Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

گلگت بلتستان: تاریخ کا ایک سنگین مذاق

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کے شمالی حصّے میں جو علاقہ “گلگت بلتستان” کے نام سے معروف ہے وہ دراصل دو علحدہ حیثیتوں سے آباد رہا ہے۔ مشرق کی طرف بلتستان کا علاقہ ہے جو جنوب میں کشمیر اور شمال میں چینی ترکستان کے مابین واقع ہے، صرف مغرب میں گلگت کے ذریعے باقی پاکستان سے جڑا ہوا ہے، جبکہ گلگت کا علاقہ شمال میں چین اور جنوب و مغرب میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے درمیان واقع ہے۔ سن 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے جب ان علاقوں کی محرومیوں کا ازالہ کرنا چاہا تو اس علاقے کو “گلگت بلتستان” کا نام دیا ورنہ اس سے قبل اس متنازعہ علاقے کو “شمالی علاقہ جات” کہا جاتا تھا۔

ویسے تاریخی، نسلی، و لسانی لحاظ سے یہ دو علاقے بالکل ہی الگ ہیں۔ نسلی لحاظ سے بلتستان میں تبتی النسل لوگوں کی اکثریت ہے جو اپنے لداخی بھائیوں کی طرح تبتی زبان کی مغربی قدیم بولی میں گفتگو کرتے ہیں جس کو بلتی کہتے ہیں، اور گلگت کے علاقوں میں اکثریت شنا اور کھوار بولنے والے “درد” نسل کی ہے جو ہندوستان کی آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان دو علاقے میں نسلی و لسانی لحاظ سے اتنا فرق ہے جتنا پشتو بولنے والے پٹھانوں اور پنجابیوں میں۔ لیکن تاریخ ہمیشہ بے رحم ہوتی ہے اور اس طرح کی تفریق کو خاطر میں نہیں لاتی، آج تاریخ نے ان دو علاقوں کو یکجاں کر کے “گلگت بلتستان” بنا دیا ہے۔

یہ خطہ جو اپنی بے نظیر خوبصورتی کی وجہ سے معروف ہے، وہیں پر تاریخ کے ایک عظیم مذاق کا بھی شکار ہے۔ کہنے کو یہ علاقے پاکستان میں آتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستان کا حصّہ نہیں۔ یہ میرے اپنے الفاظ نہیں بلکہ آئین کی رو سے پاکستان کی حکومت کا دیرینہ موقف رہا ہے۔ اس کے باوجود اس علاقے کے لوگ 1948 سے اب تک اجتماعی خوش فہمی کا شکار تھے کہ یہ پاکستان کا حصّہ ہیں یا بہت جلد بنا لئے جائیں گے، لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس اجتماعی خوش فہمی پر کاری ضرب لگا دی ہے۔ یہ دنیا کا واحد خطّہ ہے جہاں کے لوگ کسی ملک کا حصّہ بننا چاہتے ہیں اور حقیقت میں اسی ملک کا وہاں اثر و نفوذ بھی ہے لیکن وہ ملک اس خطّے کو اپنا ماننے سے انکار کرتا ہے۔ دوسری طرف مقبوضہ جمّوں و کشمیر کی اکثریت ہندوستان کا حصّہ بننے کی مخالف ہی لیکن ہندوستان کشمیر کو آئینی طور پر اپنا حصّہ مانتا ہے۔ اس سے بڑھ کر گھناؤنا مذاق تاریخ میں شاید کہیں نہ ملے۔

آئیے ایک نظر اس خطے کی تاریخ پر ڈالتے ہیں تاکہ قارئین گلگت بلتستان کے اس مسئلے کا ادراک کر سکیں۔ ہمیں لامحالہ یہاں بلتستان اور گلگت کو الگ الگ تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ بلتستان جہاں تبتی زبان کے ایک خاص قدیم لہجے “بلتی” میں گفتگو کی جاتی ہے تاریخی طور پر تبت کا حصّہ رہا ہے۔ بلتستان اور لداخ تاریخی طور پر دو بھائی رہے ہیں جہاں قدیم مذہب “بون چھوس” کا غلبہ تھا۔ یہ مذہب مظاہر پرست تھا جس کی بنیاد ارواح خبیثہ اور مختلف دیومالائی کرداروں کی پرستش میں تھی۔ جب تبت نے بدھ مت قبول کیا تو یہ علاقے بھی خودبخود بدھ مت کے زیر اثر آگئے۔ پندھرویں صدی عیسوی میں کشمیر و ترکستان سے آنے والے ایرانی مبلغین سید علی ہمدانی، میر شمس الدین عراقی و سید محمد نوربخش کے ہاتھوں اسلام پھیلا۔ یہاں اسلام کی روشنی جب پھیلی تو یہ علاقہ تبت اور لداخ سے کٹ گیا اور مقامی راجے مہاراجے حکومت کرتے رہے۔ دوسری طرف گلگت بھی اپنی آزاد حیثیت سے قائم و دائم تھا۔ ہندوستان میں پنجاب پر جب سکھ حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے اپنی فتوحات کا دائرہ کشمیر تک بڑھا دیا۔ انیسویں صدی میں گوجرانوالہ کے ایک سکھ جرنیل وزیر زور آور سنگھ نے یکے بعد دیگرے لداخ اور پھر بلتستان کو فتح کر سکھ سلطنت کا حصّہ بنا دیا۔ جب سکھوں کو انگریزوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تو کشمیر کو اونے پونوں جموں کے ڈوگروں کے ہاتھوں بیچ دیا گیا، یوں یہاں ڈوگروں کی حکومت قائم ہو گئی۔ لیکن اس کے باوجود ڈوگروں کی عمل درآمد فقط واجبی حد تک رہی، مقامی رجواڑے سرینگر کے ڈوگروں کو لگان ادا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:   وینٹی لیٹر

دوسری طرف گلگت کو بھی ڈوگروں نے فتح کیا لیکن چونکہ اس زمانے میں روس نے وسطی ایشیا کی مسلمان ریاستوں پر قبضہ جما لیا تھا اور گلگت و چترال کے قریب پامیر کی بلندیوں تک پہنچ چکے تھے، انگریزوں کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ اس طرح یہ پیشرفت کرتے رہے تو کہیں ہندوستان تک نہ آ جائیں۔ اپنی سرحدوں سے روسیوں کو دور رکھنے کے لئے انگریزوں نے چترال و دیر کے حکمرانوں کو اپنے تابع کیا اور گلگت کا علاقہ پٹے پر ڈوگروں سے لے لیا تاکہ اس علاقے سے روسیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے۔ ہنزہ و نگر کی ریاستیں جو اس وقت کشمیر کے ڈوگروں سے برسرپیکار تھیں، ان کے مقابلے میں ڈوگروں کے ہاتھ مضبوط کئے تاکہ چین اور روس کی عملداری یہاں روکی جائے۔ انگریزوں نے وہاں گلگت اسکاؤٹ تشکیل دی اور ان کی فوجی تربیت کی تاکہ کسی بھی قسم کے حملے کی صورت میں برطانوی مفتوحات کا دفاع کر سکیں، جبکہ بلتستان بدستور ڈوگروں کے قبضے میں تھا۔

جس وقت پاکستان آزاد ہوا تو گلگت اسکاؤٹ میں موجود مسلمان سپاہیوں نے ڈوگروں کے خلاف بغاوت کر دی، اس بغاوت میں مقامی آبادی بھی شامل تھی۔ ان مجاہدین نے اسکردو سے ڈوگرہ ڈپٹی کمشنر گھنسارا سنگھ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا اور کارگل سمیت بدھ علاقے زانسکار تک کا علاقہ فتح کر لیا۔ گلگت میں ایک عبوری حکومت قائم ہوئی اور اس آزاد ریاست نے 16 دن آزادی کے گزارے، اس کے بعد اپنے میلان طبع کے مطابق اس علاقے کے عمائدین نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کر لیا۔ دوسری طرف کشمیر میں پٹھان قبائل گھس گئے اور ایک حصّے پر قبضہ کر لیا جس کو آج آزاد کشمیر کہتے ہیں۔ لیکن آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں فرق یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں مقامی افراد نے ہتھیار اٹھائے اور آزادی حاصل کی جبکہ آزاد کشمیر کو پٹھان قبائل نے ڈوگرہ تسلط سے آزاد کیا تھا۔ یہ ایک الگ قصّہ ہے کہ اس جارحیت کے نتیجے میں مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنے دفاع کے لئے غیر مشروط طور پر کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کر لیا، درآنحالیکہ اس وقت تک مہاراجہ ہری سنگھ نے پاکستان اور ہندوستان میں سے کسی کا انتخاب نہیں کیا تھا، اور کشمیر کی آزاد حیثیت برقرار رکھنا چاہتا تھا۔

قصّہ بہ اینجا رسید کہ پاکستان چاہتا تو اس وقت گلگت بلتستان کو اپنا حصّہ بنا لیتا کیونکہ مقامی آبادی نے خود ڈوگرہ تسلط و استبداد سے آزادی حاصل کی تھی، لیکن ہندوستان کے دباؤ پر پاکستان نے اس علاقے کو متنازعہ تسلیم کر لیا جو پاکستان کی سفارتی غلطیوں کا آغاز تھا۔ تب سے لے کر اب تک گلگت بلتستان کے لوگ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ان کو پاکستان کا آئینی حصّہ قرار دیا جائے لیکن پاکستان بضد ہے کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے۔ دوسری طرف ہندوستان گلگت بلتستان کو متنازعہ نہیں کہتا بلکہ ان علاقوں کو ببانگ دہل اپنا حصّہ قرار دیتا ہے۔ یہ ایک واضح فرق ہے پاکستان اور ہندوستان کی پالیسیوں میں۔

گزشتہ کچھ دنوں سے گلگت بلتستان کے بارے میں حکومت کافی بے چین دکھائی دی کہ کسی طرح اس خطے کی آئینی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے۔ حکومت نے کچھ عرصہ قبل اعلان بھی کیا کہ وہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا چاہتی ہے۔ مجھے کئی لوگوں نے اس اعلان پر لکھنے کا کہا لیکن میں نے اجتناب کیا، کیونکہ مجھے محسوس ہوا کہ صورتحال ویسی نہیں جیسی دکھائی جا رہی ہے۔ موجودہ حکومت پاکستان کی ایکدم بے چینی کی اہم وجہ پاک چائنہ کوریڈور ہے جس پر چین کو تحفظات ہیں کیونکہ اسی متنازعہ علاقے سے یہ کوریڈور گزرے گا۔ یعنی اگر آج گلگت بلتستان پاکستان کا حصّہ نہ رہے تو پاکستان کی کوئی سرحد چین سے نہیں ملتی۔ چین نے خدشات کا اظہار کیا کہ اس کی اتنی بڑی سرمایہ کاری ایسے علاقے سے گزرے گی جو متنازعہ ہے اور جس پر انڈیا کا دعوی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اس معاملے کو سلجھانے میں سنجیدہ تھی۔

یہ بھی پڑھئے:   ماہ رمضان میں بیہودہ رمضان نشریات

یعنی اس سنجیدگی کی وجہ گلگت بلتستان کے عوام سے محبت نہیں بلکہ اپنے مفادات تھے۔ ہماری بھولی بھالی عوام نے یہ تصوّر کر لیا تھا کہ یہ عمران خان کی تبدیلی کا کرشمہ تھا۔ بعض سادہ لوح افراد نے “تبدیلی آئی رے” کا راگ الاپنا بھی شروع کر دیا تھا۔ یہ تاریخ کا مذاق ہے کہ پچھلے ستر سالوں سے گلگت بلتستان کو متنازعہ قرار دے کر آئینی حقوق کو پیروں تلے روندا جا رہا ہے۔ کشمیر کا تنازعہ کبھی حل ہونے والا نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ گلگت بلتستان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے متنازعہ رہے گا اور کبھی اس علاقے کے لوگوں کو حقوق نہیں ملیں گے۔ اس کو متنازعہ قرار دینے کی وجہ کشمیر کاز بتایا جاتا ہے کہ اگر ان علاقوں کو پاکستان اپنا علاقہ مان لے تو ہندوستان کو بھی موقع مل جائے گا۔ اس سلسلے کی ایک بڑی رکاوٹ آزاد کشمیر کی لولی لنگڑی پارلیمنٹ ہے جو قراردادیں منظور کر کے حکومت پاکستان پر پریشر رکھتی ہیں کہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت برقرار رکھی جائے۔

ارے بھئی کس احمق کی جنت میں رہتے ہیں؟ ہندوستان کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ پہلے دن سے قرار دیتا ہے، کشمیر کو چھوڑیے وہ گلگت بلتستان کو بھی اپنا حصّہ قرار دیتا ہے۔ پاک چائنہ کوریڈور پر اس کا اعتراض یہی ہے کہ یہ انڈیا کی سرزمین سے گزرتا ہے، جبکہ آپ اپنے حصّے کو بھی متنازعہ کہہ رہے ہیں؟ کشمیر کی باقاعدہ نمائندگی ہندوستان کے ایوان ہائے بالا و زیریں میں ہے جبکہ کشمیر باقاعدہ ریاست کے طور پر ہندوستان کے آئین میں تسلیم شدہ ہے۔

عجب بلکہ عجیب ترین تو یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے نام نہاد وزیر اعلی حفیظ الرحمان نے ایک بل منظور کروایا جس کی رو سے گلگت بلتستان میں غیر مقامی وہاں کا ڈومیسائل لے سکتے ہیں اور جائیداد خرید سکتے ہیں۔ اگر یہ متنازعہ ہے تو وہاں غیر مقامیوں کو جائیداد خریدنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟ کل یہ اعتراض نہیں اٹھ سکتا کہ پاکستان اس آبادی کی مکس کو تبدیل کر رہا ہے تاکہ کبھی رائے شماری کی صورت میں پاکستان کے حق میں ووٹ لئے جا سکیں؟ کیا یہ کھلی منافقت نہیں ہے؟ دوسری طرف انڈیا اپنے حصّے کے کشمیر میں غیر مقامیوں پر ڈومیسائل لینے اور جائیداد خریدنے پر پابندی لگاتا ہے، درحالیکہ وہ اس کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے۔ گلگت بلتستان کی عوام جائے تو کہاں جائے؟

مجھے اس حوالے سے بہت تشویش ہے کیونکہ آج گلگت بلتستان کی عوام میں جس قدر اضطراب پایا جاتا ہے ماضی میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یہاں کی عوام میں سیاسی سمجھ بوجھ کافی زیادہ ہے اور روز بروز ان کی تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس بات کا مشاہدہ بہت آرام سے کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان سے مکمّل الحاق کے مطالبے میں شدت آتی جا رہی ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ بار بار دروازے بند کرنے کے باوجود یہ لوگ اسی دروازے کو پھر سے کھٹکھٹاتے ہیں، اس حب الوطنی کا صلہ یہ دیا گيا کہ ستر سالوں سے گلگت بلتستان کا مکمّل الحاق پاکستان سے نہ ہو سکا۔

گلگت بلتستان تاریخ کے ایک ایسے مذاق کا شکار ہے جس کا حل مستقبل قریب میں دور دور تک نظر نہیں آتا۔









Views All Time
Views All Time
355
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: