Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

سیکھنا اور سکھانا ایک مسلسل عمل ہے

Print Friendly, PDF & Email

فیس بک پر آنے سے پہلے کسی ایک جگہہ اتنے استاد اکٹھے نہیں دیکھے تھے ۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک ” کچھ تو بہت ہی استاد ہیں ۔ اردو زبان کی خاصیت یہ ہے کہ یہاں لفظ داخل تو ہوجاتاہے لیکن اس کی جو درگت بنتی ہے تو وہ بھی سب کا مونہہ دیکھ دیکھ کر کہتا ہے کہ یار جب میں یہاں آیا تو ہرگز ایسا نہ تھا. پڑھانے اور سکھانے والے کے لئے ”. استاد اور ادب آموز فارسی زبان کے الفاظ ہیں اور عربی میں معلم اور مدرس ہیں ۔۔ انگریزی میں ٹیچر اور مینٹر وغیرہ ”.

اب اردو میں استاد نیک ارادے سے آیا ہوگا کہ بچوں کو پڑھائے گا لیکن یہ معاملہ پڑھنے پڑھانے سے کئی فرلانگ آگے نکل گیا ۔ یہ لفظ طبلے کے ہنرمند’سے لے کر گیراج کے میکنک تک کے لئے بولا جانے لگا ۔۔ اور تو اور جب مداری نے جمہورے کو پکارا تو وہاں سے بھی ” آگیا استاد ” کی صدا آئی ۔ اس پہ بسوں والوں نے حد ہی کردی ہر ایرا غیرا بس کی باڈی پہ ہاتھ مار کے کہتا ہے ” چل استاد اے”

اسی مغالطے سے بچنے کے لئے شاید اردو کے ” استاد ” کے ساتھ ساتھ انگریزی کا “ماسٹر ” بھی چلتا رہا جس کے ساتھ ہم نے “جی” لگا کر اسے ” ماسٹر جی” کیا اور یوں انگریز اور استاد دونوں کا جی رکھ لیا ” کوئی چار سال ادھر کی بات ہوگی کہ بچوں نے کہا دنیا بدل گئی اب آپ بھی بدل جائیے ۔ فیس بک پہ اکاونٹ بنایا گیا ‘ اس کی ابتدائی تعلیم و تربیت ہوئی اور اس طرح سینگ کٹوا کر ہم بھی بچھڑوں میں شامل ہو گئے ”

یہاں سیکھنے اور سکھانے کا عمل جاری و ساری ہے ” بہت کم لوگ ایک دوسرے کو ذاتی طور پہ جانتے ہیں لیکن آن لائن سکول کا سا ماحول ہے ۔ دوست پسند نہیں آئے بدل دیجیئے ۔۔ استاد نے برا بھلا کہا آپ کسی دوسرے کی کلاس میں جا کر بیٹھ جائیے ۔ تحریر پسند نہیں آئی جی بھر کے کوسیئے آپ کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ عام زندگی میں طاقتور اپنی سنانا اور منوانا چاہتا ہے ۔۔ یہاں ایسا نہیں ہے مرضی ہے مانیں مرضی ہے نہ مانیں ۔ تحریر و افکار کی دوستیاں ہیں ۔ اور تہذیب و نظریات کے تعصب ہیں ۔ فیس بک سے فیض اٹھانے والے جانتے ہیں اس اسکول میں ہر طرح کے اساتذہ کی بہتات ہے . اصلی شاعروں اور ا ادیبوں سے لے کر ٹوکن والے شاعر اور ادیب آپ کو مل جائیں گے ۔ وہ استاد بھی ہیں جنہیں اپنی ناقدری کا شکوہ ہے ۔۔ اپنی پہچان کا گلہ ہے ۔جو بقول اختر الایمان کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ۔۔

یہ بھی پڑھئے:   ماہ رمضان کے لئے سفارشات

معیشت دوسروں کے ہاتھ میں اور میرے قبضے میں
جز اک ذہن رسا کچھ بھی نہیں پھر بھی مگر مجھ کو
خروش عمر کے اتمام تک اک بوجھ اٹھانا ہے
عناصر منتشر ہو جانے نبضیں ڈوب جانے تک
نوائے صبح ہو یا نغمہ شب کچھ بھی گانا ہے
ظفر مندوں کے آگے رزق کی تحصیل کی خاطر
کبھی اپنا ہی نغمہ ان کا کہہ کر مسکرانا ہے

اور دوسری طرف ایسے سرپھرے استاد بھی ہیں جو اپنے شعر میر غالب ‘ اقبال و فیض کے نام سے چھاپنے پر مصر ہیں ”اب ہہ ان کا جذبہ ایثار ہے یا ان شعرا کو اپنا ممنون احسان بنانے کی کوئی سوچی سمجھی سکیم پتہ نہیں ۔ اکثر تو اتنے خوداعتماد ہیں کہ فرماتے ہیں.

ہم بھی شعر کہتے ہیں کہہ دو میر و غالب سے
وہ صدی تمہاری تھی ‘ یہ صدی ہماری ہے

بھائی ہمیں کیا پڑی کہ میر و غالب کو آپکا پیغام پہنچاتے پھریں ” خود ان سے ملنے کی سبیل کریں ” اگر آپ پہ شاعری کا خمار اور خود ستائی کا بھوت اتنا ہی سوار ہے تو براہ راست بات کیجیئے ہمیں کیا اپنا قاصد سمجھ رکھا ہے ؟ یہاں نظم و نثر کے ثقہ استاد بھی ہیں جو اپنی پوسٹ ایسے لگاتے ہیں جیسے کسی دوسرے کی پوسٹ شیئر کر رہے ہوں ۔ یہ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ والے لوگ ہیں ان کے مشاعرے میں دس لوگ آئیں یا دس ہزار انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کچھ استاد صنعت جگت بازی میں یکتا ہیں ہر وقت کسی نہ کسی کی بھد اڑائی جا رہی ہے ۔ سیاست اور مذہب کے اساتذہ زیادہ ہیں ۔ ان اساتذہ سے نزدیکی آپ اپنی ذمہ داری پر اختیار کر سکتے ہیں ۔ کب دھیمی دھیمی آواز گالی گلوچ میں بدل جائے اور کب گفتگو مکالمے سے ملاکھڑے میں بدل جائے وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا.

یہ بھی پڑھئے:   علامہ اقبال دور اندیش و مستقبل شناس شاعرو مفکر | اسامہ عاقل حافظ عصمت اللہ(انڈیا) - قلم کار

سیاست کے اساتذہ کے مطابق ان کا رہنما اگر دنیا میں رحمن کا خلیفہ ہے تو مخالف رہنما کو ضرور شیطان نے اس سے مقابلے پہ دنیا میں اتارا ہے ۔ سیاست میں اساتذہ کے مونہہ سے جوں ہی جھاگ نکلنا شروع ہو آپ کے حق میں یہی بہتر ہے کہ آپ کسی نزدیکی پناہ گاہ میں پناہ لے لیں کہ کبھی بھی لٹھ چل سکتے ہیں ۔ کچھ استاد تو اتنی کڑوی سوچ کے مالک ہیں کہ دوسرے کے فائدے کو نقصان میں بدلنے کے لئے اپنی زندگی بھی داو پر لگانے سے گریز نہیں کرتے ۔ بالکل ایسے کہ

میں اس سے عقد کرتے ہی وہیں پہ زہر کھا لوں گا
بلا سے جان جائے اس کو بیوہ کر کے چھوڑوں گا

کیا ہی اچھا ہو کہ ہم فیس بک کے سیکھنے اور سکھانے والے ادارے کو حقیقی معنوں میں معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کریں اور دانشور اساتذہ کی بصیرت سے فیض پا سکیں ۔

Views All Time
Views All Time
216
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: