باغِ شہزادہ، ہامان کے صحرا میں جنت

Print Friendly, PDF & Email

بم سے کرمان جانا تھا۔ اکبر انگلیسی کو خدا حافظ کہا اور گیسٹ ہاٶس کے باہر کھڑی ٹیکسی پر وہاں پہنچا جہاں کرمان کے لیے ٹیکسی ملتی تھی۔ میرے پاس موجود گاٸیڈ بک میں باغ ایران ہامان کی بجائے کرمان میں لکھا تھا۔ کرمان کے لیے ٹیکسی پکڑی، فرنٹ سیٹ پر ایک نوجوان خاتون دو بچوں سمیت سوار تھی۔ پیچھے میرے ساتھ دو لڑکے بیٹھے تھے۔ سب خاموش طبیعت کے تھے تو میں بھی خاموش رہا۔ کرمان بم سے دو سو بیس کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ ایک گھنٹہ کی ڈراٸیو کے بعد ایک چھوٹے سے سٹیشن پر ٹیکسی روکی گٸی۔

ساتھ ہی بہت خوبصورت مسجد تھی۔ میں نماز کے لیے اندر گیا تو وہاں کچھ نوجوان مرد و خواتین ذہنی طور پر معذور بچوں کو نماز کی تربیت دے رہے تھے۔ ان کا سکھانے کا انداز اور بچوں سے پیار و محبت نے مجھے بہت متاثر کیا۔ نماز کے بعد ہم پھر کرمان کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچے تو ڈراٸیور نے پوچھا آگے کہاں جانا ہے۔ ؟ میں نے باغ ایران کا بتایا لیکن وہ سمجھ نہیں سکا میرے تصویر دکھانے کے بعد وہ مجھے باغ شہزادہ کی بجاۓ باغ فتح محمد لے گیا۔ راستے میں وہ میرے ساتھ اب کھل کر بات کر رہا تھا کلین شیف اور ہونٹ کے نیچے سول پیچ سجاۓ نوجوان جنرل قاسم سلیمانی، سید علی خامناٸ اور انقلابِ اسلامی کا دیوانہ تھا۔ باغ فتح محمد پہنچ کر پتہ چلا میں غلط جگہ پہنچا ھوں۔ (باغ فتح محمد کی تفصیل کرمان شہر کے ساتھ لکھوں گا)۔

وہاں سے ٹیکسی پکڑی اور آدھے گھنٹے کی ڈراٸیو کے بعد ہامان اور پھر باغ شہزادہ یا باغ ایران پہنچا۔ باغ ایران ہامان کے صحرا میں واقعی ایک جنت ہے۔ جسے محمد حسن خان قاجار کے لیے ١٨٥٠ میں تعمیر کیا گیا۔ اس کے بعد ١٨٧٠ میں عبد الحمید مرزا ناصر الدولہ نے اس کی توسیع کی۔ یہ یونیسکو کے تاریخی اثاثوں کی فہرست میں موجود ہے۔ صدر دروازے سے داخل ہوں تو تین چار نالے مل کر ایک نہر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں نہر آگے مشرق کی طرف چلی جاتی ہے اور دونوں کناروں پر قطار کے ساتھ درخت لگے ہیں درختوں اور نہر کے درمیان فٹ پاتھ سی بنی ہے۔ جس پر ایرانی فیمیلیز کپڑے بچھاۓ گپ شپ کر رہے ہیں کچھ لیٹے ہیں اور کچھ صحرا کی گرمی سے تنگ ٹھنڈے ماحول میں نیند کے مزے لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ایدھی بہت علیل ہے لیکن وطن میں ہے

یہاں کوٸی کسی اور کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ہر ایک اپنی فیملی کے ساتھ مگن ہے۔ عورتیں بھی زمین پر کپڑے بچھا پڑئے ہیں اورمرد بھی۔ بہت سے خاندان بالکل ساتھ ساتھ ہی ڈیرہ جمائے ہوتے ہیں لیکن دوسروں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ ان چھوٹے نالوں کے درمیان پتھر کاٹ کر فرش بنا دیا گیا ہے جو آبشاروں کے لیے موجود دروازے کے ساتھ ملتا ہے۔ یہاں اندر داخلے کے لیے بیس ہزار تومان جو پاکستانی اڑھاٸی سو بنتے ہیں کا ٹکٹ ملا۔ اس دروازے سے داخل ہوتے ہی سامنے ایک نہر کی مانند تالاب ہے۔ جس کے درمیان میں تین فواروں سے پانی نکل رہا ہے۔ دونوں اطراف میں قطار میں لگے گملوں میں پھول ہیں اور ساتھ کیاریاں بھی بنی ہیں جس میں سبزہ اور مختلف اقسام کے موسمی پھول لگے ہیں۔

اوپر کافی بلندی پر ایک خوبصورت اور بڑی عمارت ہے۔ عمارت سے گیٹ کی طرف تقریباً تین سو میٹر کا فاصلہ ایک قدرتی ڈھلوان کی شکل میں ہے۔ جسے دس حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصے پر ڈھلوان سے نیچے پانچ فٹ کی آبشار بنا دی گٸی ھے اور ہر حصہ میں سامنے ویسی ہی تالاب نما نہر اور پھولوں کی کیاریاں بنی ہیں۔ دروازے میں کھڑے ہو کر اوپر عمارت کی طرف دیکھیں یا عمارت کے سامنے کھڑے ہو کر نیچے دروازہ کی طرف دیکھیں یہ دس آبشاریں اور تالاب انسان کا دل موہ لیتے ہیں۔ اوپر عمارت تک آبشاروں اور نہر کے دونوں کناروں کے ساتھ پتھر کا فرش ہے اور ہر آبشار کے لیے بنی گٸی ڈھلوان کی انچاٸی پر چڑھنے کے لیے سیڑھیاں بنا دی گٸ ہیں۔ جبکہ بزرگوں اور معذروں کے لیے الگ سے ڈھلوان سی بنی ہے۔ دونوں اطراف میں چیڑھ، پاٸن، ایل ایم اور مختلف پھلوں کے بلند و بالا اور گھنے درخت موجود ہیں۔ جو واقعی جنت کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ آٸیے عمارت کی طرف چلتے ہیں۔ یہ عمارت قدیم اور جدید ایرانی طرز تعمیر کا شاہکار ہے۔ صدر دروازہ اور ساتھ کی دیواروں پر دیدہ زیب کاشی کاری کا کام کیا ھوا ہے۔ صدر دروازہ پر دونوں اطراف دو دو ستون لگے ہیں۔ اور دروازہ اوپر گولاٸی میں موڑ دیا گیا ہے۔ یہ عمارت دو منزلہ ہے اور نہر اسکے دونوں اطراف سے گھوم کر آبشار بناتی ہوئی نیچے دروازے کی طرف چلی جاتی ہے۔ جبکہ اسی عمارت کے دونوں اطرف میں کمرے بنے ہیں جسے نماز، میوزیم، شاپ اور کھانے پینے کے ڈھابوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ عمارت کا نچلا حصہ ریستوران کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور اوپر کے حصہ ہوٹل بنا دیا گیا ہے۔ ریستوران اور ہوٹل کے کمروں میں قدیم شاہی انداز کو برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   مڈل ایسٹ میں لگی آگ کیسے بجھائی جاسکتی ہے؟ |محمد عامر حسینی

اور یہاں کھانا کھاتے یا کمروں میں اٹھتے بیٹھتے انسان خود کو واقعی شہزادہ سمجھنے لگتا ہے۔ میرا دل بھی چاہ رہا تھا کہ میں بھی ایک دن یہاں رک کر شاہی انداز کے مزے لے سکوں لیکن مجھے اپنا ٹوور لمیٹڈ بجٹ میں مکمل کرنا ہے اس لیے دل چاہتے ہوۓ بھی میں وھاں رات کے لیے نہیں رک سکا اور انہیں راستوں سے ہوتا ہوا باہر نکل آیا۔

Views All Time
Views All Time
347
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: