Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

امن کا نشان، ہمارا پاکستان

Print Friendly, PDF & Email

ماہ مارچ کے آغاز سے ہی ’یوم پاکستان‘ کو منانے کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ 23 مارچ عہد وفا  کا دن ہے۔ 1940 میں اس روز مادر وطن کے وجود کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔اس موقع پر بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق اور تحریک آزادی کے نامور رہنما چوہدری خلیق الزماں نے قرار داد پاکستان پیش کی تھی ۔ جس میں تین اہم نکات شامل تھے۔
اول، ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو آپس میں ملا دیا جائے تاکہ مسلمانوں کو ایک الگ ریاست دی جائے۔
دوم، جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں، وہاں پر انہیں آئین کے تحت مکمل حقوق اور اختیارات دیے جائیں۔
سوئم، کیوں کہ ہندوستان کا موجودہ آئین مسلمانوں کے حقوق پورے نہیں کرتا اور نہ ہی ان کو تحفظ فراہم کرتا ہے لہٰذا ہندوستان کے مسلمان اسے قبول نہیں کریں گے۔

پاکستان کا پہلا آئین (1956) بھی اسی 23 مارچ کو منظور ہوا تھا۔ بعدازاں 23 مارچ کو ’یوم پاکستان‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ہمارے اجداد نے بے شمار قربانیاں دیکر مادر وطن کے قیام کو یقینی بنایا۔ 23 مارچ اسی تجدید وفا پاکستان ہے اسی لئے اسے ’یوم پاکستان‘ کہا جاتا ہے۔ 70 سالہ مادروطن مختلف مسائل کا شکار ہے۔ جس میں دہشتگردی جیسا اہم مسئلہ بھی ہے۔ جس کی وجہ سے ہزاروں ماؤں کی گودئیں اجڑ چکی ہیں۔ جس میں سویلین کے ساتھ ساتھ با وردی دھرتی کے سپوتوں کا لہو شامل ہے۔

ڈھیروں جانوں کے نذرانوں کے بعد اب پاکستان میں امن کا قیام ممکن ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ’سی پیک‘ جیسے اہم پروجیکٹ کی آمد کے بعد وطن عزیز کی معاشی صورتحال میں بھی بہتری آنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔
خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ اب پاکستان میں کرکٹ بھی بحال ہوگئی ہے۔ جس کے ذریعے عالمی دنیا کو مثبت پیغام جا رہا ہے۔ اس امر کی کامیابی کا سہرا پاکستان پولیس، رینجرزاور افواج کو جاتاہے جنہوں نے مادر وطن کے وقار کوبلند رکھنے کے لئے پاک سرزمین کی ایک ایک انچ کی حفاظت کی خاطر ہرقسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھئے:   قلم کار ایک جذبہ، ایک جنون

ہماری سیکیورٹی فورسز سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کے لئے اہم امور سرانجام دے رہی ہیں جو قابل تحسین ہیں۔ مگر یہاں ایک نکتے کو وضاحت کے ساتھ ضرور قلم بند کرنا چاہوں گی۔ پاکستان آرمی دنیا کی وہ واحد فوج ہے جونہ ریاست کا مکمل دفاع کررہی ہے بلکہ انتظامی امور میں بھی پیش پیش ہے۔ پاک افواج بیک وقت مختلف محاذوں پر سراپا جنگ ہے۔ سرحدوں کی حفاظت کے لئے چاک و چوبند ہے، ملکی انتظامی سیٹ اپ کو فعال بنانے کے لئے کمربستہ ہے، ریاست کی معاشیات کی بہتری کے لئے پرعزم ہے، جمہوریت کے دیرپا قیام کی خواہاں ہے، یہ ہی نہیں بلکہ نئی نسل کے بہتر مستقبل کے لئے بھی کوشاں ہے۔

دنیا ترقی کی راہ پر گامزن ہے دیگر امور کی طرح جنگ کے معاملات بھی جدت اختیار کر گئے ہیں۔ اب روایتی نہیں بلکہ غیر روایتی جنگ کا دور ہے جیسے فورتھ جنریشن وار کہتے ہیں۔ جس میں ملک کے عوام اور افواج کے درمیان خلیج بڑھائی جاتی ہے۔ پاک افواج اس جنگ کا سامنا بھی بھرپور طریقے سے کررہی ہے۔

آج کے پاکستان کا اگر 5 سال قبل کے پاکستان سے موزانہ کیا جائے تو اس بات کا اطمینان ہوگا کہ وطن عزیز میں امن کا قیام ممکن ہوا ہے۔ دعا ہے یہ امن کا قیام دیرپا ہو عارضی ثابت نہ ہو۔ ہم سب واقف ہیں کہ 23 مارچ 1940 کو قراردار پاکستان پیش اور منظور ہونے کے بعد منٹو پارک لاہور میں یادگار کے طور پر’مینار پاکستان‘ تعمیر کیا گیا جو آزادی کی ’سوچ‘ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس ’سوچ‘ کی سنگ بنیاد کے سات سال بعد پاک سر زمین کا قیام عمل میں آیا۔ رواں سال افواج پاکستان کی جانب سے ’امن کا نشان، ہمارا پاکستان‘ کا خیال سامنے آیا ہے جو ’یوم پاکستان‘ کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ پاکستانی ہونے کے ناطے ہر محب الوطن کی طرح دعا ہے کہ مادر وطن میں قائم ہوا امن یہاں ہی خیمہ زن ہوجائے۔ دعا ہے کہ میرے ارض پاک میں کھلے وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔ آمین۔اہلیان  مادر وطن کو ’یوم پاکستان‘ مبارک

یہ بھی پڑھئے:   سلگتے قلم

پاکستان زندہ باد

Views All Time
Views All Time
532
Views Today
Views Today
5

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: