Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

لالٹین کی روشنی

Print Friendly, PDF & Email

“بیٹا یہ ماحول تمہیں شاید برسوں بعد ہی ملے، جیسے مجھے برسوں کے بعد آج نصیب ہوا ہے۔” لالٹین کی مدھم روشنی میں اسٹیل کی پلیٹ سے لکڑی کی آگ میں بنی ہوئی بھنڈی اور تلی ہوئی مچھلی کھاتے ہوئے میں نے اپنے بیٹے سے کہا۔ میں اپنی اہل و عیال کے ساتھ ساحل مکران پر اندھیری رات میں جہاں دور دور تک کوئی روشنی نہیں تھی، ایک ڈھابے میں رات کا کھانا کھا رہا تھا۔ بلوچستان صوبہ وسیع و عریض ہے لیکن اس کی آبادی بہت کم ہے۔ سینکڑوں میل ڈرائیو کریں تب جا کر کہیں قابل ذکر آبادی نظر آتی ہے۔ کہیں کہیں راستے میں ڈھابے نما ریستوران ہیں۔ راستے میں بجلی خال خال ہی نظر آتی ہے۔ اس لئے رات کے اندھیرے میں ڈرائیو کرتے ہوئے غور کرنے پر ہی یہ ڈھابے نظر آتے ہیں۔

ایسے عالم میں جہاں میلوں تک کوئی آدم زاد موجود نہیں، گھپ اندھیرے میں صرف گاڑی کی ہیڈ لائٹس کی روشنی میں گاڑی چلانے کا سرور میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ میری اہلیہ اس اندھیری ڈرائیو میں ڈر کے مارے صلوات کا ورد کرتی جا رہی تھیں، اور میں آس پاس کے ماحول سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ میرے بچے اس اندھیر پرستی سے جلد بور ہو کر پچھلی سیٹ پر سو گئے، اور میں آسمان پر موجود چار سو پھیلے ہوئے ٹمٹماتے ہوئے ستاروں کے سمندر میں کھو گیا۔ معلوم نہیں ان ستاروں نے کتنے لاکھ سال پہلے یہ روشنی چھوڑی ہوگی جو ہم تک اب پہنچ رہی ہے۔ ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی ستارہ مر کر بلیک ہول بن چکا ہو اور میں اس بات سے بے خبر لاکھوں سال پرانی روشنی میں اس کا وجود دیکھ رہا ہوں۔ گویا سب مایا ہے۔ جو دکھتا ہے وہ نہیں ہے، اور جو ہے وہ دکھتا نہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   کوشش سے خدا ملتا ہے

بہت عرصے کے بعد میں نے آسمان پر “دودھی راستہ” (ملکی وے) دیکھا تھا۔ غالبا بچپن میں جب بلتستان میں اپنے دور افتادہ آبائی گاؤں میں، جہاں ہم گرمی کی چھٹیاں گزارنے جایا کرتے تھے، چھت پر سوتے تھے۔ یہ بھلے وقتوں کی بات ہے جب وہاں بجلی نہیں تھی اور لالٹین کی روشنی میں رات کا کچھ سمے بیت جاتا تھا، تب آخری بار آسمان پر پھیلے ہوئے ٹمٹماتے ستاروں کا نظارہ کیا تھا۔ سوتے ہوئے آسمان کی طرف چہرہ ہوتا تھا اور آسمان پر ستاروں کو ٹوٹتے دیکھتا رہتا تھا۔

یہ کیفیت دیکھ کر ڈرائیونگ کے دوران میری نگاہیں آسمان پر زیادہ اور سڑک پر کم ہوتی تھی۔ میں نے اپنے بیٹے زین کو جگا کر آسمان پر ٹمٹماتے ستاروں کی طرف توجہ دلائی جس کو ان چیزوں کا اشتیاق ہے، وہ بھی دم بخود ہو کر آسمان کو تکنے لگا۔

کافی غور کرنے پر ایک ڈھابہ نظر آیا اور وہیں گاڑی روکی۔ پورے ڈھابے میں کوئی بجلی نہیں تھی، فقط لالٹین کی روشنی تھی، اور آس پاس کوئی آبادی نہیں تھی نجانے ڈھابے کا وہ مکرانی بابا کہاں سے آیا تھا جس نے لکڑی سے جلتی ہوئی آگ میں ہمارے لئے بھنڈی اور دال بنائی، اور مچھلی تلی۔ یہ بابا اردو بھی صحیح سے نہیں بول پا رہا تھا۔ لیکن اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے کھانوں کا اپنا ہی سواد تھا۔ میرے آل و عیال نے بہت شوق سے وہ لذیذ کھانا کھایا، بقول اہلیہ ایسا کھانا تو ہم نے کبھی فائیو سٹار میں بھی نہیں کھایا۔

یہ بھی پڑھئے:   رمضان ٹرانسمیشن (حاشیے) | مجتبیٰ حیدر شیرازی

عین اس وقت جب کھانے کا سواد اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا، میں گرد و پیش کے خوبصورت ماحول کو فراموش نہ کر سکا۔ میرے لئے آس پاس پراسرار اندھیرے میں ہی خوبصورتی تھی، اور جب لوٹا لے کر بیابان میں رات کے گھپ اندھیرے میں استنجا کرنے گیا تو اہلیہ دور سے پکار اٹھیں کہ زیادہ دور مت جائیے گا، لیکن میں خراماں خراماں جتنا ممکن ہو سکا دور گیا۔

زمانے کی ترقی نے ہمیں فطرت کے حسن سے دور کر دیا ہے، شاید کچھ سالوں میں یہ سب معدوم ہوتا چلا جائے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دور دراز علاقوں میں ترقی تبھی متصوّر ہوتی ہے جب وہاں بجلی آئے اور چار سو پلاسٹک کے بیگز اور سوفٹ ڈرنکس کی بوتلوں کا گند پھیل جائے۔ میں اس کو ترقّی نہیں تنزّلی سمجھتا ہوں۔

Views All Time
Views All Time
291
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: