Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بدلتے موسم اور یادیں

Print Friendly, PDF & Email

چھت پر بارش کے ٹپ ٹپ کے ساتھ ٹپکتے چھت تلے کڑاک کڑوک کڑاااک، ترانگ ترونگ تراانگ کی آوازوں نے بھی سُر میں سُر ملایا تھا جگہ جگہ چھت سے ٹپکتے قطروں کے لئے چھوٹے بڑے بے شمار برتن رکھے تھے جن پہ مختلف وقفے سے پڑتے قطرے نغمہ سرا تھے آدھی رات ماں نے لالٹین جلا کر دیکھا کسی اور چیز پہ تو بارش کا پانی نہیں پڑ رہا کہیں قطرے برتن کے کنارے پر گر کر نیچے پڑ رہے تھے تو برتن ادھر ادھر کر دئیے. جنوری کی سخت سرد لمبی راتیں اور نا روکنے والی بارش تھی گھر میں چھوٹے بھائی کو آئے ہوئے دسواں دن تھا اس سر سنگیت میں اس کی سریلے گیت نے سرور اور بڑھا دیا تھا.

پہلے وہی پرانے زمانے کے کچے مٹی کے گھر ہوتے تھے شادی شده جوڑے کے لئے گھر میں چھوٹے سے کمرے کا ملنا نصیب کی بات تھی ورنہ تو عام طور پر فٹ بال کے میدان کی طرح ایک لمبا چوڑا ہال نما کمره ہوتا تھا جس میں کوئی دو درجن ستون پہرے داروں کی طرح سدھ بدھ کھڑے تھے چراغ اور لالٹین کا دور تھا وہ بھی دادا یا دادی کے چارپائی کے نیچے رکھے ہوتے تھے. آدھی رات سخت سردی سے پیشاب کی حاجت پڑتی تو کئی پہرے داروں سے سر ٹکرانے کے بعد ہی اس قلعے نما کمرے کے دروازے تک پہنچا جا سکتا تھا کبھی کبھی تو گول چکر کاٹ کر واپس اپنے چارپائی تک آنا پڑتا.

گھر کے چھوٹے بڑے سب اسی ایک لمبے چوڑے کمرے میں صبح چائے، دوپہر اور رات کا کھانا اکٹھا کھاتے اور سوتے بھی اسی میں تھے اور اس لمبے چوڑے حال کو جہاں گرم رکھنے کے لئے بیچ میں ایک بڑی انگیٹھی تھی تو دوسری طرف چونکہ اس دور میں گھر کے مویشیوں کے لئے بھی اسی کمرے کے ایک کونے میں جگہ مختص ہوتی تھی کوئی چھ فٹ کے دیوار کے پیچھے مال مویشی بھی درجہ حرارت بڑھانے کا کام دیتے تھے
ساری رات ان کے پاؤں پٹخنے کی آوازوں کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار ایک دوسرے سے لڑنے لگتے بیل اور گدھے کا تو آپس میں خدا واسطے کا بیر تھا بیل سینگ مارتا تو گدھا لات مارنے میں ذرا بھی توقف نہ کرتا اور اگر وار خطا جاتی تو بھاری بھر کم آواز سے ایک طرف بیل کو متنبہ کرتا تو شاید دوسری طرف گھر والوں کو بھی بتانا مقصود تھا کہ میں بے قصور ہوں سینگ کھانے کے بعد فقط رو ہی سکتا ہوں تو بیرک کے اس طرف سے دادا یا چچا کی ان مویشیوں کو خاموش رہنے کے لئے زوردار آواز آدھی رات کو گونجتی تو لگتا تھا گویا طوفانِ نوح ہمارے سروں پر پہنچ گیا ہے.

یہ بھی پڑھئے:   ہم اپنے ہی گھر کو تباہ کر رہے ہیں | عزیر راجو

بات ہو رہی تھی سخت سردی میں برستی بارش اور ہماری ٹپکتی چھت کی تو ایک طرف رات قیامت کی طرح طویل کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھی دوسری طرف اس سرگم کے ساتھ چھوٹے بھائی کے سریلے گیت نے تازہ دم کر دیا تھا اور نیند نے پاس آ کر کیا کرنا تھا. جب یہ سرگم تھوڑا سا کم ہو گیا غنودگی طاری ہونے لگی تھی کہ دروازے پر دادی جان نے کسی لکڑی سے زوردار دھماکا کر دیا گویا ہم دروازے کے اندر نہیں بلکہ کوه قاف کے دوسری پار سوئے ہیں ضرب لگانے کے بعد پوچھا ارے بہو، یہ بچہ اتنا رو کیوں رہا ہے؟

ماں نے کہا پتہ نہیں پیٹ بھاری ہے شاید درد ہو، ماتھا تو ٹھنڈا ہے اور جا کر دروازہ کھول دیا. دادی جان نے لقمان حکیم کی طرح ہر چیز کا معائنہ کیا اتفاق سے ہماری دادی حکیم ہی تھی اپنے گاؤں میں اور آپس پاس کے گاؤں کے لوگ علاج کے لئے آتے. دادی نے چند جڑی بوٹی سے تیار کردہ اپنا کوئی نسخہ نکال کر پلا دیا. اس وقت دادیاں نانیاں بھی کیا تھیں محبت کے احساس سے گوندھے مجسمے تھے جو ساری رات کبھی ایک تو کبھی دوسرے نواسے نواسیوں کی طرف لپکتی کسی کو کچھ پلایا کسی کی نظر بد اتاری کسی کے سینے پر پسی ہوئی جڑی بوٹی گرم تیل میں ملا کر اچھی طرح سے مالش کی اور کپڑے سے بچے کو ایسی باندھتی جیسے کسی چیز کو پارسل کرنے کے لئے ٹیپ لگا دیا ہو. 
دارو دوائی کے بعد بھی دادی انتظار کرتی رہی جب بچہ سو گیا اسی دوراں گاؤں کے مؤذن کی مدھم آواز سنائی دی تو دادی نے اٹھ کر کہا فجر کی اذان ہو گئی بچہ سو گیا میں نماز ادا کرنے جا رہی ہوں اگر پھر سے تکلیف ہوئی تو مجھے آواز دینا. دادی لالٹین اٹھا کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی. شکر ادا کیا کہ گھر میں دادی جان ہے.

یہ بھی پڑھئے:   ایک مٹھی خاک - مدیحہ سید

ان موسموں کے ساتھ بھی ایسی کتنی یادیں وابستہ ہیں جو ہر بدلتے موسم پر کبھی نہ کبھی یاد آ ہی جاتی ہیں وقت کیسا تھا؟ پیسے تھے یا نہیں؟ کچے مکاں تھے مگر ایک چیز کی فراوانی تھی اور وہ تھی ایک دوسرے کے لئے پیار و محبت اور احساس. گھر میں ایک کو تکلیف ہوتی پورا گھر اس سے زیادہ تکلیف محسوس کرتا. کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ میری بہن یا بھائی ہے اور یہ چچا زاد بھائی بہن. آج ہر کسی کو اپنے بھائی کی فکر ہے یا بیٹے کی. بھتیجے اور کزن پرائے ہو گئے ہیں لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ کل بھائی الگ ہو کر رہے گا بیٹے بھی آپس میں الگ ہو جائیں گے سدا ساتھ کوئی نہیں رہتا کیونکہ ہم زندگی کے اوائل میں فاصلے بنا دیتے ہیں.

Views All Time
Views All Time
175
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: