Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

سجود قلم در بارگاہ مولود حرم

Print Friendly, PDF & Email

ماہ رجب اعراب جاہلیت کے دور میں بھی چار حرام مہینوں میں سے ایک تھا کہ عرب کے خردمند اس میں جنگ کو حرام جانتے تھے۔
زاویہ افق پر طلوع ہلال رجب ہوتے ساتھ ہی تلواریں نیاموں میں چلی گئیں، تیر چلّوں سے جدا ہوئے اور ترکش چھپا دیے گئے۔۔۔ جنگجوؤں کی صدائیں، جنگ کے نقارے اور گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنائی دینا بند ہو گئیں۔ اور وہ عرب جن کا پسندیدہ مشغلہ کسی بھی ناچیز مسئلے پر تلوار تان لینا، حملے کرنا، علاقے تاراج کر دینا، کشت و کشتار کا میدان سجانا اور خونریزی کا بازار گرم رکھنا تھا اس ماہ میں اپنے اپنے گھروں میں آرام کے بستر پر سکون کے تکیے لگا کر بیٹھ گئے۔

مگر شب و روز تو کسی اور ہی مرقع جلال و جمال کے منتظر تھے، سر زمین مکہ کچھ الگ ہی چاہتی تھی۔ پردہ غیب کے پس پشت آستانہ تکوین میں کوئی اور ہی نقشہ کھینچا جا چکا تھا۔ خدائے عظیم جس کی ذات میں نسیان کو ہرگز دخل نہیں نے ارادہ فرمایا انسانی معاشرے پر ایک احسان عظیم فرما کر ایک انقلاب عظیم برپا کر دے تاکہ یہ جھوٹے صنم منہ کے بل خاک عزلت پر ناک رگڑتے دکھائی دیں، بے گناہ گردنوں سے لہو کے فوارے چھوٹنا بند ہوں، شکم کے حجم حرام سے بڑھنا تھمیں اور انسان انسانیت کی معراج پا کر فروغ عبدیت سے روشناس ہو۔

ایک مرد ممدوح و امین حسن و جمیل کتابی چہرے، موزوں قامت کے ساتھ دلربا چال سے چلتا ہوا ہر روز کعبے آتا اور مقام ابراہیم کی طرف آ کر بیٹھ جاتا۔ گرچہ عین عالم شباب میں تھا لیکن قیافے سے عظمت و متانت کے آثار مترشح تھے۔ یہ ہمیشہ کسی فکر عمیق میں رہتا اور اپنے صفائے باطن کی وجہ سے ایک سنگین و ثقیل مگر بابرکت ہدف کو نظر میں جمائے رہتا۔ اس عظیم و نابغہ شخص کے مغز مفکر میں بجلیاں کوندتی رہتیں اور وہاں صاعقے روشنیاں بکھیرے رہتے۔۔۔
یہ در یتیم خلقت کعبے پر نظریں جمائے ایک ملیح انتظار میں تھا۔
تیرہ رجب تھی، آفتاب پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اور اپنی حیات بخش کرنیں زمین و اہل زمین پر نچاور کر رہا تھا۔ ہر جگہ آرام و سکون اور ہر چیز خاموش و ساکت۔۔۔

کارخانہ قدرت ایک موجود میں خلاصہ ہونے کو دیدے کھولے ملتمسانہ صورت کے ساتھ ایک مولود کو خوش آمدید کہنے کی بےچینی کی چاشنی سہہ رہا تھا۔ کہ اچانک ایک باوقار و باشرم بی بی اپنے گھر سے خانہ خدا کی جانب کرب کی کیفیت میں بڑی متانت سے قدم جماتے ہوئے چلی آتی دکھائی دی۔ سر سے پیر تک بدن چادر میں ڈھکا ہوا چلنے کے انداز میں عفت و شرافت گھلی ہوئی، کعبے کے نزدیک آتے ہی غلاف کعبہ کو تھاما اور توسل کیا تاکہ اپنے گوہر مقصود کو خدائے مطلوب زمین و زماں سے حاصل کرے۔ ناگاہ انہوں نے دیکھا جو جوار کعبہ میں بیٹھے تھے دیوار کعبہ شق ہوئی اور کعبے نے اس معظمہ کو اپنی آغوش میں لے لیا اور ساتھ ہی فورا اپنی پرانی حالت پر پلٹ گئی۔

کعبے میں کیا گزرا خدا جانے لیکن تین روز کے بعد جب مکے کے باسی حیرت و عجب کے سمندر میں غوطے کھاتے پھرتے تھے یہ بانوئے معظمہ پھر دیوار کعبہ سے برآمد ہوئی اور اب اس کی آغوش میں ایک متبسم غنچہ تجلی نور بنا درخشاں تھا۔ یہ نوزاد آغوش مادر میں ستارہ ناہید کی طرح چمک رہا تھا، آنکھوں کو نور خورشید کی طرح خیرہ کر رہا تھا اور نور مہتاب کی طرح سرور کا باعث بھی بنتا چلا جاتا تھا۔ مکے کے باسی گھروں سے نکل کھڑا ہوئے اور مکے کے پہاڑوں کے بیچا بیچ اس منظر کو دیکھنے کے لیے آ موجود ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے:   جازبہ و دافعہ علیؑ | سید منہاج علی

وہ پرہیزگار و نابغہ شخص جس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا چلا تھا اپنے گھر سے اٹھا اور شتابی کے ساتھ وہاں پہنچ گیا جہاں ہر ایک دوسرے سے پہلے پہنچنے کی تگ و دو میں تھا۔ جاتے ہی باہیں پھیلا دیں، مولود ہمک کر آغوش رسالت میں آ گیا، آنکھیں کھولیں، دیدار یار ہوا اور لبوں کی کلی تبسم کی شبنم سے چٹک کر کھل اٹھی۔ خلاصہ خلقت نے مظہر ولایت کو اپنے سینے سے چمٹا لیا، اپنی زبان کو داخل دہن کیا، وہ زبان جو کلید وحی اور نقطہ نشر قرآن تھی سے چشمہ زلال وحی جاری ہوئے اور اس زبان میں جو فصاحت و بلاغت کی اوج معراج تھی سما گئے۔

یہ مولود بجز علیؑ اور کوئی نہ تھا۔ وہ علی جو انسان کامل ہے، دین اسلام علیؑ میں اور علیؑ اسلام میں اس طرح متجلیٰ ہوئے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا آئینہ ہو گئے۔

یہ تفسیرہل آتی، خبر سورہ نباء، مصداق انما ولی اللہ، خریدار من یشری، یار حدیث طیر، مولائے خم غدیر، مرد جنگ و میدان، کرار بے نظیر، جس کا قتال جیسے کہ شیر، نور صفات حق، آئینہ جمال و جلال، عالم ہر اس چیز کا جو ہے، ساقی کوثر، شافع محشر، شمع و چراغ راہ، ہر مرید کا مقصود، ہر مراد کا محبوب، روح کمال دین، ماہ غدیر، یاد حق میں دائم، رضائے رب میں قائم، بینواؤں کا غمخوار، اشقیاء کے لیے تلوار، نفاق کو اکھاڑنے والا، شک کو پیچھاڑنے والا، بنانے والا بیان کا، جاننے والا ہر زبان کا، سرچشمہ ادب، استاد عرب، ہر بلیغ کا نمونہ عمل، ہر ادیب کا ملجا و ماوا، ہر حکیم کا فیاض، جس کا نطق دلوں کی دوا، جس کا وعظ دلوں کی شفا، قائم بالقسط و عدل، سرشار عشق و وصل، حاکم با ذوالفقار، شیدائے رب ذوالجلال، زہد میں بے عدیل، صبر میں بے بدیل، یتیموں کا کفیل، امیروں کا امیر۔۔۔ جو اسم با مسمی ہے، جس کی یاد نسخہ کیمیا ہے، جس کی راہ نجات دے اور ہر بلا کو ٹال دے۔۔۔

الفاظ و قالب اور عبارتوں کی گنجائش اس کا حق معرفت ادا کرنے کا حق نہیں رکھتے ۔۔۔۔ اور اس کی شان میں لکھی گئی ہر تحریر اپنی زبان حال سے تہہ دستی کا کلمہ پڑھتی دکھائی دیتی ہے کہ۔۔۔ حق یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔۔۔

 فضائل کا جہان، امتیازات کا بےکراں سمندر، کون ہے جو اس کے عمق تک پہنچ سکے، ایسا انسان جس کی صفات کو اتمام نہیں، جو تمام زخموں کا مرہم، سب بھوکوں کی سیری، سب یتیموں کا بابا، بے مونسوں کا مونس، تمام اسیروں کی نجات، تمام شہیدوں کا انتقام، تمام اہل حق کا رہبر، سب ظالموں کے لیے عدالت، تمام جنگوں کا فاتح، ناقوس ادب جب اس کی ولا کا ساز پھونک دے تو راہ ولایت کے راہی شور عشق و مودت سے سرشار ہو جائیں، جس کا مقام رفیع ایسا کہ خاکیوں کے ساتھ ساتھ ساکنان عالم بالا بھی اس کی خاک پا کو آنکھوں کا سرمہ بنائیں، سورج نے جس کے نور سے رہن لیا، اور جس کی ضیا سے قرض پایا، آسمان میں جسے میزان بنا کر سب حساب کتاب لگائے جاتے ہیں، ہر کھاتا اسی کی ضمانت پر کھلتا ہے، اسی کے دستخط ہر پنے پر چلتے ہیں، ہاں وہ علیؑ ہے،

یہ بھی پڑھئے:   امام شافعی رحمہ الله کے چند اشعار منقبت مولا علیؑ شیر خدا کی بارگاہ میں

وہ علیؑ جس کا نام زینت تاریخ، جس کا نام بچہ لے تو چلنے لگے، لڑکھڑاتا لے تو سنبھال جائے، گرتا لے تو اٹھ جائے، مرتا لے تو جی آٹھے، روتا لے تو ہنس اٹھے، مشکل میں لے تو برطرف ہو، تنگ دستی میں لے تو شاہ خرچ ہو، رات،میں لے تو معراج ہو، دن میں لے تو عید ہو، جاہل لے تو عالم ہو جائے، عالم لے تو فاضل ہو جائے، فاضل لے تو افضل ہو جائے، شاہد لے تو شہود ہو جائے، شہود لے تو مشہود ہو جائے، پیاسہ لے تو سیراب ہو جائے، سیراب لے تو سقاقی ہو جائے، گناہگار لے تو طاہر ہو جائے، طاہر لے تو مطاہر ہو جائے، مطاہر لے تو اطہر ہو جائے، جو سوتے ہوئے پکارے وہ غافل نہ ہو، جو میدان میں لے اس پر کوئی غالب نہ ہو، جس دل میں رہے وہ کعبہ ہو جائے، اور کعبے میں آئے تو قبلہ ہو جائے، جو اس پر ایمان رکھے وہ ایماندار ہو جو اس پر شک کرے وہ بے ایمان ہو، جس کی محبت بہار دین، جس کا حلم آتش فشاؤں کو خاموش کر دے، جا کی جاوانمردی دشمن کی زباں سے قصیدے کہلوا لے، جس کی بزرگواری قاتل کو شربت پلوائے، جس کا عفو و درگزر جانی دشمنوں کو بھی شرم سے آب آب کر دے، جس کی شجاعت اشجاع ہو، جس کا جود اجود ہو، جس کا وجود محمد ہو، جس کا سجود اسجد ہو، جس کا صدق اصدق ہو، جس کی زندگی، حی ہو، جسے موت بھی نہ مار سکے،جو آسمان کے رستے زمین سے بہتر جانتا ہو، جس کا کلام میزان بلاغت ہو، جس کی رفتار مظہر جلال و جمال کبریا ہو، جس کی کاشتکاری زمین شوریزار کو زرخیز کر دے، جس کا لعاب کھاری آب کو شیریں کر دے، جس کا علم طالبان علم کو سیراب کرے، جس کا سکوت دنیا کو گویا کر دے، جس کی گفتار عالم کو گنگ کر دے، جس کا جلال جہنم کی گھاٹیاں بھر دے، جس کا عزم تلواروں کو کند کر دے، جس کا وار بس ایک بار چلے، جس کے داغ دل پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کریں، جس کی قضاوت حاصل عدالت ہو، جس کی حکومت سر مشق زعامت ہو، جس کا زہد ازہد ہو، جس کا تقوی اقرب ہو، جس کا قرب تقویٰ ہو، جو خود امیر تقویٰ ہو، جس کی مناجات اسوہ عبودیت ہوں،  جس کی دعا سے کمیل امر ہو جائے، جس کے نامے سے اشتر مالک نفس مطمئنہ ہو جائے، جس کے ساتھ سے عمار حق و باطل میں معیار تمیز ہو جائے، جس کے در پر جھکنے سے تمار سولی پر زبان عشق سے کلام کرے، جس کی معرفت سے سلمان اہلبیت ہو جائے، جس کے کرم سے بےذر ابوذر ہو جائے، جس کے قدموں کو چھونے سے قنبر آقا ہو جائے، جس کے آگے ہاتھ پھیلانے سے فقیر شاہ ہو جائے۔۔۔
کہاں ہے تاب قلم میں کہاں تلک لکھے
سفینہ چاہیے اس بہر بےکراں کے لیے۔۔۔

 

Views All Time
Views All Time
596
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: