یہ وہ سحر تو نہیں

Print Friendly, PDF & Email

وزیراعظم عمران خان کو مسند اقتدار سنبھالے خیر سے ایک سال مکمل ہوچکا ہے ـ الیکشن کمپین اور برسرِ اقتدار آنے سے قبل ناقابلِ عمل وعدوں اور رنگین خوابوں کی ایک فہرست تھی جسے بتا کر قوم کے ہر فرد کو یقین دلایا گیا کہ اگر عمران خان پر اقتدار کی دیوی مہربان ہوئی تو ان کا نیا پاکستان کس طرح کا پاکستان ہوگا مگر آج دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے جیسے عمران خان کے وعدے کسی ہرجائی کے وعدے ہوں اور سارے خواب چکناچور نظر آتے ہیںـ

خان صاحب نے جلسوں میں بارہا اعلان کیا کہ وہ آزاد امیدواروں کو ہرگز اپنی جماعت میں جگہ نہیں دیں گے۔ وہ اس کی وجہ بتایا کرتے کہ ملکی حالات کا ذمہ دار پارٹیاں تبدیل کرنے والے یہی لوٹے ہیں مگر بعد میںانہی آزاد امیدواروں کو جہانگیر ترین کے جہاز کی سیر کرائی گئ اور باقاعدہ کچھ لے دے کے اسٹامپ پیپروں پر انگوٹھے لگوائے گئے ـ قوم کے ساتھ ایک وعدہ بیرونی قرضہ نہ لینے کا بارہا دہرایا جاتا رہا اور جذبات کے سمندر میں طغیانی آئی تو ایک سیمینار میں کہہ دیا کہ لکھ لو عمران خان خودکشی کر لے گا مگر آئی ایم ایف کے پاس بھیک مانگنے نہیں جائے گا۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ خان صاحب خود مذاکرات میں شریک ہوئے اور قرض کی منظوری پہ قوم کو کامیاب مذاکرات کی خبر خود سنائی۔

نئے پاکستان میں بلندوبانگ دعوؤں کا یہ قصہ یہیں تمام نہیں ہوا بلکہ یہ لمبی فہرست ہے جیسا کہ امریکی سفارتی پالیسیوں میں غلامی سے نجات دلاؤں گا، کابینہ مختصر رکھی جائے گی، اقربا پروری نہیں ہوگی، سی ون تھرٹی طیارے پر سفر نہیں ہوگا بلکہ کمرشل فلائٹ پر سفر کیا جائے گا، مہنگائی کم ہوگی، کروڑوں افراد کو نوکریاں اور روزگار ملے گا، لاکھوں کو گھر بنا کے دوں گا اور وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی بنے گا وغیرہ۔ آج عملی طور پر دیکھا جائے تو خان صاحب کی دوڑ تو اپنے ہی کیے وعدوں اور اعلانوں کے الٹی سمت نظر آتی ہے۔ کابینہ کے اخراجات کا راگ الاپنے والے نے سابقہ سیاسی اداور کی نسبت سب سے زیادہ وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج مسلط کر دی ہے۔ قوم سے سادگی اپنائی جانے کا وعدہ کیا تو ہر کسی کو ایسے لگا جیسے نئے پاکستان کا نیا وزیراعظم اب جہاز کی بجائے چائنا یا سہراب کے سائیکل پہ سفر کرتا نظر آئے گا مگر بعد میں قوم کو تینتالیس روپے فی کلومیٹر میں اڑنے والے دنیا کے سستے ترین ہیلی کاپٹر جیسے لطیفے سے متعارف کرایا گیا۔ وزیر اعظم ہاوس میں اٹھارہ لاکھ کی بھینسیں بیچ کر صرف چائے کا بل ستتر کروڑ روپے کی صورت ادا کی جا چکا ہے۔ صدارتی محل میں تیس لاکھ کا مشاعرہ ہو یا پھر لاؤ لشکرکے ساتھ سرکاری خرچ پہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنا، گورنر ہاؤسز کو بلڈوز کرنے کا وعدہ ہو یا بجلی گیس اور تیل کی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ، خان صاحب کا ان تمام باتوں پر الٹے پاؤں سفر جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   ن لیگی محبوبہ کا انصافی محبوب کو آخری خط

تیل کے عالمی منڈی میں نرخ گرنے کے باوجود عوام کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر دستیاب ہے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ جبکہ مہنگائی کا عفریت تو اب بے قابو ہو چکا۔ روزمرہ استعمال کی چیزیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ کاروبار تباہ ہو چکے سٹاک مارکیٹ 42500 پوائنٹس سے گرنے کے بعد پانچ سال کی پست ترین سطح پر پہنچ چکی۔ کاروباری طبقہ روزانہ اربوں روپے ڈوبنے کی وجہ سے مزید انویسٹمنٹ کرنے میں تذبذب کا شکار ہے۔ ایک دعوی یہ کیا گیا تھا کہ بیرونِ ملک سے لوگ روزگار کی تلاش میں آئیں گے، حالت یہ ہے کہ اپنے شہری بے روزگاری سے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ ڈالر کی قیمت کو شاہین کے پَر لگے ہوئے ہیں روپے کی قدر میں مجموعی طور پہ سال بھر میں 33 فیصد کمی ہو چکی۔ ماضی میں حکمرانوں کی کرپشن ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سبب ہوا کرتی تھی اور اس اضافے کی وجہ سے عوام پر کھربوں روپے کے قرضوں کا بوجھ حساب کر کے بتایا جاتا تھا۔ اب نیک اور ایماندار قیادت میسر ہونے کے باوجود ڈالر تیزی سے مہنگا ہوا مگر قوم کو کوئی بتانے والا نہیں کہ حُضور ڈالر کی اس اڑان سے قوم کے ہر فرد پر کتنا قرضہ بڑھا ہے اور کس نے کرپشن کی ہے۔

اپوزیشن کے وقت میں ایمنسٹی سکیم کو شجرِ ممنوعہ قرار دیا گیا اور اس سے فائدہ اُٹھانے والوں کو اپنے دور میں سزائیں دینے کا اعلان کیا لیکن اقتدار میں آ کر ایمنسٹی سکیم دی گئی اور اِس کی افادیت میں زمین آسمان کے قلابے ملائے گئے۔ دھرنوں میں بتایا جاتا تھا کہ کس طرح سرکاری خزانے سے ذاتی تشہیر کی جاتی ہے اور پھر اس بات پہ بھی یوٹرن لیا گیا۔ میڈیا کو ریکارڈ اشتہارات دیے گئے، آزادی صحافت پہ قدغن لگایا گیا، حتی کہ سیاسی مخالفین کے انٹرویو نہیں چلنے دیے گئے۔ خان صاحب نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ میٹرو بس جنگلہ بس ہے وہ سڑکیں اور میٹرو بنانے کی بجائے انسانوں پہ پیسہ خرچ کریں گے۔ ادھر پھر پشاور میٹرو منصوبے کا آغاز ہوا جس کا اب تک اڑھائی سال عرصہ گزر جانے کے باوجود افتتاح نہیں سکا۔ سونے پہ سہاگہ دس ارب میں مکمل ہونے والے منصوبے پر اب تک ایک سو چالیس ارب لگ چکے اور یہ سب سے مہنگا میٹرو منصوبے کا اعزاز اپنے نام کر چکا ہے۔ قوم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ جس پہ الزام ہوا اسے کوئی عہدہ نہیں دیا جائے گا اور جو نااہل ہوا گھر جائے گا۔ پھر عدالتی ملزمان کو عہدوں سے بھی نوازا گیا اور اعلیٰ عدلیہ سے سندیافتہ نااہل افراد کو حکومتی اجلاسوں میں شریک کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:   مہنگائی کا سیلاب

خان صاحب نے باتیں اور وعدے تو بہت بڑے کیے مگر سب وعدے دلبرانہ ثابت ہوئے اور یوں کہہ سکتے ہیں کہ خان صاحب آئے تو تھے سیاستدانوں کی چیخیں نکلوانے مگر محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں عوام کی چیخوں پہ سکون کی نیند آتی ہے۔ قصہ کوتاہ کوئی وعدہ وفا نہ ہوا، تبدیلی کے وعدوں اور اقتدار کے بعد کی صورتحال فیض کے شعر سے واضح ہے

یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

Views All Time
Views All Time
260
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: