت کے گھر کے دروازے پر پہنچے، اور دق الباب کیا، اس عورت نے سوال کیا: کون ہے جو دروازہ کھٹکھٹاتا ہے؟ حضرت علیؑ نے فرمایا: میں وہی بندہ ہوں جس نے کل تمہاری پانی کی مشک تمہارے گھر تک پہنچائی تھی، دروازہ کھولو کہ میں بچوں کے لئے کھانے پینے کا سامان لایا ہوں،

عورت نے کہا: خدا تم سے خوش ہو اور میرے اور علی ؑکے درمیان فیصلہ کرے، علی کرم اللہ وجہہ مکان میں وارد ہوئے اور فرمایا: میں تمہاری مدد کر کے ثواب الہی حاصل کرنا چاہتا ہوں، روٹی بنانے اور بچوں کو بہلانے میں سے ایک کام میرے حوالہ کر دو۔ عورت نے کہا کہ میں روٹیاں بنا سکتی ہوں، لہذا آپ بچوں کو بھلائیں، عورت نے آٹے کی روٹی بنانا شروع کی اور علی گوشت اور خرما بچوں کو کھلانے لگے۔جب بچے لقمہ کھاتے تو امیر المومنین بچوں سے فرماتے، بیٹو! علی ؑکی وجہ سے تم پر جو مصیبت پڑی ہے، ان کو معاف کردینا! جب آٹا گندھ گیا تو عورت نے کہا، اے بندہ خدا! تنور روشن کرو، علیؑ تنور کی طرف گئے اور اس کو روشن کیا اور جب تنور سے شعلہ نکلنے لگے تو اپنے چہرے کو اس کے نزدیک لے گئے تاکہ حرارت چہرے تک پہنچے، اور فرماتے تھے اے علیؑ! بیواؤں اور یتیم بچوں کے حق سے غافل ہونے کی سزا آگ کی حرارت ہے۔ ناگہاں پڑوس کی ایک عورت آئی اور اس نے علی کرم اللہ وجہہ کو پہچان لیا اور بچوں کی ماں سے کہا، وائے ہو تجھ پر یہ امیر المومنین ہیں، یہ سن کر وہ عورت آپ کی طرف دوڑی اور وہ مسلسل کہتی جاتی تھی، یا امیرالمومنین! میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں! امیرالمومنین نے فرمایا، اے کنیز خدا! میں تجھ سے زیادہ شرمندہ ہوں کہ تیرے حق میں کوتاہی کی ہے

یہ بھی پڑھئے:   مسئلہ کشمیر ،او آئی سی اور اقوام متحدہ کا عالمی دن - اختر سردار چودھری

۔ پس ہم صحابی رسول امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت مبارکہ پر عمل پیرا ہوکر الخدمت فاونڈیشن کے سنگ یتیموں کا خیال رکھیں۔

Views All Time
Views All Time
133
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: