رائے کوٹ کے مینڈک !

Print Friendly, PDF & Email

بچپن کاخواب تھا دل میں چٹکیاں لیتی ایک خواہش تھی لانگ بوٹس پہنوں ,بیگ کاندھوں سے لٹکاؤں اور کوہ پیمائی پر نکل پڑوں ،سکردو ،دیوسائی ، استور ،چترال ،ہنزہ ، کیلاش سے گھومتی گھامتی بہت ساری دلکش ناموں والی جھیلیں اور گلیات ،گلیشیرز سب دیکھوں ۔ چلتے چلتے کے ٹو کے دامن تک پہنچ جاؤں اور وہ سب محسوس کروں جو سالہا سال سے جان جوکھم میں ڈال کر آنے والوں کے احساسات ہوتے ہیں اس ساری مہم جوئی پہ اکسانے والی تھیں کتابیں ،جن میں ان علاقوں کے ناقابل بیان حسن ، قدم قدم پر بکھری ہوئی بے تحاشا خوب صورتی ، قدیم روایات ،حسین موسم ،پیارے لوگ ، پھول پودوں ، پرندوں جانوروں اور مزے کے کھانوں کا ذکر ہوتا ۔ دیومالائی داستانوں نما سفر ناموں نے بہت اشتیاق پیدا کردیا ۔ پھر بہت سی فلمیں ان حسین وادیوں میں فلمائی گئیں ۔ زیادہ تر میں وہاں رہنے والی معصوم اور الہڑ ناریاں پردیسیوں کے چکر میں آجاتی ہیں اور گاتی پھرتی ہیں۔ مثلا”ایک تو نہ ملا ساری دنیا ملے بھی تو کیا ہے “اوربظاہر یہ بھولا سا ہیرو خچر پر سوار بھولا بھالا سا منہ بنائے چلا جارہا ہوتا ۔ ہیروئین کا کردار تو بہت مشکل لگتا اتنا بڑا فراک نما لہنگا یا لہنگا نما فراک پہن کر ننگے پاؤں پہاڑوں میں میلوں میل چلے جانا۔ لیکن ہیرو بنا جاسکتا تھا بال لپیٹ سر پر ٹوپی میں چھپالیے جائیں کسی بھی اسکول کی یونیفارم کالر تک بٹن بند زیادہ معصوم دکھانا ہے تو ایسے ہی سادہ چہرہ ورنہ ذرا ذرا کالی مارکر سے مونچھ بنالی لیکن ناچیز کو کبھی آفر ہی نہیں کی کسی نے ۔یہ ناقدری کے دکھ ہائے ۔

خیر زندگی سے چند دن بہت مشکل سے مستعار لئے تاکہ گھٹنوں کےجواب دینے سے پہلے آنکھیں کچھ تو دیکھ لیں ۔ اللہ رکھے تارڑ صاحب کو ان کے سب سفر نامے پڑھ رکھے تھے تقریبا سب میں ہی رائے کوٹ کے پل کا ذکر ہوتا ہے ۔ دریائے سندھ پر تعمیر شدہ اس پل کو عبور کرکے گلگت بلتستان کو راستہ نکلتا ہے اور پل کے اس طرف دریا کے ساتھ ساتھ کچا پکا راستہ دیوسائی کی طرف جاتا ہے ۔ اس پل کے ساتھ عجیب روما نوی اور طلسماتی سی دلی وابستگی محسوس ہوتی ۔ سوچتی وہاں بیٹھ کر صدیوں پرانے سندھو دریا کی پرسکون لہروں میں گم صدیوں پرانی کہانیاں سنوں گی ۔ ان فلک بوس چوٹیوں پر غروب ہوتے سورج کے پل پل بدلتے رنگ دیکھوں گی۔

آخر وہ موقع مل گیا بابو سر ٹاپ ناران سے راستہ کھل جانے کی خوشخبری ملی۔ ہم سفر بھی بہت خوشی سے تیار ہوگئے۔ جوتے، موزے کوٹ شالیں دوائیں باندھیں۔ کیمرے ، Usb ، پاور بینک ، بیٹریاں اور الا بلا جمع کیا۔ جیپ کو ٹھونک بجا کر چیک کرایا ۔پھر بھی وقت بچ گیا تو سوچا سفرنامے پھر سے پڑھ لئے جائیں تاکہ سب کچھ تازہ ہو جائے اب جو ڈھونڈنا شروع کیا تو میرے خزانے میں سے تین چوتھائی کتابیں غائب۔ ایک دو نہ ملتیں تو شک کیا جا سکتا تھا کوئی پڑھنے کو لے گیا لیکن یہاں تو ممتازمفتی، اسد اللہ غالب، شفیق الرحمان، یوسفی صاحب، ٹیگور، امرتا پریتم، الطاف فاطمہ اور تارڑ صاحب سب کے سب غائب تھے۔ یہ تو یاد رہ گئے نام غائب تو تمام تر اردو ادب تھا۔ ظالم کتاب چور نے قومی زبان کی چوری کی ۔توبہ توبہ۔ انگریزی ادب، فارسی، عربی اور مذہبی کتابیں سب وہیں تھیں۔ دل چاہا دوہتڑوں سے سینہ کوبی کروں اور ماتم بپا کردوں ۔ ارے میں نے تو نجانے کتنی عیدوں بقرعیدوں ،براتوں ولیموں پر کپڑے بنانے کے بجائے یہ خزانہ جمع کیا تھا ۔ کچھ سمجھ نہ آئی اتنی گہری منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی سے کون یہ سب کاروائی کرگیا ۔

یہ بھی پڑھئے:   خلیجی تنازعہ کا فوجی حل خطے کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے | ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید - قلم کار

اس بلند ذوق کے حامل چور کو دعا ہی دی جاسکتی ہے۔ مجھے یاد ہے غالبا سات سال عمر ہوگی کسی رشتہ دار کے گھر گئے وہاں ایک کہانیوں کی کتاب رکھی تھی، “شرارتی مینڈک”۔ میں نے پڑھنا شروع کردی کہانی ختم نہ ہوئی تھی کہ واپسی کا شور مچ گیا اب اسے ادھورا کیسے چھوڑتی ساتھ ہی لے آئی میرا قطعا ارادہ چوری کا نہ تھا بس سوچا پڑھ کر واپس کردوں گی۔ گھر آکر پڑھنا شروع کی۔ ایک برادران یوسف قسم کی بہن نے دیکھ لیا اور جا ابامیاں سے شکایت جڑدی۔ لیجئے پیشی ہوگئی۔ مجرم تو تھی ہی مان لیا جرم۔ سزا سنا ئی گئی کہ جی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اتنی رحم دلی کردی مجھ پر ابا میاں نے کہ اپنی مرضی بتا دوں دایاں یا بایاں ہاتھ۔ سارا گھر نوکر چاکر، منشی جی تماشائی۔ ماں کو دیکھا تو ایسے نظر بدل گئیں جیسے کوئی انجان عورت۔ پتہ تھا کہ ابامیاں کی بات پتھر پر لکیر۔ بہت سوچا دائیں ہاتھ سے کھانا، لکھنا سب کام کرنا ہوتے ہیں اس کے بغیر کیا کروں گی لیکن جو بائیں ہاتھ کا خاص کام ہے وہ کیوں کر ہو گا وہ تو کسی سے نہیں لیا جاسکتا۔ ابھی عدالت کی کارروائی جاری تھی کہ ابامیاں کے ماموں یعنی ہمارے دادا حضور لاٹھی ٹیکتے اپنے کمرے سے تشریف لے آئے۔ جب پتہ چلا ان کو تو وہی لاٹھی اٹھا کر خوب سب کو دھمکایا۔ ابامیاں کو ڈانٹ پڑی کہ بچی کو سہما کر رکھ دیا۔ مجھےمیرے ظالم خاندان سے بچایا۔ اپنی خاص بغچی سے ریوڑیاں کھانے کو دیں اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے ۔

پتہ نہیں آج کے لوگ اسے کیا کہیں لیکن میرا خیال ہے کہ اس طرح سے جو تربیت کی جاتی تھی اس کے اثرات تاعمر قائم رہتے تھے ۔ اور مجھ سے غریب چوری ڈاکے ایسے اچانک صدمات سے دوچار ہونے سے بچ جاتے ۔ ہمارے بڑے ڈراتے نمک گراؤگے تو روز قیامت پلکوں سے اٹھا نا پڑے گا ، جھوٹ بولا تو ماتھے پر لکھا نظر آجائے گااور زبان پر اماں جان دہکتا انگارا رکھ دیں گی ۔ اب تو کہتے ہیں بچوں کو no بھی نہیں کہنا نگوڑی نفسیات خراب ہوجائے گی ۔

یہ بھی پڑھئے:   عورت! شرق و غرب کے بیچ ٹمٹماتا تارا

لیجئے ایک کہانی یاد آگئی۔ ایک بڑا چور ، ڈکیت دھاڑیل قاتل بالآخر قانون کے شکنجے میں پھنس گیا ۔ ہر جرم کی سزا مل کر رہتی ہے بس کسی کی رسی دراز ہے اور کوئی خوش قسمت ناچیز کی طرح “شرارتی مینڈک ” پر ہی پکڑے جاتے ہیں ۔اور عمر بھر کے لئے تائب ہوجاتے ہیں ۔ جب اس مجرم کو پھانسی دی جانے لگی اور آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے کہا ماں کے کان میں ایک بات کہنی ہے ،دکھیا ماں کو بلایا گیا ۔ بیٹے کی دائمی جدائی کے غم سے نڈھال ماں مجرم بیٹے کے پاس گئی ۔ قریب ہوئی ، نجانے کیا راز بتانا تھا اس کو ۔ بیٹے نے کان پر منہ رکھا اور دانتوں سے بھنبھوڑ لیا ۔ چھڑاتے چھڑاتے بیچاری بڑھیا کا کان کاٹ ڈالا ظالم نے ۔اس حرکت کاسبب پوچھا گیا تو مجرم نے کہا میری بے مقصد، برباد زندگی اور ذلیل ترین موت کی وجہ یہ عورت ہے” میری ماں “کیونکہ جب میں محلے دار کی مرغی چرا کر لایا اس وقت اس نے پوچھ گچھ نہ کی بلکہ چوری چھپالی ۔

آج رائے کوٹ کا پل دیکھا ، سوا نیزہ پر آگ اگلتا سورج ،سلیٹی کالا سندھو, بنجر پہاڑ اور ویرانی سی ویرانی ۔ پل کے شیر یوں لگے جیسے “شرارتی مینڈک کے ٹائٹل پر اکڑوں بیٹھے مینڈک “۔ اس کے ساتھ چوری شدہ کتابوں کا دکھ بھی تازہ ہو گیا۔ پیچھے پلٹ کے دیکھتی ہوں تو خیال آتا یے کہ اس خاک بسر کو اپنی زندگی میں رائے کوٹ کے پل پر فی الواقعہ جانے کا اتفاق نہ ہوتا تو تارڑ صاحب کی بیان کردہ فینٹسی شاید آخری سانس تک میری چشم تصور کو منور کئے رکھتی ۔ سچ ہے کہ آنکھوں دیکھی حقیقت، کانوں سنے فسانے اور سطر سطر پڑھی خواب آگیں کہانی سے کہیں سفاک اور بےرعایت ہوتی ہے ۔ سو اے عزیزو جن مقامات اور کرداروں کے عشق میں تم سن سنا کر مبتلا ہوجاتے ہو انہیں قریب سے دیکھنے اورپرکھنے کی غلطی مت کرنا ۔

Views All Time
Views All Time
603
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: