Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

پشاور میں جاری دھرنے سے منظور پشتین کے خطاب سے چند اہم نکات

Print Friendly, PDF & Email

وزیرستان میں طالبان کو پروٹوکول کیساتھ دوبارہ لایا جارہاہے۔ اگر دہشتگردی ریاست کی پالیسی مجبوری ہے تو بیشک ان کے لیے ماڈل ٹاؤن بنائےلیکن ہم ان کی آبادکاری کے لیے پشتونوں کی سرزمین دوبارہ استعمال نہیں کرنے دیں گے اور اس کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

فوج ہمارے خون پر اب تک اربوں ڈالر کا کاروبار کرچکی ہے۔ اب چونکہ ہم نے ان کے کاروبار کا راستہ روک دیاہے تو انہوں نے پہلے مرغی اور انڈوں کے ذریعے، پھر بیرونی امداد کی بھیک مانگ کر، اور آخر میں کراچی کے سمندر سے تیل نکلنے کی امید کے سہارے اپنی معیشت بچانے کی ناکام کوشش کی۔۔۔
ان کوششوں میں ناکامی کے نتیجے میں اب وہ دوبارہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ شاید پشتونوں کے خون کے منافع بخش کاروبار کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ ہے ہی نہیں۔اس لیے اب ہم سن اور دیکھ رہے ہیں کہ طالبان دوبارہ قبائلی علاقوں میں نمودار ہونا شروع ہو رہے ہیں۔

آخر یہ طالبان دہشت گرد کہاں سے نازل ہونا شروع ہورہے ہیں؟ سارا علاقہ تو فوج کے قبضے میں ہے، بارڈر کو آپ نے سیل کیا ہوا ہے، ہر جگہ اور ہر راستے پر آپ کی 950 نئے بنائے گئے قلعے اور چک پوسٹیں ہیں۔ آخر یہ لوگ کہاں سے آرہے ہیں۔۔۔

ہمیں ان کے ارادوں کا علم ہے۔پہلے وہ ہم پر دہشت گردوں کو مسلط کروا کر ہمیں دوبارہ قتل کیا جائے گا، پھر ہمیں اُن سے جاں خلاصی کے لیے فوج کو بلانے پر مجبور کیا جائےگا۔ اور فوج آکر ہمیں پھر قتل کرے گی اور اس طرح سے ہمارے خون سے ان کا کاروبار چلتا رہےگا۔
‏تم نے ہمارے ساتھیوں کو خریدنے کی ہر کوششیں کرلیں۔ چونکہ وہ بکے نہیں تو تم نے ان پر غداری کے الزام لگادیا۔ ہم پر را اور این ڈی ایس کے ہاتھوں بکنے کا الزام ہے۔ آپ ذرا دوگنی بولی لگا کر دیکھ لیں کہ کیا ہم بک سکتے ہیں؟ بکنے والے پشتون وہ دلال ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں

یہ بھی پڑھئے:   کیا تم جانتے ہو کون تھا یہ مرد جری؟

‏پشتو کی کہاوت ہے “ہم نہیں کہتے کہ تم چور ہو لیکن تم جب بھی ہمارے گھر آتے ہو ہماری چوری ہوجاتی ہے”۔ ہم کہتے ہیں کہ تمہاری معاشی ترقی اُسی وقت ہوتی ہے جب ہمارا خون بہنا شروع ہوجاتا ہے۔
‏ڈالروں کے عوض تو تم نے اپنے وطن، عزت اور ناموس کو بیچا، ہم نے نہیں۔ اس لیے تمہیں لگتا ہے کہ ہر کوئی تمہاری طرح بکاؤ مال ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ فوجی دہشت گردوں کے ہاتھوں مرے ہیں۔ مان لیا۔لیکن دہشت گردوں کو کس نے بنایا؟ کیا وہ کرنل امام کے شاگرد نہیں،کیا وہ جنرل حمید گل کے دل کے ٹکڑے اور مشرف کے ہیروز نہیں تھے؟ اگر تمہارے فوجی تمہارے ہی پالیسیوں کے ہاتھوں مرے تو ہم سے کیا شکوہ؟

تمہاری پالیسیوں کے نتیجے میں ہمارا جو خون بہا ہم اس کا حساب کس سے مانگیں؟ تم اگر مرے تو کم از کم اس کا معاوضہ تو وصول کیا، ہمیں کیا ملا؟ تمہارے جرنیل تو اپنے ہی فوجیوں کو مروا کر ان کی شہادت کا کارڈ اپنے آپ کو احتساب سے بچانے کےلیے استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں کیا ملا؟

آج تک جتنے فوجی بھی مرے ہیں ان کو فوج ہی کی پالیسیوں کی خاطر قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ اور آج انہی کی موت کو فوج ہم پر کیش کرتی ہے۔ ان کی موت کسی کرنیل،میجر یا جرنیل کی انفرادی فیصلے نہیں بلکہ فوج کی منظم پالیسی کا نتیجہ تھی۔اس لیے فوجیوں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں موت ہم پر مت بیچو۔

Views All Time
Views All Time
609
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: