Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

شیعہ نسل کشی کا میدان ازسر نو ترتیب پا رہا ہے – پہلا حصہ

Print Friendly, PDF & Email

تاریخی حقیقت ہے کہ حکمران طبقہ کے سیاسی مفادات کے تحت شیعہ سنی جھگڑا 14 سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے اور اسے طول دینے کے لئے کرائے کے شیعہ، سنی ملاؤں کے ذریعہ دونوں فرقوں کے درمیان زبانی اور تحریری جھگڑوں کے علاوہ منظم شیعہ نسل کشی کا سلسلہ بھی حکمرانوں کا خاص وطیرہ رہا ہے۔

حکمرانوں کی سازشوں کے باوجود عامہ الناس میں شیعہ سنی کے درمیان جھگڑے طویل مدت تک کبھی بھی پنپ نہیں سکے اور ان کی مدت ہمیشہ چھوٹی رہتی تھی۔ ان جھگڑوں میں بھی زیادہ تر صرف محرم الحرام کے مہینے میں کشیدگی پیدا ہوتی تھی اور بعض اوقات فساد کی صورتحال پیدا ہوتی تھی۔ اگر تو حکمرانوں کی خواہش دونوں فرقوں میں جھگڑے کروا کر کچھ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی ہوتی تھی تو فساد ہو جایا کرتے تھے وگرنہ پولیس اور اس کے انٹیلی جینس نیٹ ورک کے اقدامات سے صورتحال معمول پر آ جاتی تھی۔ دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں قرابت داری اور برداشت کی روایت بھی خاصی گہری تھی اس بناء پر فرقہ وارانہ صورتحال خطرناک حد سے تک پہنچنے سے پہلے ہی سرد ہوجاتی تھی۔ اگر جھگڑے ہوتے بھی تھے تو کچھ ہی دنوں اور ہفتوں میں دونوں فرقوں کے عمائدین باہم مل کر ان کو ختم کروا دیا کرتے تھے۔

باقاعدہ اور منظم شیعہ نسل کشی البتہ تاریخ میں طویل عرصہ تک کبھی بھی رائج نہیں ہو سکی اور کچھ ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی وجہ سے شیعہ نسل کشی ہوئی بھی تو اس کا عرصہ زیادہ طویل نہیں رہا اور جلد ہی اس قبیح سلسلہ کو شیعہ، سنی عامہ الناس میں قرابت داری کے جذبات نے ختم کروا دیا۔ عباسی خلفاء میں متعصم باللہ کے دور میں پہلی دفعہ شیعہ نسل کشی کا آغاز ہوا اور اس نے حکم دیا کہ اہل بیت علیہم السلام کے اس زمانہ کے امام حسن عسکری علیہ السلام کو شہید کر دیا جائے تاکہ شیعوں میں سلسلہ امامت کا ہی خاتمہ ہو جائے۔ مزید برآں عباسی افواج نے ہر اس شخص کو قتل کرنا شروع کر دیا جس کے نام میں علی، حسن، حسین، عباس یا رضا آتا تھا۔

عباسیوں کے اس ظلم و ستم کے علاوہ گیارہویں صدی کے شروع میں محمود غزنوی  نے ایران پر حملہ کر کے رے کو آل بویہ سے چھین لیا اور شیعوں کا قتل عام کیا۔ اس کے علاوہ برصغیر پاک و ہند میں محمود غزنوی کے دو حملوں میں ملتان سے سیہون تک پھیلی قرامطہ حکومت ختم ہو گئی۔ ان حملوں میں ملتان کی اسماعیلی آبادی کا قتلِ عام ہوا۔ قرامطہ حکمران ابوفتح داؤد کو قیدی بنایا گیا۔ ملتان کے شہریوں سے لگ بھگ دو کروڑ دینار تاوان وصول کیا گیا اور بچے کچھے اسماعیلی بالائی پنجاب اور زیریں سندھ کے مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

[حوالہ:۔  Daftary، “The Ismailis: their history and doctrines”، pp. 125، 180]

دوسری طرف 1060ء میں سلجوقیوں نے عراق پر حملہ کر کے آل بویہ کی حکومت کا مکمل خاتمہ کر دیا اور شیعوں کا قتل عام ہوا۔ چودہویں صدی عیسوی میں سید علی ہمدانی اور  شمس الدین عراقی اور ان کے پیروکاروں نے کشمیر میں قدم رکھا اور مقامی ہندو آبادی میں اثنا عشری شیعہ اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ 1528ء میں بلتستان اور کشمیر میں چک سلطنت قائم ہوئی جس نے ہزاروں ہندوؤں کو شیعہ اسلام میں داخل کیا۔یہ لوگ نوربخشی صوفی سلسلے کے پیروکار تھے۔ ان میں سے اکثر  بعد میں اصولی شیعہ اثناء عشری بن گئے۔ شیعوں کی اس ریاست کے خلاف ایک ترک جنگجو سردار مرزا حیدر دگلت نے 1540ء میں کشمیر پر حملہ کیا اور شیعہ مسلمانوں کا قتلِ عام کیا۔ مرزا دگلت کی واپسی کے بعد چک خاندان کا اقتدار پھر سے بحال ہو گیا۔ 1586ء  میں مغلوں کے ہاتھوں چک سلطنت کے زوال کے بعد کشمیریوں کو سنی کرنے کی مہم چلائی گئی جس کی وجہ سے آج شمالی علاقہ جات میں صرف کارگل، بلتستان اور گلگت ہی وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اکثریت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   نا یوں رسوائیاں ہوتیں | مجتبیٰ حیدر شیرازی

برصغیر پاک و ہند میں 1820ء کی دہائی میں موجودہ سعودیہ کے علاقہ میں برسرپیکار شیخ محمد بن عبدالوہاب کی تحریک توحید والعدل (جو وہابیت کے نام سے معروف تھی) سے متاثر ہونے والے  سید احمد رائے بریلی اور شاہ اسماعیل دہلوی نے لکھنؤ میں اہل سنت کو شیعہ عزاداری پر حملے کے لیے اکسایا اور کہا کہ تعزیہ توڑنے کا ثواب بت شکنی جیسا ہے۔ ان دونوں نے شیخ محمد بن عبد الوہاب کی ”کتاب التوحید” کے مفاہیم کو اپنی کتابوں ”تقویۃ الایمان” اور ”صراط مستقیم” میں بیان کیا یے۔ ان کتابوں کو انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی نے شائع کیا اور انہیں تقسیم کرنے میں مدد دی۔ نیز انگریزوں نے مسلمانوں میں پائی جانے والی محرومیوں کو سکھوں کے خلاف استعمال کر نے کے لئے سید احمد اور شاہ اسماعیل دہلوی کو اپنے زیر انتظام علاقوں میں لشکر سازی کی مکمل آزادی دی۔ [حوالہ:۔   مرزا حیرت دہلوی ۔ “حیات طیبہ” مطبوعہ مکتبتہ الاسلام، ص 260ٗ] شاہ اسماعیل دہلوی کے الفاظ میں: “انگریزوں سے  جہاد کرنا کسی طرح واجب نہیں۔ ایک تو ان کی رعیت ہیں دوسرے ہمارے مذہبی ارکان کے ادا کرنے میں وہ ذرا بھی دست اندازی نہیں کرتے۔ ہمیں ان کی حکومت میں ہر طرح کی آزادی ہے بلکہ ان پر کوئی حملہ آور ہو تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس سے لڑیں اور اپنی گورنمنٹ پر آنچ نہ آنے دیں”  [حوالہ:۔ مقالات سرسید حصہ نہم 145۔146]

سواد اعظم کی نمائندگی کرتے ہوئے متعدد اہل سنت حنفی علماء نے سید احمد رائے بریلی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے انحراف کے خلاف کتب تحریر کیں جن میں علامہ فضل حق خیر آبادی، مولانا عبدالمجید بدایونی، مولانا فضل رسول بدایونی، مفتی صدر الدین آزردہ، مولانا محمد موسیٰ اورمولانا ابوالخیر سعید مجددی نمایاں تھے۔ ان بزرگوں کے پیروکار بعد میں اہل سنت بریلوی کہلائے جن کی پاکستان میں غالب اکثریت ہے۔ ان علماء کی کوششوں کا ہی سبب ہے کہ حکمرانوں اور چند دیگر متعصب افراد کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی شیعہ نسل کشی کے ذریعہ شیعہ فرقہ کو ختم نہ کیا جا سکا کیونکہ اکثریتی اہل سنت فرقہ کے عام لوگوں نے کبھی بھی شاہی محلات کی سازش کو قبول نہیں کیا اور اپنے شیعہ بھائیوں کی حمایت کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھئے:   محکمہ زراعت کے افسرانِ بالا سے مؤدبانہ التماس

البتہ سید احمد بریلی اور محمد اسماعیل جیسے ان دو نیم خواندہ حضرات کا کردار پاکستان اور آس پاس کے خطے کی جنونی مذہبی تاریخ میں بہت اہم ہے، جس کا اثر آج بھی بھارت کے صوبوں اترپردیش اور ہریانہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پختون اور مہاجر اکثریت والے علاقوں اور افغانستان میں دیکھا جا سکتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں جن علاقوں میں پاکستان بنا وہاں صوبہ سرحد کو چھوڑ کر ہر جگہ سنی بریلوی مکتبہِ فکر کے پیروکاروں کی اکثریت تھی۔ چونکہ بریلوی مسلک میں تصوف کو خاصی اہمیت حاصل ہے اور تصوف کا روحانی سلسلہ حضرت علیؑ سے شروع ہوتا ہے۔ لہذا بریلوی سنیوں اور اہلِ تشیع کے درمیان اختلافات کے باوجود بھی رواداری کی فضا ہی رہی ہے۔ اس رواداری کی فضا میں رخنہ اندازی کا باعث سید احمد بریلی، سید محمد اسماعیل کے متعصبانہ کردار کے نتیجہ اور شیخ ابن تیمیہ اور محمد ابن الوہاب کی تعلیمات کے نتیجہ میں تشکیل پانے والے دیوبندی مدارس کا قیام اور قادیانیت رہی ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں عزاداری امام حسین علیہ السلام پر سب سے پہلا حملہ دیوبند کے بانی مولانا قاسم نانوتوی کی قیادت میں دار العلوم دیوبند کے طلبہ نے کیا۔ دیوبند قصبے کے رہائشی اہل سنت محرم میں یاد کربلا مناتے تھے۔ مولانا قاسم نانوتوی نے طلبہ کا جتھہ بنا کر دیوبند کے رہائشی اہل سنت کو دہشت زدہ کیا اور کربلاکی یاد منانے سے روک دیا۔ [حوالہ:۔  کتاب – دار العلوم دیوبند اور ردِّشتوٹ]۔

اسی طرح قصبہ دیوبند میں اہل سنت کی عزاداری کو بزور طاقت روکنے کے علاوہ بانی دار العلوم دیوبند مولانا رشیداحمد  گنگوہی نے فتویٰ دیا کہ “محرم میں ذکر شہادت حسین (علیہ السلام) کرنا اگر چہ بروایات صحیح ہو یا سبیل لگانا، شربت پلانا، چندہ سبیل اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب ناجائز اور حرام ہے”۔ [حوالہ:۔ فتاوٰی رشیدیہ ص 435مصنف :رشید احمد گنگوہی دیوبندی]۔ دیوبندی گروپ کے علاوہ قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد نے بھی عزاداری پر شرک کا فتویٰ لگایا اور شیعوں کو اسلام کے آنگن میں پڑی نجاست قرار دیا۔ [حوالہ:۔ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 233 اور 423 تا 428 + روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 193]

دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
308
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: