Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

“کشمیر کی کہانی، قتل 68 ہزار، لاپتہ 10 ہزار”

Print Friendly, PDF & Email

نوٹ: ارون دھتی رائے کے دوسرے ناول “لامتناہی مسرت کا باغ” کے تیسرے باب “مقامیت” کے ایک حصّے کا ترجمہ ہے۔ اس ناول کا مکمل ترجمہ عامر حسینی نے کیا ہے جو عکس پبلیکیشنز لاہور سے شائع ہو گا۔ فروری کے پہلے ہفتے میں پاکستان میں کشمیر بارے بہت بحث مباحثہ ہوتا ہے۔ ارون دھتی رائے اس معاملے کو ہمیں ایک اور زارہ نگاہ سے دکھاتی ہیں۔ کشمیری عورتیں کیا مانگنے دہلی پہنچیں؟ یہ سوال ہمیں پاکستان میں جبری طور پہ لاپتا ہونے والوں کی وارث عورتوں کی کہانی کو سمجھنے میں مدد دے گا۔

ٹوائلٹ کے بالکل مخالف سمت میں ٹی وی کریو کی پشت پہ روڈ کے ایک تھوڑا پرے ( مگر نظریاتی طور پہ بہت فاصلے پہ) سڑک کنارے بنے فرش پہ جسے باڈر کہا جاتا تھا منی پور نییشنلسٹ آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کے خاتمے کی مانگ کر رہے تھے جو کہ محض شک پہ کسی کو بھی مارنے کا اختیار ہندوستانی آرمی کو دیتا تھا۔ تبت کے پناہ گزین آزاد تبت کی مانگ کر رہے تھے۔ تنظیم برائے مادران جبری گمشدگان (جن کو عمومی طور پہ سب سے زیادہ خطرنک خیال کیا جاتا تھا) جن کے بچے آزادی کشمیر کی جنگ کے دوران ہزاروں کی تعداد میں لاپتا ہوگئے تھے( جاسوسوں کو ایک ساؤنڈ ٹریک لگانا پڑا جو کہ ہائے مام، ہائے مام، ہائے مام کی گردان کر رہا تھا۔ تاہم جبری گمشدگان کی ماؤں نے اس سے کوئی اثر نہیں لیا کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ وہ خود ماج (کشمیری میں ماں کو کہتے ہیں) ہیں ناکہ مام )۔ ان کی تنظیم کا اس مہا دارالحکومت کا یہ پہلا دورہ تھا۔ وہ سب صرف مائیں نہیں تھیں بلکہ بیویاں، بہنیں اور چند ایک کم عمر نوجوان بچیاں تھیں ان جبری گمشدگان کی جو یہاں آئی تھیں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس اس کے لاپتا بیٹے، بھائی یا شوہر کی تصویر تھی۔ ان کے بینر پہ لکھا تھا “کشمیر کی کہانی، قتل 68 ہزار، لاپتا 10 ہزار”۔
Is this Democracy or Demon Crazy ?
کیا یہ ڈیموکریسی ہے یا ڈیمان کریزی (شیطان کی دیوانگی)؟

کوئی ٹی وی کیمرہ اس بینر کو نہیں دکھا رہا تھا، غلطی سے بھی نہیں۔ ان میں سے اکثر دوسری جدوجہد آزادی کی کوریج کرنے میں مصروف تھے ان کو کشمیر کی آزادی کا تصور ایک غصے اور برہمی کے سوا کچھ نہیں محسوس ہوتا تھا اور ان کو یہ کشمیری عورتوں کی گستاخی لگ رہی تھی۔ بھوپال گیس اخراج کی متاثرین کی طرح ان میں سے کچھ مائیں قدرے اکتائی اور تھکی ماندی لگ رہی تھیں۔ انٹرنیشنل سپر مارکیٹوں میں انہوں نے بے شمار میٹنگ اور ٹرائبیونل میں اپنے دکھ کی دوسرے کئی ملکوں کے جنگی جرائم کے متاثرین کے ساتھ کہانیاں بیان کی تھیں۔خوف ناک ڈر جو کہ بڑھ کر ایک سخت خول میں بدل چکا تھا۔ وہ اکثر عوام کے سامنے رو پڑتی تھیں اور اس کا کچھ نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ دہلی آنے کا تجربہ ایک ناخوش تجربہ اس ایسوی ایشن کے لیے بن چکا تھا۔ دوپہر کو سڑک کنارے ہونے والی پریس کانفرنسں کے دوران ان کو درمیان میں بار بار ٹوکا اور دھمکایا گیا تب پولیس کو مداخلت کرنا پڑی اور ماؤں کے گرد حصار بنانا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   جنرل راحیل شریف کی خدمات پر ایک نظر - بنتِ لیاقت

مسلم دہشت گرد کسی بھی انسانی حقوق کے قابل نہیں ہیں گجرات کے لالہ کے خود کو چھپائے ہوئے جانثار چلا کر کہتے تھے۔ ہم نے تمہاری جانب سے نسل کشی دیکھی ہے۔ ہم نے تمہاری طرف سے نسلی صفائی کا سامنا کیا ہے۔ ہمارے لوگ 20 سال سے مہاجر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ بعض نوجوان مرد مردہ اور لاپتا کشمریوں کی تصویروں پہ تھوک دیتے تھے۔ نسل کشی اور نسلی صفائی جس کا وہ حوالہ دے رہے تھے بڑی تعداد میں کشمیر وادی سے کشمیری پنڈتوں کا اس وقت کشمیر سے نکلنے پہ مجبور ہونا تھا جب 1990ء میں تحریک آزادی عسکریت پسندی میں بدل گئی اور بعض عسکریت پسندوں نے چھوٹی سی ہندو آبادی کی طرف عسکریت پسندی کو موڑ دیا تھا۔ کئی سو ہندو خوف ناک طریقے سے مار ڈالے گئے اور جب حکومت نے یہ اعلان کیا کہ وہ ان کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتی تو قریب قریب ساری کشمیری ہندو آبادی، فریب دو لاکھ لوگ وادی سے فرار ہوگئے تھے اور جموں کے میدانوں میں بنے کیمپوں میں پناہ گزین ہونے پہ مجبور ہوئے۔ جہاں ان میں سے اب بھی بہت سے رہ رہے تھے۔ لالہ کے چند جانثار اس دن کچھ کشمیری ہندو تھے جو اپنا خاندان اور سب کچھ لٹا بیٹھے تھے۔

شاید ان ماؤں کے لیے تھوکنے والوں سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ان تین خوب صورت گروم ہوئی پنسل کی طرح دبلی پتلی کالج جانے والی لڑکیوں کا ردعمل تھا جو کناٹ پیل سے گزر کر صبح سویرے جارہی تھیں۔ اوہ واؤ کشمیر! کیا مزا ہے ظاہر ہے اب وہاں پہ حالات نارمل ہوچکے، سیاحوں کے لیے کشمیر محفوظ ہوچکا۔کیا وہاں جایا نہ جائے؟یہ ساکت کردینے والی بات تھی۔ ماؤں کی ایسویسی ایشن نے رات کسی نہ کسی طور گزار کر کبھی دہلی نہ آنے کے لیے لوٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ باہر گلیوں میں سونے کا تجربہ ان کے لیے نیا تھا۔ پیچھے وہاں ان کے خوب صورت گھر اور کچن گارڈن تھے۔اس رات ان کو گھٹیا کھانا ملا(یہ بھی نیا تجربہ تھا)۔ انہوں نے اپنے بینر سمیٹے، دن ہونے کا انتظار کرتے اور واپس اپنی خوب صورت جنگ زدہ وادی کی جانب سفر کے شروع ہونے کا انتظار کرتے تھک کر وہ سو گئیں۔

یہ بھی پڑھئے:   شام کا المیہ : سعودی عرب کو جواب دہ بنانا ہوگا

جبری گمشدگان کی مائیں جہاں تھیں اس سے کچھ فاصلے پہ آگے ہمارا خاموش بے بی ظاہر ہوا تھا۔ ماؤں کو تھوڑی دیر لگی اس پہ توجہ دینے میں کیوں کہ اس کا رنگ رات کی طرح تھا۔ اسریٹ لائٹ میں سایوں کے اندر وہ غائب غائب سی تھی۔ 20 سالوں میں محاصروں، محاصرہ و تلاشی پہ مبنی آپریشنز اور آدھی رات کو دروازوں کے کھٹکائے جانے (آپریشن ٹائیگر ،آپریشن سرپینٹ ڈسٹرکشن ،آپریشن کیچ اینڈ کل) کے اندر زندگی گزارنے نے ماؤں کو تاریکی کو پڑھنا سکھادیا تھا۔ لیکن جب معاملہ بچوں کا ہو، تو صرف وہ ایسی نظر سے کام لیتی تھیں جیسے بادام کے درخت کے شگوفوں کو سیب گالوں کے ساتھ دیکھتی تھیں۔
جو بے بی ظاہر ہوا تھا ماؤں کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا کریں۔

خاص طور پہ سیاہ نہیں
بہت ہی زیادہ سیاہ کال
خاص طور پہ ایک سیاہ لڑکی نہیں
بہت ہی سیاہ کال خود کلامی
خاص طور پہ گند میں لپٹی ہوئی نہیں
شکستہ بچی

نوٹ: کرہوں کشمیری زبان کا لفظ ہے اس کا مطلب خوب کالا ہوتا ہے۔ ہش کا مطلب کشمیری زبان میں خود کلامی ہوتا ہے ۔شیکاس کا ایک مطلب تو شکستگی، شکست، فریکچر ہوتا ہے اور یہاں یہی مراد ہے۔ لڈھا کا مطلب بچہ ہوتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
581
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: