Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ایرانی اہل سنت اور مذہبی آزادی حصہ دوئم

Print Friendly, PDF & Email

ادریس یوسف آبادی کا کہنا تھا مولانا عبدالحمید نے ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامناٸی کو خط میں اہل سنت اور بالخصوص بلوچ نوجوانوں سے امتیازی رویہ بارے شکایات کیں جس کا جواب خط و کتابت کی بجاۓ عوامی طور پر دے کر ہمیں مطمٸن کیا گیا۔ ملکی قوانین کی پاسداری ہمارا فرض ہے اور حکومت ایران کی طرف سے طے کیے گئے معیارات بھی ہر شہری کو برابری کی بنیاد پر پورے کرنے ہوتے ہیں۔

ادریس کا کہنا تھا کہ میں خود مزید تعلیم کے لیے پاکستان جانا چاہتا ہوں مگر میرے لیے پاسپورٹ کے حصول کے لیے ملکی قوانین آڑے ہیں۔ میرے استفسار پر بتایا کہ ایران میں شہری سہولتوں، سرکاری ملازمت اور کسی دوسرے ملک میں سفری سہولت کے لیے پاسپورٹ بنوانا ہو تو دو سال سپاہ ایران میں اپنی خدمات دینا ضروری ہوتا ہے اور یہی میرے پاسپورٹ کے حصول کے لیے فی الحال بڑی مشکل ہے۔ مگر ہم اسے امتیازی رویہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ بلا امتیاز قومیت، مذہب اور مسلک کے ہر ایرانی نوجوان کو شہری سہولتیں لینے کے لیے اس ضروری عمل سے گذرنا ہوتا ہے۔ زہدان میں ایران کے باقی شہروں کی نسبت اہل سنت کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور سارے ہی حنفی دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ شاہ ایران کے دور میں بلوچستان و سیستان، کردستان اور لورستان انتہاٸ پسماندہ صوبے تھے۔ جن میں بلوچستان و سیستان اور کردستان میں اہل سنت زیادہ آباد ہیں۔ انقلاب ایران کے بعد ان دو صوبوں کی ترقی اور سہولیات کے لیے بہتر اقدامات کیے گئے۔ زہدان شہر میں تین یونیورسٹیاں ہیں اور میڈیکل کالج بھی ہے۔

شہر میں انڈسٹریل سٹیٹ کا قیام بھی انقلاب کے بعد عمل میں لایا گیا۔ میرے پاس وقت کم تھا اس لیے ہسپتال نہیں دیکھ سکا مگر عوامی رائے یہی تھی کہ صحت سے متعلق سہولتیں معیاری ہیں۔ شہر کشادہ اور خوبصورت ہے صفاٸ کا انتظام بہترین ہے۔ اور سڑکوں اور چوراہوں کے نام انقلاب اسلامی کے ہیروز کے علاوہ اہل سنت علمإ، اہل بیت ع، صحابہ کرام اور جنگ کے مقامی شہدا کے نام سے منسوب کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ملکی دفاع کے لیے بلوچستان و سیستان کے نوجوانوں کی قربانیاں بھی قابل ستاٸش ہیں۔ ایران عراق جنگ میں بلوچستان و سیستان کے ١٦٤٠ جوان شہید ہوئے۔ ان تمام شہدإ کے قبریں قبرستانِ شہدإ میں ہیں جہاں بلا امتیاز سرکاری اہلکار اور حکومتی عہدیدار حاضری دیتے ہیں۔ ایران میں سب سے حساس ادارہ سپاہ پاسداران انقلاب سمجھا جاتا ہے۔ مجھے اصفہان اور کرمانشاہ میں پاسداران کے اہل سنت نوجوان سپاہی ملے۔ اور میں نے ان کے ساتھ تصویریں بھی بنواٸیں۔ بغیر کسی مسلکی یا قومیت کی شناخت کے انہیں ایرانی قوم ہونے پر متحد پایا۔

یہ بھی پڑھئے:   میر مرتضٰی کی یاد میں

شیراز میں شاہ چراغ کے مزار، اصفہان کی مسجد لطف اللہ اور یزد کے قدیمی بازار میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے اہل سنت برادران کو آزادی سے نماز پڑہتے دیکھا۔ ایرانی بغیر کسی توجہ کے اپنی عبادات میں مشغول تھے۔ مگر مجھے حیرت تب ہوٸی جب پاکستان بارڈر کے قریب میرجاوہ شہر کی مسجد و مدرسہ اہل حدیث میں نماز پڑھنے گیا اور ہاتھ کھول کر نماز شروع کی تو قرآن پڑھتے بچے میرے ارد گرد جمع ہو گئے (ایسا ایک بار لکی مروت کی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے بھی میرے ساتھ ہوا)۔ نماز ختم کرنے کے بعد بچوں نے بلوچی زبان میں کچھ سوالات کیے جو میری سمجھ میں نہیں آئے اور ان کا استاد جھڑک کر انہیں مدرسہ کی طرف لے گیا۔ کرمانشاہ ایران عراق بارڈر پر ایک قدیم تاریخی صوبہ ہے۔ یہاں زیادہ تر کرد آباد ہیں۔ اور مسلکی لحاظ سے یہاں کی تقریباً چالیس فی صد آبادی شافعی مسلک کے اہل سنت پر مشتمل ہے۔ ایران عراق جنگ میں قریب ترین ہونے کی وجہ سے اس صوبہ کے شہر سب سے زیادہ تباہی کا شکار ہوئے۔ میں ھمدان کے شہر علی صدر اور اسد آباد سے ہوتا ہوا کرمانشاہ صوبہ کے صدر مقام کرمانشاہ شہر پہنچا۔ میدان آزادی کے قریب خداۓ داد کردی کا آزادی ہوٹل تھا۔ اسی ہوٹل میں میری رہاٸش تھی اور خداۓ داد خود اہل سنت شافعی مسلک سے تعلق رکھتا تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ میں پاکستانی ہوں تو بولا پاکستانی اہل سنت ہمارے بھاٸ اور بازو ہیں۔ آپ حنفی ہیں یا شافعی۔ ؟ میں نے موقع کی مناسبت سے جھٹ کہا کہ میں حنفی مسلمان ہوں۔ خدائے داد کاٶنٹر چھوڑ کر مجھے گلے ملا اور کمرے کے کرایہ میں بیس ہزار تومان کی رعایت کی۔ فریش ہو کر میں واپس آیا تو ہم نے چاۓ اکھٹی پی۔ اس کے بعد ہم مغرب کی نماز کے لیے مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں خدائے داد سے ملنے والے ہم مسلک حال احوال پوچھتے مجھے گلے لگاتے برادر من برادر من کہتے اپنی راہ لیتے۔ ان میں اکثر کاروباری تھے کچھ سرکاری ملازم اور پراٸیویٹ اداروں میں کام کرت تھے۔ مسجد محمد رسول اللہ ﷺ ایک بڑی مسجد تھی۔ مگر نمازی سو ڈیڑھ سو کے قریب ہوں گے۔ نماز باجماعت کے بعد اکثر نمازی داٸرے کی شکل میں بیٹھ کر فارسی یا کردی زبان میں ایک دوسرے سے گفتگو میں مشغول ہو گئے جبکہ نۓ آنے والے نمازی دس بارہ اکھٹے ہو کر باجماعت نماز بھی پڑھتے رہے۔ واپسی پر میں نے ایران میں پہلی بار پاکستانی طرز کے نام دیکھے جیسے اسلامی ریستوران، مکی ہوٹل اور اسلامی جوجہ کباب۔ کرمانشاہ کی قدیم مسجد امام شافعی کی تفصیلات اگلی قسط میں پڑہیں۔

Views All Time
Views All Time
457
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: