Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

پریڈ سامنے سے دائیں پھر

Print Friendly, PDF & Email

فجر کی نماز کے بعد بہت دیر لالچی فقیرنی کی طرح اللہ میاں سے ایسی بے شمار دعائیں مانگنے کے بعد جن میں سے ہر ایک پر دم نکل نکل پڑ رہا تھا کہ آج کی فائنل اور اہم ترین یعنی most important دعا سب سے اوپر رکھ دی 
۔۔۔۔” یا اللہ ہندوستان کی توپوں میں کیڑے پڑیں “۔۔۔۔ 
. اور یوں محب وطن ہونے کی ذمہ داری سے فارغ ہو مطمئن ہوکر یاجوج ماجوج کی طرح ہمیشہ ادھورے رہ جانے والے کام مزید بگاڑنے کے مشن لاحاصل پر جت گئی۔
. . . . امید واثق ہے کہ جب لاد چلے گا بنجارہ تب بھی یہ سب یونہی بکھرا ہوگا اور ناچیز فرشتوں کے ساتھ آسمانوں پر پرواز کرتی یہی گنگنا رہی ہو گی

ہائے پھر شام ہونے والی ہے
دھند اور دھول،دونوں مل جل کر
بادلوں جیسا روپ دھارے ہیں
تھک گئے بوجھ ڈھوتے ڈھوتے ہم
گتھیاں الجھنوں کی سلجھاتے
راستے لمبے ہوتے جاتے ہیں
شانے بھی جھک چلے ہیں اب اپنے
اور کام ہیں کہ
سب کام یونہی بکھرے ہیں

بینک والوں سے کچھ ضروری کام پڑ گیا تھا اس لیے مجبورا ان کا تھڑا چڑھی ورنہ بینکرز کی اگاڑی اور پچھاڑی (نہایت معذرت کیساتھ ) سے بچ کر چلنے کی ہر ممکن کوشش رہتی ہے ۔ وہاں خوشخبری سنی کہ صبح مانگی دعاوں میں سے most important والی پر عمل شروع ہوگیا ہے اور مظفر آباد کے قریب دو ہندوستانی جنگی جہاز مار گرائے گئے ۔کچھ ایسا جوش اور ولولہ عوام الناس اور خاص میں دیکھنے کو ملا جیسا ہمسایہ سے ورلڈ کپ چھین کر دیکھا تھا ۔

گھر پہنچتے ہی سوشل میڈیا کی دنیا کا بٹن دبایا اور موجود سے لاتعلق ہوکر لامحدود میں کھوگئی ۔ 
ایک فارورڈد میسج کوئی دس ایک احباب کی طرف سے ملا تھا جس میں ایٹم بم سر پر برسنے کی صورت میں بچاو کی ترکیبیں بتائی گئی تھیں ۔ ہائے ہائے نہ بنایا تہہ خانہ گھر میں میاں صاحب نے، لاکھ میرے کہنے کے باوجود (وہ بیچارے بھی کیا کرتے برادران یوسف نے بچپن میں تہہ خانے میں رہنے والی چڑیلوں ڈائنوں بھوتوں والی ڈراونی فلموں سے ایسا ایسا ڈرا رکھا تھا کہ آج تک تہہ خانے کا خوف نہ نکلا) ورنہ آج کم ازکم ایٹم بم سے بچاو کا انتظام تو ہوتا خیر اللہ مالک ہے چلو اب کیا ہوسکتا ہے۔!

یہ بھی پڑھئے:   سپنسر ویلز: ہمارے اجداد بہت سخت لوگ

پھر ایک بہت خلوص اور محبت بھری آفر ملی بہت پیاری آپا کی طرف سے کہ انہوں نے اپنے محل نما فارم ہاوس کے تہہ خانے میں بندوبست کرلیا ہے سو اگر مودی کی جنگی دیوانگئ میں افاقہ نہ ہوا تو فورا ان کی طرف کا رخ کیا جائے میاں صاحب کے بچپنی خوف کا علاج یہ بتایا کہ ہلکا سا کالا کپڑا ڈال کر آنکھوں پر ڈنڈا ڈولی کرکے لڑکے وہاں پہنچا دیں گے، زینوں سے نیچے وہاں جاکر سمجھ جائیں گے خود ہی کہ چڑیلوں سے زیادہ ایٹم بم خطرناک ہوتا ہے ، اس لیے خود ہی چپکے بیٹھ جائیں گے اور یوں دل سے قدم جمائے بیٹھا خوف بھی نکل جائے گا ۔ اچھا جی یہ سب تو ہوگیا ، لیکن اب جو ذرا غور کیا تو رگوں میں بزرگوں کا خون مارے جوش کے تیز تیز گردش کرنے لگا ۔ سرخ اور سفید ذرات گھونسے تانے دوڑنے بھاگنے لگے اور ناچیز کو بزدلانہ سوچ رکھنے پر شدید ملامت سہنا پڑی ۔ ” پل دو پل کا یہ جیون ہے کچھ کرنا ہے تو کر گذرو ” . . . . . . . ذرا جو آنکھ جھپکی تو کان میں ٹیپو سلطان کی گرج سنائ دی ” گیدڑ نہ بن شیرنی بن ” . . . . .

مارے جوش کے اٹھ کھڑی ہوئی، سالوں پرانی وویمن گارڈ ( NCC ) کی وردی کی تلاش شروع کی ۔ جو کہ نہ ملی اچھا ہوا ورنہ پوری نہ آنے پر موٹاپے کا دکھ مزید تازہ ہوجاتا۔ بہت ڈھونڈنے پر NCC کی سند اور پائلٹ کا اعزازی سر ٹیفکیٹ ملا۔ بہت سنبھال کر رکھی سبز ٹوپی، خاکی وردی، بیج، ٹرافیاں اور ان سے جڑے فوجی بن کر سرحدوں کی حفاظت کرتے شہید یا غازی ہوجانے کے خواب نہ ملے وہ چست پائیلٹ نہ جانے گردش دوراں میں کہاں گم گیا ۔ ۔۔۔!. . . . . . . . . . . . . لیکن کانوں میں سالوں پرانی پریڈ کمانڈر کی آواز کی گونج نجانے ذہن کی کس چور کھڑکی سے دبے پاوں چلی آئی ہے اور صاحبو مری ہوئی سوا لکھی ہتھنی اپنی لائسنس یافتہ پمپ ایکشن اٹھائے سارا دن سے گھر کے عمومی کام بھی لیفٹ رائٹ کرتی انجام دیتی پھر رہی ہے ۔ ” پریڈ آگے سے دائیں پھر ” . . . . . . . . . لو جی ناچیز نے تو فیصلہ کرلیا ، موت تو ایک دن آنی ہے تو ڈر کر چھپ کر ، بے بسی سے اس کے آگے آگے نہیں بھاگنا ۔ بہادری سے دشمن کی ہر للکار کا جواب دینا ہے . . . . . معلوم تو یہی ہورہا ہے کہ مودی کے الیکشن جیتنے کے لیے اپنی قوم کو بد ترین جنگ میں جھونکنے کی بیوقوفی نما حرکت کچھ تو گل کھلائے گی ، اس صورت حال میں جو کچھ ہماری فوج جوابی کاروائی کررہی یے ، اور وزیراعظم صاحب کا پالیسی بیان بہترین لائحہ عمل ہیں ۔ یاد آیا ایک دوست نے بتایا کہ ان کے پیر صاحب نے حالت حال یا کشف یا وجد کے عالم میں پیشن گوئی فرمائ ہے کہ یہ جنگ چھ سال چلے گی ۔ناچیز نے فوری اور مفت مشورہ دیا عمل نہ کرکے خود ہی نقصان میں رہیں گے ” بھائی ایسے منحوس کو تو سب سے پہلے تہہ خانے میں بند کرکے مزار کی شکل میں تبدیل کرلو، بغیر سرمایہ لگائے آمدنی بیشمار ” . . . . . . . دل ناداں کو تو امید ہے کہ نادان مودی کی یہ اٹھکھلیاں زیادہ عرصہ نہیں چلیں گی ، اس کی وجہ بڑی طاقتوں کی دونوں ممالک میں کی گئ بے تحاشا سرمایہ کاری ہے ۔ بہرحال اُن کے یہاں” لڑاو اور سیاست کرو “کی پالیسی ایک بار پھر عروج پر نظر آرہی ہے ۔ اور جنگ خواہ کوئی بھی جیتے ہار انسانیت کی ہوتی ہے ۔۔۔!

Views All Time
Views All Time
162
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: