Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بھید بھری، سارا شگفتہ

Print Friendly, PDF & Email

بھید بھری نے خانہ بدوشی کو ترک کیے بغیر دیواریں، دروازے اور روشنیاں اختیا رکرلی تھیں۔ شاید اس طرح وہ نادانستگی میں سرزد ہوجانے والی اپنی کسی خطا کا کفارہ ادا کرنا چاہتی تھی لیکن خانہ بدوشی کو کسی میلی بنیان کی طرح اتار کر نہیں پھینکا جاسکتا ،سو وہ خود پریہ سزا لاگو کرنے میں ناکام رہی اور لہو اس کے بدن میں ابلتا رہا اور وہ ایک عالم وحشت میں اپنے ارد گرد دیواریں بناتی اور ڈھاتی رہی۔وہ ایک مکمل اکیلا پن تھا جس کے ساتھ اس نے جنم لیا اور اسی کے ساتھ جان دے دی۔ جیسے جیسے اس منفرد عورت کے گرد ہجوم بڑھ رہا تھا اس کے بے دھڑک قہقہوں میں پنہاں طلسم بھی گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتا جارہا تھا۔

سارا شگفتہ ایک بے حد پراسرار عورت تھی۔ جس کی شخصیت کسی ایسی دل چسپ پہیلی سے کم نہ تھی جس کا بوجھنے میں ہر شخص دلچسپی رکھتا تھا۔ جب سے وہ حلقۂ شعر و ادب میں متعارف ہوئی اور جب تک جیتی رہی، کتنے ہی جان فروش اسے دریافت کرنے کی لگن میں سر دھڑ کی بازی لگائے رہے۔ لیکن وہ پہیلی ہی کیا جسے بوجھ لیا جائے۔ُ سو سارا شگفتہ بھی مرتے دم تک ایک سربستہ راز رہی۔ مجھے لگتا ہے کہ اپنی شخصیت کے اس انوکھے پن سے وہ خود بھی لطف اندوز ہوا کرتی تھی۔ اس لیے کہ جب کبھی اس نے اپنی ذات کو لپیٹے ہوئے کسی پردے کو چاک کیا تو اس سے سارا شگفتہ کی شخصیت توخیر کیا واضح ہوتی، ہاں کچھ اور نئے سوال ضرور جنم لے لیا کرتے تھے۔

یہ عورت کون ہے اور اسے کس نے حلقۂ شعر و ادب میں متعارف کرایا؟ یہ کوئی لمبی چوڑی کہانی نہیں ہے۔ شامت اعمال کہ احمد جاوید کی بیروزگاری پر نورجہاں نوری کو ترس آیا اور اس نے ہمارے شاعر دل نواز کو محکمہ بہبود آبادی میں موٹیویٹر کی معمولی ملازمت پر تعینات کرا دیا۔ احمد جاوید نے بھلا کاہے کو سوچا ہو گا کہ جن نعمتوں کو ترستے بلکتے وہ آدھی زندگی گزار چکا ہے وہ پکے ہوئے پھل کی طرح اس کا مقدر بننے کو ہیں۔ اس غریب کو تو اس کا بھی کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک ہولناک تجربے کا ایندھن بننے جا رہاہے۔ جی ہاں، میں نے متضاد اور شاید مبہم بات کی ہے ،لیکن کیا کیجیے کہ سچ یہی تھا۔۔۔ اچھا! تو آپ چاہتے ہیں میں ا پنی بات تفصیل کروں چلیے یہی سہی تو آئیے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ سارا شگفتہ دکھائی کیسی دیتی تھی اور اس کے پس منظر کے حوالے سے بھی واقفیت کے بغیر ہم شاید ہی اس کی شخصیت کو پورے طور پر سمجھ سکیں۔

بادام بوٹے کا سا قد، گہری سانولی رنگت، کسی بخیل کی جیب جیسی تنگ پیشانی اور ننھی منی ناک سے جڑی دو چھوٹی چھوٹی چمک دار، پراسرار آنکھیں، مختصر سا دہانہ، پتلے پتلے ہونٹ اورکیڑا لگے خربوزے جیسے بجھی سفیدی لیے دانت، چھوٹے چھوٹے ہاتھ پیر اور ہونٹوں کے بائیں کنارے پر ایک بڑا سا مسّاجو کسی اہم معاملہ پر غور کرتے ہوئے مسلسل اس کی انگشت شہادت کی دست برد کا شکار رہتا اور ترشے ہوئے روکھے بے رونق بال، جن پر اس نے ہمیشہ بہت کم توجہ رکھی اور ایک بال ہی کیا بظاہر تو وہ اپنے پورے وجود ہی کو نظر انداز کیے ہوئے تھی۔ جس جنم جلی کا ماضی راکھ ہو گیا ہو وہ اپنے حال ہر کیا توجہ رکھے ۔میں نے بہت کم اس میں اُس اہتمام سے نظارہ کیا جو خواتین کا خاصہ ہوا کرتا ہے شاید وہ اس رازسے آگاہ تھی کہ آرایش بناؤ سے بڑھ کر بگاڑ کا سبب بھی بن جایا کرتی ہے۔ اور لباس بے جوڑ، ملگجا اور بدرنگ جیسے خوش لباسی کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ یہ ایک سوچی سمجھی بے نیازی تھی جس سے وہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ وہ مصنوعی سہاروں کے بغیر بھی اتنی ہی موثر اور مہلک ہے جتنا وہ یہ اہتمام کر کے ہو سکتی تھی ، وہ واقف تھی کہ وہ جن لوگوں کو نشانہ پر رکھے ہوئے ہے وہ ان پر جہاں ہے اور جیسی ہے کی بنیاد پر بھی اپنا رنگ جماسکتی ہے؟

اس کی یہ سوچ اپنی ذات پر اس کے بے پناہ اعتماد کی مظہر تھی۔ سارا شگفتہ جب ہمارے حلقہ میں آئی تو وہ دوباقاعدہ شادیوں اور چند بچوں کا تجربہ رکھتی تھی۔ وہ ایک کوچوان زادی تھی اور ایک تنگ و تاریک مکان میں مجبوری، محرومی اور ناکامیوں کو سینے سے لگائے پیا دیس سدھار دی گئی تھی۔ اس کے بعد کی طویل زندگی ایک سیاہ غلاف میں لپٹی ہوئی مجبوری، محرومی اور ناکامیوں کو سینے سے لگائے پیا دیس سدھاری تھی۔ اس کے بعد کی طویل زندگی ایک سیاہ غلاف میں لپٹی ہوئی ہے۔ قیاس بتاتا ہے کہ بہت سی دوسری غریب اور بدنصیب لڑکیوں کی طرح اس کے والدین نے اسے جہالت کی بھینٹ چڑھادیا اور ازدواجی زندگی کا پہلا اور دوسرا تجربہ کسی رستے ہوئے ناسور کی طرح تمام زندگی اسے ڈستا رہا۔ زندگی کا یہ ڈھنگ اگر آدمی کو اشتعال اور انتقام کی طرف لے جائے تو اس میں تعجب کی کوئی محل نہیں ۔ سارا شگفتہ، لگتا ہے کہ طویل مدت تک ایک جہنم میں جلتی رہی اور جب اس نے اس سے چھٹکارا حاصل کیا تو وہ خود نفرت سے دہکتا ہوا شعلہ بن چکی تھی۔ ایسے افراد کے لیے جو طویل مدت تک ظلم و ستم سہتے رہے ہوں اور جن کے خوابوں اور خواہشوں کو حقارت سے کچلا جاتا رہا ہو، ان کے لیے اعلیٰ اخلاقی معیارا ت کی کیا حقیقت ہو سکتی ہے؟

یہ بھی پڑھئے:   ہر کامیاب عورت کے پیچھے بھی ایک مرد کا ہاتھ ہوتا ہے۔

سو ہم دیکھتے ہیں کہ سارہ شگفتہ نے اپنی ساری زندگی ایسے معیارات کو پائمال کرتے گزاری اور وہ جسے اس کی ذہانت اور چالاکی خیال کیا گیا، وہ محض اس کے مشاہدہ کی قوت اور اس تلخ زندگی کا تجربہ تھا جو وہ گزار چکی تھی۔ دراصل سارہ شگفتہ کے لیے یہ دنیا کسی میدان کارزار سے کم نہ تھی جہاں وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی اور جب انسان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہو تواس کے لیے ہر چیز جائز ہوا کرتی ہے۔ یہی سبب تھا کہ میں نے کہا شامت اعمال کہ احمد جاوید کو اس محکمے میں ملازمت ملی جہاں ہماری بھید بھری پہلے سے ملازم تھی۔ اس کلینک میں لڑکیوں کے نرغے میں احمد جاوید اکلوتے مرد تھے اور سونے پہ سہاگا یہ کہ وہ تمام لڑکیاں بے حد گھاگ اور بھائی جاوید شرمیلے شاعر اور ناتجربہ کار اور اس پر طرہ یہ کہ محروم اور ترسے ہوئے۔۔۔ آدمی خوش شکل تھے کئی کی نظروں میں چڑھے ہوں گے لیکن کٹی پتنگ کی طرح انہیں اچک لیا سارا شگفتہ نے اور جیسا کہ ہوتا ہے احمد جاوید بھی محبت کے اس نئے ذائقے میں مدت تک سرشار پھرے اور سارا شگفتہ بڑی سہولت، سلیقے اور ہنرمندی سے انہیں کستی چلی گئی۔

میں نے عرض کیا کہ سارا شگفتہ واجبی سی شکل و صورت کی عورت تھی لیکن اس کی شخصیت میں کمال کا تواز ن موجود تھا اور حسن دراصل توازن ہی کا تو نام ہے۔ سارہ میں یہ توازن جس نے دریافت کیا اسے پھر کبھی مسکراتے نہیں دیکھا گیا ۔اور پھر وہ دن جب بندر روڈ کی ایک بوسیدہ سی عمارت کے تنگ و تاریک کمرے میں مٹھائی کے ڈبے پر پڑھائے جانے والے نکاح میں منظر امام اور ممتاز رفیق نے گواہ کی حیثیت سے دستخط کیے۔ کون جانتا تھا کہ اس کرم جلی کا شادی کا یہ تیسرا اور پھر چوتھا تجربہ بھی ناکام رہے گا۔ لیکن نہیں فی الحال تیسری شادی پر ہی ٹکتے ہیں۔ ہماری ممدوحہ کے بدن میں دہکتی آگ نے نوخیز احمد جاوید کو خاکستر کرکے رکھ دیا لیکن کمزور ہی سہی ایک چھت سارا شگفتہ کو میسر آچکی تھی اور محروم اور خواب زدہ لوگوں کا ایک پورا ریوڑ کا ریوڑ۔ بھید بھری کی خانگی زندگی کے دلدّر اپنی جگہ لیکن اتنے باعزت احمق اسے پہلے کہاں نصیب ہوئے تھے ۔ایک عجب شادمانی اور دلبستگی تھی جو دل ہارنے والوں کی لمبی قطار کے نظارے سے اس پر طاری ہوئی جاتی تھی۔ ایک طرف احمد ہمیش تھے کہ اپنی اساطیری کہانیوں سے اسے رجھانے میں جٹے ہوئے تھے تو دوسری طرف وہ بینکر لڑکا علی اعجاز تھا جو اپنی آنکھیں اس کی دہلیز پر گاڑ آنے کا عندیہ دے رہا تھا اور پھر فرنیچ بل(قمر جمیل) تھے کہ انہیں سارا شگفتہ کی شکل میں نثری نظم کا مستقبل جگمگاتا نظر آرہا تھا۔

سارا شگفتہ کی شخصیت میں ایک چنگھاڑتا ہوا سستا پن تھا جو ان ڈرے دبکے مہذب لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کرلیا کرتااور وہ چاروں خانے چت ہوجایا کرتے تھے۔ جو لوگ سارہ کے شخصی حسن سے بچ نکلتے انہیں وہ ان کی معاشی مجبوریوں کے عوض باندھ لیا کرتی تھی۔ اس کے پاس ہتھ کڑیوں کے کئی ایک جوڑے موجودتھے۔ سارہ کے شیدائیوں میں سب سے جدا اور سب سے کامیاب افضال احمد سید تھے جو بے حد خاموشی اور ہنرمندی سے سارا شگفتہ کے اس تیسرے تعلق کی جڑیں کھود رہے تھے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اٖفضال کو مورود الزام قرار دینا اتنا درست نہیں ہوگا کیوں کہ ان دونوں کا رشتہ اتنی بودی بنیادوں پر استوار ہوا تھا کہ اسے کوئی بھی ذرا سی کوشش سے ڈھا سکتا تھا۔سارا شگفتہ پر احمد جاوید کی واحد برتری علم اور شعر کہنے کی صلاحیت تھی علم سے رشتہ استوار کرنا تو شاید بھید بھری کے بس سے باہر تھا لیکن اپنی زندگی کے پہلے مصرعہ کے ساتھ وہ احمد جاوید کی شاعرانہ حیثیت کوچیلنج کرچکی تھی۔ اسلام آباد میں سارا نے یہ مصرعہ میرے سامنے لکھا۔نابینا کی جھولی میں دو روشن آنکھیں ہوتی ہیں لیکن غالباً یہ پہلا اور آخری پابند مصرعہ تھا اس کے بعد سارا شگفتہ نے صرف نثری نظمیں لکھیں اور واقعی شہرت کے لحاظ سے احمد جاوید کو کوسوں پیچھے چھوڑ گئی۔

اس کے شاعرانہ کمال کا اعتراف یہاں سے بھارت تک کیا گیا بلکہ جدید خواتین جن میں ہندوستان سے امرتا پریتم اور پاکستان سے فہمیدہ ریاض شامل ہیں انہوں نے توسارہ شگفتہ کی مداحی میں صفحات کے صفحات سیاہ کر ڈالے اور نور الہدیٰ شاہ نے شگفتہ کی زندگی پر پوری ٹی وی سیریل لکھ ڈالی اور پھر چوتھی شادی جس کے دولہا افضال احمد سید تھے۔ یہ ایک ناگوار صورت حال تھی لیکن جلد ہی میں نے جان لیا کہ تیسری شادی کو کوئی بھی انجام پر پہنچاسکتا تھا یہ بدنصیبی اور اتفاق کی بات ہے کہ یہ سب ایک دوست کے ہاتھوں انجام پذیر ہوا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھید بھری میں آخر ایسا کیا تھا کہ ہر فرد اس کے ہاتھوں بہ رضا و رغبت شہید ہونے کو آمادہ تھا؟ ہاں جناب وہ ایسی ہی طلسمی لڑکی تھی اور اپنی اس شخصی مقناطیسیت سے پوری طرح باخبر تھی اور اس کی ذات کا وہ بے حد و حساب اعتماد بھی اس کی اسی خود آگاہی کا نتیجہ تھا۔ وہ واقعی ایک عجیب لڑکی تھی جب کبھی چیزیں بنانے بگاڑنے سے فرصت پاتی تو اپنے ہم جنسوں کی تلاش میں بھٹکتی پھرتی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں غائب ہوجایا کرتی ہے اور نہ ہی کوئی یہ جان سکا کہ اس کا سیاہ پرس جو نوٹوں سے بھرا رہتا ہے تو اس کی آمدنی کے ذرائع کیا ہیں؟جدید ہوش مندوں کے لیے بھید بھری میں بڑی کشش تھی کہ وہ اس نہایت زیرک اور ذہین عورت کو نفسیات کا ایک الجھا ہوا کیس سمجھتے تھے۔ وہ اس سے بیک وقت خوف زدہ بھی رہتے اور اس میں دلچسپی بھی رکھتے تھے کہ وہ صحرا کی ہوا کی طرح منہ زور اور سمندر کی طرح تلخ ہونے کے ساتھ ہی ساتھ کسی گھنے پیڑ کی طرح مہربان اور دریاؤں کی سی کشادہ دلی کے وصف سے بھی مزین تھی۔

یہ بھی پڑھئے:   مذہبی منافرت کی تازہ لہر کس کا برین چائلڈ ہے؟

تمیزدار لوگوں کا یہ گروہ جو اپنی چھوٹی چھوٹی سچائیوں اور بدرنگ آئینوں کی صداقتوں پر زندہ تھا وہ کسی ایسی شفاف اور تیز رو ندی کے ساتھ کیوں کر چل سکتا تھا جو عکس کو امانت کی طرح لوٹا دیتی تھی۔ میں نے لوگوں کو اس سے لڑتے، ڈرتے اور محبت کرتے دیکھا۔ میں اس کی محبتوں اور نفرتوں کا ایک ایسا گواہ ہوں جس پر اس نے نہ کبھی زیادہ توجہ دی اور نہ ہی کبھی نظر انداز کیا کہ وہ غیر اہم لوگوں سے تعلق رکھنے کو وقت کا زیاں خیال کرتی تھی۔ اسے ٹوٹے ہوئے آئینے بے حد پسند تھے وہ انہیں کھوجتی، کرچی کرچی جمع کرکے جوڑتی اور جب آئینہ مکمل ہوجاتا تو یا تو اسے دوبارہ توڑ دیتی یا پھر چھوڑ چھاڑ کر آگے بڑھ جایا کرتی۔ میرے سامنے ایسی بہت سی مثالیں ہیں جب کہ احمد جاوید اور افضال احمد سید اس کی نمایاں ترین مثالیں ہیں۔ میں اکثر سوچا کرتا کہ آخر وہ ایسا کیوں کرتی ہے؟ آئینہ جوڑنا خود کو زخمی کرنے کا ایسا عمل ہے جو اس کام کے کرنے والے سے پورے انہماک، خلوص اور توجہ کا طالب ہوتا ہے۔ بھید بھری نے یہ کام اس کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے کیا لیکن اس طرح کہ اس کا اپنا کوئی مطالبہ نہ تھا جیسے یہ محض وقت گزاری کا ایک مشغلہ ہو۔ گویا اس کے لئے یہ محض ایک کھیل تھا یا پھر خود کو سزا دینے کا ایک نیا ڈھنگ کہ وہ اس سنجیدہ سرگرمی کو بھی محض ایک کھیل سمجھتی رہی۔ لیکن بہرحال میں یہ جانتا ہوں کہ سارا شگفتہ ایک پورے قد کی عورت تھی اور اس کے کھیلیاکسی عمل کو تماشا کہنا دراصل اس کی تذلیل کرنا ہے۔ شاید وہ کوئی ایسا آئینہ تلاش ہی نہ کرسکی جو اس کی وحشت کو پوری طرح منعکس کرسکتا۔ دراصل وہ خود کو اپنے پورے وجود کے ساتھ دیکھنے کی آرزو مند تھی۔ یہ خطا اس کی نہیں ہے کہ وہ آئینہ تلاش کرنے میں ناکام رہی یہ درحقیقت ان آئینوں کی کم طاقتی ہے جو اسے پوری طرح جذب اور منعکس نہ کرسکے۔آئینے بنتے اوربکھرتے رہے اور آخر تھک ہار کر اس نے شاعری اختیار کی کہ اب وہ چاہتی تھی کہ اپنا آپ دھوپ کی طرح ظاہر کردے۔

لفظ زندہ ہوتے ہیں لیکن ان کی ایک خصوصیت انہیں دوسرے جان داروں سے ممتاز کرتی ہے اور وہ چیز ان کی بے پناہ قوت ہے اور وہ بھی جو لفظ کو پوری سچائی سے اختیار کرلے وہ بھی نہایت طاقت ور ہوجاتا ہے پھر اسے کسی ندی کی ضرورت رہتی ہے نہ کسی آئینے کی۔ اب خوشبو آہستہ آہستہ پھیلنے لگی تھی اور بکھرے اور بچھڑے ہوئے لوگ ایک مرکز پر اکٹھے ہورہے تھے اور اس مرکز سے جاری ہونے والا ہر لفظ شہر کے لفظ خوروں کو حیران کررہا تھا اور شاعری تو حیران کردینے کا ہی عمل ہے۔ اس نے جو کچھ لکھا اسے شاعری تسلیم کیا گیا۔ سارہ شگفتہ نے جہاں شاعری کو ایک نیا ڈھنگ دیا وہیں اس آفاقی سچائی کو بھی دھچکا پہنچایا کہ اچھی شاعری کے لیے ڈھیروں علم ازبس ضروری ہے۔ اس نے نہایت واجبی سا علم حاصل کیا تھا۔ یہ علم اتنا بھی نہیں تھا کہ ہم کہہ سکتے کہ اس کی ذہانت نے کم پڑھے کو زیادہ بنادیا لیکن اس کے باوجود اس نے خوب لکھا اور کیا اچھا لکھا۔ اس کی شاعری کے ساتھ ساتھ اس کی شخصی کمزوریوں سے لپٹی کہانیاں اس کے جلو میں رہیں اور ایک ہجوم جس میں وہ بالکل تنہا تھی۔ گمان ہونے لگا کہ جیسے کوئی نیا قبیلہ وجود میں آنے کو ہے لیکن قبیلے تو وہاں آباد ہوا کرتے ہیں جہاں پھول اگائے جاسکتے ہوں، جہاں پانی بہتا ہو، جہاں مکان تعمیر کیے جاسکتے ہوں اور آگ کی وحشت تو آگ سے مل کر دو چند ہوجایا کرتی ہے۔ ایسا کب ہوا کہ آگ سے گزر کر آگ کندن بن گئی ہو اور اس کے ارد گرد تو دہکتے ہوئے لوگوں کا ہجوم تھا۔ آگ اور آئینوں سے کھیلنے والی اپنے جہنم میں جھلستی رہی اور آخر توازن کھو بیٹھی اور جب رفتار پر قابو نہ رہے تو آدمی کسی بھی چیز سے ٹکرا کر پاش پاش ہوسکتا ہے سو وہ بھی کہ ایک عمر آہن گر کے ساتھ بتاچکی تھی لوہے سے ٹکرا کرپاش پاش ہوگئی۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک بڑا المیہ نہیں تھا؟ کون جانتا ہے کہ اگر وہ کچھ دن اور زندہ رہتی تو کیا کچھ اور لکھتی جووہ اپنی ناوقت ہلاکت کے باعث لکھنے سے محروم رہی لیکن کیا وہ بھی کم ہے جو اس نے لکھ دیا ہے؟

Views All Time
Views All Time
610
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: