Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بادشاہی مسجد لاہور میں مشترکہ شیعہ سنی افطار

Print Friendly, PDF & Email

برصغیر کی مٹی کی خوبصورتیوں میں سے ایک خوبصورتی یہاں کے رہنے والوں کا مل بیٹھ کے خوشیاں منانے سے لے کر پریشانی و دکھ میں سب رنجشیں بھلا کر مل بیٹھنا اور دکھ سکھ بٹانا ہے، ہزار اختلاف اور مخالفت کے باوجود تہوار سے لےکر عبادات میں آپسی پیار اور محبت کے راستے نکالنا ہے ۔۔۔۔۔ سماجی رویے کا یہ حُسن کرہ ارض پر برصغیر کے بسنے والوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں مذہبی رواداری کی تاریخ کوئی حادثاتی عمل نہیں اور نہ ہی یہ جنگجوؤں اور حملہ آوروں نے اسے پروان چڑھایا بلکہ اس میں یہاں کے بسنے والوں کی وسیع القلبی اور ہمہ مشرب ہونا ہے،ہمارے اس سماج میں مذہبی ہم آہنگی اوررواداری وامن کے پرچارک صوفی،سنت، سادھو سبھی رہے اور سب نے لوگوں کو آپسی جڑنے اور پیار و محبت کا پیغام دیا۔

سماج میں مذہبی ہم آہنگی اوررواداری کے بغیر امن ممکن نہیں ،ہمارے سماج میں میں انتہاپسندانہ سوچ اور تکفیریت نے معاشرے کی مذہبی ہم آہنگی اوررواداری کو تہ و بالا کردیا ہے اور ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں ،جس کی مہذب معاشرے کسی صورت اجازت نہیں دیتے ۔
مذہبی اختلافات کے باعث ایک دوسرے میں دوریاں بڑھانے کی مذموم کوششیں بہت خوفناک ہیں۔ یہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھئے:   مفادات کی جنگ جاری ہے | ابراہیمو ہزارہ

ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا اور معاشرتی معاملات میں مشترکہ طور پر شامل ہونا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ کا عمومی ماحول تھا۔

اس لیے مختلف مسلمان مکاتب فکر کے عوام نے ہمیشہ باہمی ملاقاتوں اور معاشرتی معاملات میں شرکت کا رویہ اختیارکیا ہے کیونکہ اس سے بہت سی غلط فہمیاں آپس کی ملاقات سے دور ہو جاتی ہیں اور مشترکہ قومی و ملی معاملات میں مل جل کر کام کرنے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں جو ہماری آج کی ایک اہم معاشرتی ضرورت ہے۔

خیال نو IDEAS9کے نوجوانوں نے سیرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے پر چلتے ہوئے گزشتہ پانچ برس سے ایک عظیم کام شروع کیا ہوا ہے کہ لاہور کی عظیم تاریخی بادشاہی مسجد میں رمضان المبارک کے وسط میں سب شیعہ سنی اکٹھے نماز پڑھتے ہیں اور روزہ افطار کرتے ہیں۔

کیا خوبصورت منظر ہوتا ہے کہ جب اہل تشیع نوجوان شدید گرمی میں اپنے اہل سنت بھائیوں کو روزہ افطار کروارہے ہوتے ہیں اور پھر سب مل کر اکٹھے ایک پیش نماز کی اقتدامیں نماز مغرب ادا کرتے ہیں، نماز مغرب کے بعد اہل سنت نوجوان اپنے اہل تشیع بھائیوں کو افطاری کرواتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   سماج کی نوگرہیں مظفر نقوی

اس سال بھی 19مئی بروز اتوار13رمضان المبارک کو یہ روح پرور منظر زندہ ہوگا۔
آئیے! خیال نوIDEAS9کے ساتھ مل کر ۔۔۔۔۔ اتحاد بین المسلمین کا پرچم بلند کریں۔
آئیے آپ بھی اس قافلے کے ساتھی بنیں اور مسلمانوں میں، پاکستانیوں میں اتحاد کی شمع روشن کریں تاکہ تمام کرہ ارض کے انسانوں کے لئے ہم امن کی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بن سکیں۔

Views All Time
Views All Time
684
Views Today
Views Today
106

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: