Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

اپیل اپیل اپیل

Print Friendly, PDF & Email

ایک لڑکا تھا جسے شیدا کرمنڈل کہا جاتا تھا۔ رشید احمد نام تھا اور کرمنڈل (چھوٹی بالٹی) کم از کم پچاس دفعہ اس کی پٹائی کے لیے استعمال ہوتی۔ شیدے کرمنڈل کو سات یا آٹھ سال کی عمر میں سکول داخل کرایا گیا اس دن یکم اپریل تھی سو یکم اپریل تاریخ پیدائش اور پانچ سال عمر لکھوادی گئی۔ موصوف “جماعتاں تے جماعتاں پاس کرتے گئے”۔ مولا بخش کی تاب نہ لاتے کئ دفعہ سبق رٹتے رٹتے “ہرن کا دماغ” جسے وہ اپنی ٹوٹلاہٹ اور ڈوڈ لاہٹ میں “ہٙڑن کا ڈماغ” پڑھتے۔ کمرہ جماعت میں پیشاب بھی نکل جاتا اکثر کیونکہ یاد ہی نہ رہتا یہ کام بھی کرنا تھا۔

بہرحال وقت گزرتا گیا کسی طرح پندرہ سال میں دسویں پاس ہو ہی گئی، پولیس میں نوکر ہوئے۔ گ، ب، چ، ٹ اور ڈ کے ساتھ مولا بخش کے آزادانہ استعمال کی اجازت بھی مل گئی، دسوں گھی اور سر کڑاہی میں۔ قدرت کے کھیل نیارے ایک دن کہیں چرس ورس چھاپے میں پکڑی صرف چیک کرنے کی خاطر چکھ لی اور جہاز بن گئے۔ دو عدد اشتہاری قسمت کے مارے عین اسی وقت موٹر سائیکل پر اسی کچی سڑک پر رواں تھے۔ شیدا کرمنڈل ہٙڑن کا ڈماغ بنے اڑے جارہے تھے  اشتہاریوں کو کچل ڈالا، ان کے سر پر لاکھوں کا انعام تھا وہ بھی ملا اور ترقی بھی ملی۔ اب ڈی ایس پی ہو کر گردے فیل ہوکر مرحوم ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ٹکٹوں کی تقسیم

اس ساری کہانی کے یاد آنے کا سبب آج ساہیوال کے قریب پیش آنے والا اندوہناک سانحہ ہے۔ یہ یقینا “ہٙڑن کے ڈماغوں” کی کاروائی ہے جو جہاز بنے اڑے پھر رہے تھے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ اتنے تربیت یافتہ اداروں کے ہاتھوں معصوم جانیں محفوظ نہیں اور یہ ان کو فوری انصاف کی اجازت کس قانون نے دی۔ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود سارا زور صرف خبر کو عوام سے چھپانے، بے گناہوں کو دہشت گرد ثابت کرنے اور قاتلوں کو موقع واردات سے غائب کرنے پر رہا۔

* وزیر اعظم صاحب کے لیے پہلا ٹیسٹ کیس ہے دیکھتے ہیں کیا کہتے ہیں اب ان کی تحریک انصاف کے دعوے

* حزب اختلاف کی طرف سے کیا ایکشن لیا حاتا ہے کوئی احتجاج “مجھے کیوں نکالا ” کے علاوہ بھی ہوگا کیا

* بلاول آپ کہاں ہیں یہ تووہی کہانی دہرائی گئی جو آپ پر بیتی تھی کیا خاموش رہیں گے اب بھی

* سوموٹو کہاں گیا

*اور سپہ سالار کیوں چپ ہیں

یہ تین یتیم ویسیر بچے نہیں یہ پوری قوم یے آج انصاف نہ ہوا تو پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کبھی انصاف نہ ہوسکے گا یاد رکھئے۔ خدارا ان ہٙڑن کے ڈماغوں کا کچھ سد باب کیجئے۔

Views All Time
Views All Time
228
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: