Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

قبائل واقعی جاگ گئے ہیں؟

Print Friendly, PDF & Email

1948ء کی جنگِ کشمیر ہو یا 1971ء کی بنگلہ دیش و پاکستان کے درمیان خونریز جنگ ہو قبائلی عوام نے اس خطے کے باقی عوام کی طرح حصہ لیا تھا لیکن جنگ کی یہ وبا قبائلیوں سے چمٹی رہی اور آج تک اس ناسور کی نہ دوا کر سکے ہیں اور نہ ہی سنجیدگی سے تدارک کا سوچا ہے 48ء،65ء اور 71ء کے بعد باقی پاکستان جنگوں سے باہر نکل گیا لیکن پشتون قبائل آج تک اسی گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں. افغانستان کے جہاد کے نام پر جتنی بربادی پشتون قوم کی ہوئی، باقی پاکستانی عوام کی بھی ہوئی لیکن اس سے کم . ایک طویل جنگ نے پشتون قوم کو جانی و مالی نقصانات کے علاوہ جو نظریاتی نقصان پہنچایا ہے اس نقصان کو قریبی وقتوں میں پورا کرنا اب ممکن نہیں اور اگر ممکن ہے تو بھی اس کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہے.

اس جنگ کے بعد طالبان نام کا جو ناسور پھیل گیا اگر یہ کہوں کہ اس نے پشتون قوم کی بنیادیں ہلا دی ہیں شناخت کو علامتِ دہشت و وحشت بنا دیا، پوری دنیا کی نظروں میں پشتون کا حلیہ دہشت گرد کا حلیہ بنا. ایک طرف طالبان کے ظلم و جبر اور بربریت نے علاقے کو جہنم بنا دیا تو دوسری طرف امریکی ڈرون حملوں اور آپریشنز نے بھی علاقے کو کھنڈر میں بدل دیا . گناہگار اور بے گناہ کو ایک لاٹھی سے ہانکا گیا بلکہ اصلی گناہ گار کے مقابلے میں بے گناہ افراد زیادہ اذیت کا شکار ہوئے ہیں.

چند سو دہشت گردوں کے سبب کئی لاکھ افراد کو علاقہ بدر کیا گیا ان کی زندگی خیموں میں عذاب سے کم نہیں تھی بچے بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ رک گیا . کیا حکومت کو یہ احساس تھا کہ علاقے سے نکل کر ان ہزاروں بچے بچیوں اور نوجوانوں کی تعلیم کا کیا ہوگا؟ امتحانات سے کچھ ماہ قبل آپریشن شروع کر دیا گیا اور یوں اس سال کی محنت ضائع ہو گئی . خیموں سے بچے بچیاں اغوا ہو گئے غربت اور اس دربدری کی زندگی سے ان بچوں اور نوجوان نسل پہ جو اثر پڑا ہوگا اس کا اندازہ ریاست نے لگایا ؟ جرائم انہی حالات کے سبب جنم لیتے ہیں ہم چھوٹی بیماری کا علاج تو کرتے ہیں لیکن اس سے بڑی بیماری میں خود کو مبتلا کر لیتے ہیں.

یہ بھی پڑھئے:   ہم کس راہ جارہے ہیں | شاہانہ جاوید

قصہ مختصر، مجھے قبائلی نوجوان نسل سے اپیل اور چند سوالات بھی کرنے ہیں کہ کیا واقعی ہم جاگ گئے ہیں؟ کیا واقعی اب ہم اپنے علاقے اور آنے والی نسل کے لئے ایک روشن مستقبل کا دیا جلائیں گے؟ کیا ہم اس ساری بربادی کو وقت کے ساتھ پھر بھلا دیں گے؟ اگر نہیں تو اس کا سدباب کرنا ہوگا سب سے پہلے ہمیں اب طے کرنا پڑے گا کہ کسی صورت پھر سے باہر سے آنے والی یا اندرونی ایسی تنظیموں کو نہ بننے دیں، نہ ہی پلنے دیں کہ جن کے سبب کل پھر ہم اسی عذاب سے دوچار ہو جائیں . ہمیں اب انکار کرنا ہوگا ہمیں نام نہاد بہادری کے جھوٹے توصیف و تعریف کے جال سے نکلنا پڑے گا بندوق کو مکمل اتار کر قلم و کتاب کو اٹھانا پڑے گا ہمارے لباس پہ جو داغ لگائے گئے ہیں ان کو اب امن و محبت سے دھونا پڑے گا .

خدارا اے قبائل کے نوجوانو، اپنی حالت کو بدل دیں کرائے کے قاتل جہاں بھی پھر سے لانے کی کوشش کی جائے تو بھرپور مزاحمت کرنی پڑے گی ہمیں ان وحشیوں اور کرائے کے قاتلوں کو کسی صورت اپنے علاقے کے اندر پھلنے پھولنے نہیں دینا ہوگا. کل وزیرستان میں وزیر پشتین کے لئے استقبالی جلسہ کیا گیا تھا اس میں کئی لوگوں نے تقاریر کیں لیکن جو بات میرے ساتھ سوشل میڈیا پہ منسلک محترم دوست و پشتو شاعر و ادیب دیدار وزیر صاحب نے کی وہ میرے دل کو چھو گئی انہوں نے کہا کہ اگر امن و امان اور محبت کی فضا چاہتے ہو تو اگر پھر کوئی کمانڈر پیدا ہوتا ہے پہلے ان کا سر کچلنا ہوگا انہیں مسمار کرنا ہوگا.

یہ بھی پڑھئے:   بلوچستان بھی ہمارا اٹوٹ انگ ہے | رضوان ظفر گورمانی

یہ بات سو فیصد درست ہے کہ ایسے ہی لوگوں کے سبب ہم سب ذلیل و خوار ہو گئے ہیں ان کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اور ان لوگوں کو بھی جو شیعہ سنی فسادات کرانا چاہتے ہیں دوسرے مذاہب و مسالک کے لوگوں کو قتل کرتے ہیں یا ان کو تنگ کرتے ہیں . اس خطے میں ہمیں سب سے پہلے انسان بننا پڑے گا شیعہ سنی ہو یا ہندو، عیسائی اور سکھ ہو، اس خطے کے اتنے ہی باشندے ہیں جتنے ہم ہیں . مجھے اپنے گاؤں کے اس فیصلے سے بہت خوشی ملی تھی کہ جب شاملات تقسیم کی گئی تھی تو گاؤں کے ہندو برادری کے خاندانوں کو بھی زمینیں دی گئی. یہی انصاف کا تقاضا ہے اور انسانی فرض ہے.

تحریر طویل ہوتی جا رہی ہے لیکن قبائلی نوجوان اور بزرگوں سے اپیل ہے کہ خدارا کود کو پہچان لیں دہشت گردی کے اس سیلاب کی تباہ کاری کو مستقبل کے لئے ایک سبق کے طور پر یاد رکھیں اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر جو داغ ہم پہ لگایا گیا ہے ان کو امن و امان اور پیار و محبت سے اب دھونا ہے اور کتاب و قلم سے لڑنے کی ضرورت ہے۔ لڑکے اور لڑکیوں دونوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق دونوں کو دینے ہوں گے اور پرانی پہچان پیار و محبت کے گیت بلند کرنے ہوں گے ورنہ ساری زندگی اسی جہنم میں سڑتے رہیں گے. خدارا سوچیں اور سمجھیں اور اپنی آنی والی نسل کے لئے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں.

Views All Time
Views All Time
561
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: