بچے نہ پیدا کرو!

Print Friendly, PDF & Email

اسلامی جمہوریہ پاکستان  میں بچے نہ پیدا کرو  کیونکہ یہاں بچے محفوظ  نہیں،  بچوں کی مسخ شدہ لاشیں،  تار تار عزتیں چیخ چیخ کر  کہہ رہی ہیں بچے نہ پیدا کرو، نہ بچے ہوں گے نہ روز روز ایسے واقعات  ہوں گے  ۔ کس کس کو روئیں؟ کس کس کا ماتم کریں، خدا بیٹی دے تو اس کی قسمت  زینب،  اسماء،  فوزیہ،  عظمیٰ،  کائنات،  اقراء اور فرشتہ جیسی نہ ہو۔  اتنی وحشت اتنی بربریت کہاں سے آگئی ہے  کہ معصوم کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مسل دی جاتی ہیں۔  آئے دن ایسے واقعات  میڈیا،  سوشل میڈیا،  پرنٹ میڈیا ہر جگہ نظر آتے ہیں کچھ نمایاں ہوجاتے ہیں کچھ خبروں کے ہجوم میں دب جاتے ہیں لیکن یہ واقعات تواتر سے ہورہے ہیں۔  

بچیاں تو ایک طرف معصوم بچے بھی اس سے محفوظ  نہیں۔  ان درندوں کی ماؤں نے  انہیں کیا کھاکر پیدا کیا ہےکہ وہ سراسر ننگ انسانیت معصوم بچوں کی عزتیں تار تار کر رہے ہیں اور جان بھی لے لیتے ہیں۔  زینب کے مسئلے میں سوشل میڈیا پر شوروغل کی وجہ سے قانون کے کان پر جوں رینگی اور قاتل کو پکڑ کر مختلف مراحل سے گذار  کر کیس چلا اور پھانسی دی گئی اگر اس وقت یہ باریکیاں  چھوڑ کر فوری انصاف  دیا جاتا تو یقیناً  زیادہ دیر پا ہوتا،  فرشتہ کے کیس میں بھی مجرم پکڑ لیا گیا ہے اب ڈی این اے، گواہیاں ، وجوہات ڈھونڈتے ڈھونڈتے وقت گزر جائے گا یوں یہ کیس بھی ناانصافی کی گرد میں دب جائے گا،  ویسے بھی فرشتہ “افغانی بچی تھی انسان تو نہ تھی”۔ 

یہ بھی پڑھئے:   اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے

 کیا کوئی ایسا قانون بنے گا جو فوجی انداز میں اس مسئلے کو حل کرے ، پچھلے بنے قوانین میں نرم سزائیں ہیں ، جیسے ہی مجرم اقرار جرم کرے اسے فوری سزا دی جائے اور ایسی کڑی سزا ہو جو اس کو نشان عبرت بنادے۔ فوری انصاف فراہم کیا جائے۔  کیا ہماری حکومت  ، قومی اسمبلی اسی طرح سوتی رہے گی ستو پی کر،  یا پھر گندم کا نشہ اترے گا تو قوم کی بچیوں کی عزت پائمال کرنے والوں کے لیے بھی کچھ  قانون سازی کی جائے گی یا پھر اس وقت آنکھیں کھلیں گی جب ان کی معصوم  بچیوں  کے جسم بھنبھوڑے جائیں گے۔ 

الٹے سیدھے مسائل پر لڑنا مرنا لگا ہوا ہے،  رمضان کا چاند،  عید کا چاند مسئلہ بنا ہوا ہے جبکہ قوم کے معصوم چاند ستارے کالی آندھیوں  میں چھپتے جارہے ہیں۔  افطار ڈنر ہورہے ہیں،  ایک دوسرے کو نیچا دکھانے والے گلے مل رہے ہیں۔  وزیر اعظم  روحانیت  میں پھنسے ہیں،  خاتون اوّل  سے ہی کہیں اس مسئلے  کا حل بھی بتادیں۔  کیسے سربراہ ہیں آپ شاید بیٹی نہیں ہے آپ کی اسی وجہ قوم کی بیٹیوں کا خیال نہیں یاپھر آپ  کو پتہ ہی نہیں کہ آپ پاکستان  کے چپے چپے کے سربراہ ہیں۔  زبانی کلامی  بیان بازیاں  چھوڑ کر صرف ایک ہفتہ قومی  اسمبلی کا اجلاس اٹینڈ کریں، بچوں کے ریپ  اور پورنوگرافی کے خاتمے کے لیے سخت ترین سزاؤں کے ساتھ قانون سازی کریں۔  آنے والی نسلیں بھی دعائیں دیں گی۔  ورنہ ہر ماں بچہ پیدا کرنے سے ڈرے گی،  بیٹی کی قسمت سے گھبرائے  گی۔  

یہ بھی پڑھئے:   خواجہ سراؤں پر غصہ کیوں آتا ہے؟ - وسعت اللہ خان

اس طرح کے جرائم میں سخت ترین کاروائی کرکے سخت ترین سزائیں دی جائیں کیونکہ اگر اس قوم نے قانون ہاتھ میں لے لیا تو پھر کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔  یہ کام رمضان کے مہینے میں ہی کر ڈالیے تاکہ عید پہ منہ دکھانے کے قابل تو ہوں۔  اپوزیشن بھی بچوں کے معاملے میں عقل کے ناخن لے اپنے حلوے مانڈے پکے کرنے کے بجائے حکومت کے ساتھ مل کر اس کا حل نکالیں یہ پاکستان کی نئی نسل کی بقا کا سوال ہے۔  

ہم بچوں کو گڈ ٹچ بیڈ ٹچ سکھاتے رہ جائیں گے اور کوئی درندہ پھر کسی معصوم  کی زندگی تباہ کردے گا۔  پیاری ماؤں اپنی آنکھیں کھلی رکھو اور اپنے بچوں کو حتی الامکان  اپنی نظروں کے سامنے رکھو۔  جب تک قوم کے رکھوالے سورہے ہیں تم جاگتی رہو ورنہ بچے پیدا کرنے بند کردو تاکہ یہ دن نہ دیکھنا پڑے۔

Views All Time
Views All Time
416
Views Today
Views Today
1

شاہانہ جاوید

فری لانس کہانی نگار، کالم نگار اور بلاگر ہیں۔ ہفت روزہ، روزنامہ اور بلاگنگ ویب سائٹس کے لئے لکھتی ہیں۔ بلاگ قلم کار سے لکھنے شروع کئے۔ کہتی ہیں کتابیں تو بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اب تو دہرا رہے ہیں۔ ان کا قلم خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: