سکینہ ؑ بنت الحسین ؑ کربلا کی چار سالہ یتیمیٰ

Print Friendly, PDF & Email

ارسطو کے نزدیک المیہ انسانی جذبات کا کتھارسس کرتا ہے۔نیکی کے نمائندہ کرداروں کے لیے پیدا ہونے والے ہمدردی کے جذبات غیر محسوس طریقے سے وہی نیک عمل دہرانے پر اکساتے ہیں۔

میں جب بچپن میں مجلس عزا میں جاتی تو مصائب میں باپ اور بھائی کے لیے بیٹیوں یا بہنوں کے جن جذبات کی عکاسی کی جاتی، میرے دل پر بہت اثر کرتی تھی۔ اپنے بھائی اور باپ کے لیے میری محبت اور بھی بڑھ جایا کرتی تھی، میں اور بھی شدّت سے اُن کے جلدی باخیریت گھر آنے کی منتظر ہوا کرتی تھی۔

ذرا بڑی ہوئی، ابّو جی کا انتقال ہوا تو میرے ذہن میں بی بی سکینہ ؑکی یتیمی کے حوالے سے سنے ہوئے تمام مصائب گردش کرنے لگے۔ میّت سامنے پڑی تھی اور میں کربلا کے اُس منظر کا حصہ بنی ہوئی تھی جب ایک چار سالہ بچی شہادت کی طرف بڑھتے ہوئے باپ سے یتیمی کا مفہوم پوچھتی ہے اور پھر بارہا سنے ہوئے جملے۔۔۔کہ شامِ غریباں نے بچی کو یتیمی کا مفہوم کچھ ایسے بتایا کہ وہ نہ اندھیرے سے ڈرتی ہے نہ مقتل گاہ کا سناٹا اسے کسی خوف میں مبتلا کرتا ہے۔ وہ بابا بابا کہتی آگے بڑھتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ آواز آتی ہے کہ اے میری بیٹی میں اس طرف ہوں۔

یہ بھی پڑھئے:   آج کچھ لوگ گھر نہیں آئے! - آمنہ مفتی

یتیم ہونے کے بعد مجھ پر بی بی سکینہؑ کے مصائب سن کر گریے کی جو کیفیت طاری ہوتی تھی وہ میرے اپنے جذبات کا کتھارسس بھی تھا اور غیر محسوس طریقے سے مجھے آنے والے ہر زنداں کا مقابلہ کرنے پر اکساتا تھا۔ مجھے سکینہ ؑسے جڑے ہوئے ایک کردار زینب ؑکی یاد دلاتا تھا جس کی جرات نے باپ اور بھائی کے کردار کو بے مثال طریقے سے نبھا کر لازوال کر دیا۔

شادی کے بعد ماں بنی تو سکینہ ؑ اور شش ماہے اصغر کے مصائب میرے احساس کو مزید چھلنی کرنے لگے۔ ان کرداروں سے جڑی ہوئی عقیدت اور ان کے سراپا حق ہونے کے یقین نے میرے احساس کو ایک نئی سمت عطا کی۔ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ایسی ہی کسی قربانی کے لیے تیار کرنے کا احساس۔

آج اس چھوٹی سی بچی کی شہادت کا دن ہے کہ جس کی شہادت میں کربلا کے تمام تر مصائب مرتکز ہو گئے۔ پیاس، اقربا کا یکے بعد دیگرے بچھڑنا، یتیمی، سخت ترین حالاتِ اسیری، قیدِ تنہائی، مصائب کی یلغار کے ہاتھوں آخرکار شہادت۔

کربلا سے جڑے ہوئے ان کرداروں کی یاد ایسی جادوئی کیفیت طاری کرنے کا موجب ہےجو عمل پر اکساتی ہے۔ ان کرداروں کی بظاہر لاچاری کا یہ تذکرہ قوّتِ عمل کو ابھارتا ہے۔ جوشِ عمل کو ایک ایسی راہ سجھاتا ہے جس کی انتہا شہادت ہے۔ ماؤں کے لیے اپنی اولاد میں جوشِ عمل اور شوقِ شہادت پیدا کرنے کے لیے ذکرِ مصائبِ آلِ محمدؐ کی صورت میں بہترین وظیفہ موجود ہے۔

Views All Time
Views All Time
177
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: