وہ جنگ کر رہے تھے رسالت مآبﷺ سے

Print Friendly, PDF & Email

منسوب رہ کے مدحِ شہِ بوترابؑ سے
خود کو بچا رہا ہوں خدا کے عذاب سے
صدیاں جُڑی ہوئی ہیں ترے انقلاب سے
سب نے دیے جلائے ہیں اس آفتاب سے
لکھی گئی ہیں کرب و بلا کی یہ آیتیں
لے کر مقطعات سب ام الکتاب سے
اتنی سی داستانِ سپاہِ یزید لع ہے
یہ لوگ رد ہوئے تھی علی ؑ کی جناب سے

بر وقت حر ؑ نے دامنِ شبیر ؑ تھام کر
دامن چھڑا لیا ہے حساب و کتاب سے
اللہ رے تبسمِ اصغر ؑ کے معجزے
پتھر دلوں کو کاٹ دیا تھا گلاب سے
رومالِ سیدہ ؑ نے کہا حُر ؑ  کو دیکھ کر
دل خوش ہوا حسین ؑ ترے انتخاب سے
اُس کی ہنسی میں اُڑ گئے بیعت کے سارے تیر
سر جھک گئے کمانوں کے بس اک جواب سے
اکبر شہادتِ علی اکبر ؑ دلیل ہے
وہ جنگ کر رہے تھے رسالت مآب ﷺ سے

سلام: حسنین اکبرؔ

Views All Time
Views All Time
211
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   عشق کے شہر کا کچھ روز مکیں میں بھی ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: