Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

رابن ہڈ اور جگا جٹ

Print Friendly, PDF & Email

رابن ہڈ تیرہویں صدی کے انگلستان کا اشتہاری تھا جو روایت کے مطابق امیروں کی دولت لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کیا کرتا تھا۔ آج بھی انگلینڈ میں کئی بار اور ریسٹورنٹ رابن ہڈ کے نام سے منسوب ہیں۔ اسی نام سے شیئرز کا کاروبار کرنے والی ایک مشہور فرم بھی ہے جو آن لائن شیئرز بیچتی اور خریدتی ہے۔ یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ رابن ہڈ کی شخصیت حقیقی ہے یا یہ صدیوں سے چلتی فوک کہانی ہے جس کی کئی شکلیں نظموں کی صورت میں ملتی ہیں‘ لیکن ایک چیز واضح ہے اور وہ یہ کہ برٹش لوگ رابن ہڈ کے بارے میں مثبت آرا رکھتے ہیں۔ جگے جٹ اور رابن ہڈ کے عہد میں سات صدیوںکا فرق ہے۔ جگت سنگھ ورک 1901ء میں ضلع لاہور کی تحصیل چونیاں کے ایک گائوں میں پیدا ہوا اور 1931ء میں قتل کر دیا گیا۔ اسے پنجاب کا رابن ہڈ بھی کہا جاتا تھا۔

رابن ہڈ کا تعلق مرکزی انگلستان سے تھا۔ وہ نوٹنگھم شائر کی کائونٹی میں پیدا ہوا۔ پیدائش کی تاریخ اور سال نامعلوم ہیں۔ انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے مطابق رابن ہڈ کنگ رچرڈ کا ہم عصر تھا اور وفادار بھی۔ کنگ رچرڈ اپنی بادشاہت اپنے بھائی کنگ جان کے حوالے کرکے خود صلیبی جنگ لڑنے چلا گیا۔ کنگ جان کے زمانے میں لوکل شیرف رابن ہڈ کے سخت خلاف ہو گیا۔ شیرف اس زمانے کے دیہات میں کرائون کے نمائندے ہوتے تھے اور ان کا تعلق دیہی اشرافیہ سے ہوتا تھا۔ رابن ہڈ چونکہ غریبوں کا ہمدرد سمجھا جاتا تھا‘ لہٰذا شیرف سے ٹکرائو منطقی بات لگتی ہے۔ اس زمانے میں رابن ہڈ پر ظلم شروع ہوئے لہٰذا اس نے سٹیٹ کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے اور بغاوت کر دی۔ رابن ہڈ شمشیر زنی اور تیر اندازی کا ماہر تھا۔ شیروڈ Sherwood کا وسیع و عریض جنگل وہ علاقہ تھا جہاں رابن ہڈ اور اس کے ساتھی وارداتیں کرتے تھے۔

رابن ہڈ سات سو سال سے انگلش فوک کلچر کا ہیرو ہے۔ اس کے بارے میں سب سے پہلی بیلڈ نظم (Ballad) 1370ء میں لکھی گئی جو محفوظ نہ کی جا سکی۔ ابھی پرنٹنگ پریس ایجاد نہیں ہوا تھا؛ البتہ پندرہویں صدی میں لکھا گیا رابن ہڈ کے بارے میں بیلڈ کیمبرج یونیورسٹی میں آج بھی محفوظ ہے۔ بیلڈ مختصر نظم ہوتی ہے۔ اس کے مضمون عام طور پر محبت کی داستانوں یا بہادری کے گرد گھومتے ہیں۔ بیلڈ نظم میں چند ایک سٹانزے Stanzas جبکہ ایک سٹانزے میں چار لائنیں ہوتی ہیں۔ سٹانزا کی دوسری اور چوتھی لائن کا ہم وزن اور آخری الفاظ کا ہم آواز ہونا ضروری ہے۔

رابن ہڈ اور جگے جٹ کی کہانیوں میں قدرے مماثلت ہے۔ دونوں کے بارے میں مشہور ہے کہ امیروں کو لوٹ کر غریبوں میں بانٹتے تھے۔ دونوں سرکار کو مطلوب تھے۔ دونوں نے محبت کی۔ دونوں سازش سے مارے گئے۔ رابن ہڈ کو میڈ میرین سے محبت تھی۔ آج سے سات آٹھ سو سال پہلے انگلینڈ میں خون نکال کر امراض کا علاج کیا جاتا تھا۔ رابن ہڈ کی کہانی کا ڈراپ سین یہی ہے کہ وہ جراح کے پاس خون نکلوانے جاتا ہے۔ جراح دشمنوں کی سازش میں شامل ہوتا ہے۔ وہ خون کے اخراج کو بند نہیں کرتا۔ رابن ہڈ خون کے زیادہ اخراج سے بہت کمزور ہو جاتا ہے۔ عین اسی وقت اس کا دشمن نمودار ہوتا ہے اور آخری وار کرتا ہے۔ رابن ہڈ لاغر بھی ہے اور زخمی بھی‘ مگر وہ مرنے سے پہلے اپنے دشمن کا کام تمام کر دیتا ہے یعنی دلیری کی صفت آخری دم تک اس کے کریکٹر کا حصہ رہی۔ رابن ہڈ غریبوں سے محبت اور بہادری کی وجہ سے آج بھی انگریز عوام کا ہیرو ہے؛ البتہ جگے جٹ کے بارے میں ہمارے پنجاب میں ملے جلے جذبات پائے جاتے ہیں۔ جگا ٹیکس کی اصطلاح آج بھی منفی معنوں میں مستعمل ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   پاکستان میں دو نہیں کئی پاکستان بستے ہیں

جگے جٹ کا زمانہ انگریز کی حکومت کا وقت تھا۔ روایت یہ ہے کہ جگے کا والد سردار مکھن سنگھ دس مربعہ زمین کا مالک تھا یعنی خوش حال زمیندار تھا۔ لیکن ریسرچ یہ بھی بتاتی ہے کہ اس میں سے قابل کاشت زمین کم تھی۔ دریا میں سیلاب آتا تو کھڑی فصلیں تباہ ہو جاتیں۔ جگے نے ہوش سنبھالا تو پنجاب کے اکثر چھوٹے زمیندار ہندو ساہوکار کے مقروض تھے۔ جگے کی پیدائش سے جڑی ایک لوک داستان مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سردار مکھن سنگھ اور اس کی بیوی بھاگاں کے چھ بچے پیدا ہوئے اور سب جلد ہی فوت ہو گئے۔ دونوں میاں بیوی ایک بزرگ سنت اندر سنگھ کے پاس گئے اور دعا کے لیے درخواست کی۔ بزرگ نے کہا کہ واپس جا کر ایک بکرا خرید لیں جب بچہ پیدا ہو تو اس کا ننھا منا ہاتھ بکرے کو لگائیں‘ بکرا مر جائے گا اور بچہ سلامت رہے گا اور ہاں یاد رہے کہ بچے کا نام جیم کے حرف سے شروع نہ ہو۔ سردار مکھن سنگھ نے بزرگ کی نصیحت کے مطابق بکرا خرید لیا اور اسے نومولود کا ہاتھ بھی لگایا مگر بچے کا نام جگت سنگھ رکھا جو بزرگ کی نصیحت کی خلاف ورزی تھی۔ بس یہاں سے گڑبڑ کا آغاز ہوا۔ مشہور بولی ہے؎
جگا جمیا تے ملن ودھائیاں
تے وڈھا ہویا ڈاکے ماردا

نوجوان جگا کشتی اور کبڈی کا شوقین تھا۔ اس کا دوسرا بڑا شوق کبوتر بازی بیان کیا جاتا ہے۔ وہ بہت طاقتور گبھرو جوان تھا۔ ایک مرتبہ پٹواری کے پاس اپنی زمین کی فرد لینے گیا تو پٹواری نے رشوت طلب کی۔ جگے نے رشوت دینے کی بجائے اس کی پٹائی کر دی اور فرد بھی چھین لی۔ پٹواری اور تھانیدار عمومی طور پر انگریز سرکار کے مخبر ہوتے تھے۔ جگے کے بارے میں حکومت کے خوب کان بھرے گئے کہ باغی ہے کارِ سرکار میں مداخلت کرتا ہے۔ اس پر غلط مقدمہ بنایا گیا اور چار سال قید کی سزا ہوئی۔ جب وہ سزا پوری کرکے جیل سے نکلا تو واقعی باغی بن چکا تھا۔

انگریز سرکار نے جگے کے سر کی بھاری قیمت رکھی اور اشتہار اخباروں میں چھپ گئے۔ جگے کا گینگ اب دور دور تک وارداتیں کرتا تھا۔ جگے کی سب سے بڑی اور مشہور واردات لائل پور کے ایک انگریز ڈپٹی کمشنر کے گھر ڈاکہ تھا۔ جگا انگریز حکمران سے اشتہاری ڈکلیئر کئے جانے کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ اس نے اعلان کیا کہ میں لائل پور کے ڈپٹی کمشنر کے گھر میں داخل ضرور ہوں گا خواہ وہ کتنے ہی پہرے وہاں لگائے اور پھر وہ واقعی ایک رات اپنے گینگ کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کے گھر داخل ہوا اور واپس بھی آ گیا ؎
جگے ماریا لائل پور ڈاکہ
تے تاراں کھڑک گیاں
مندرجہ بالا لوک بولی میں جن تاروں کے بجنے کا ذکر ہے وہ ٹیلیگراف کی تاریں ہیں۔ انگریز ڈی سی کے گھر میں ڈاکہ پورے انڈیا میں مشہور ہوا بلکہ اس کی بازگشت انگلینڈ تک گئی۔ تار یا ٹیلیگراف اس زمانے میں فوری قسم کی سرکاری پیغام رسانی اور خبر بھیجنے کا ذریعہ تھا۔
جگہ کوئی اوباش نوجوان نہیں تھا۔ وہ عورتوں کا پورا احترام کرتا تھا۔ بہادری اور بدلہ لینے کی عادت اس کی شخصیت کا جزو تھے۔ میرے کالم کا مقصد جگے کے بارے کوئی اخلاقی فیصلہ صادر کرنا نہیں بلکہ وسطی پنجاب کے اس کریکٹر کا معروضی جائزہ لینا ہے‘ جس کا ذکر سو سال گزرنے کے بعد اچھے یا برے دونوں انداز میں ہوتا رہتا ہے۔
جگے کو کنگن پور کی ایک مسلمان لڑکی سے محبت تھی جو شادی پر منتج ہوئی۔ پنجاب کے دیہات میں ایسی شادیوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا مگر جگے نے اور اس کی فیملی نے اس خاتون کو پوری عزت دی۔ ماں بیٹیاں دونوں 1947 میں پوری فیملی کے ساتھ انڈیا چلی گئیں۔روایتوں سے لگتا ہے کہ جگا یا تو مونا سکھ تھا یا بھیس بدلتا رہتا تھا۔ اس کے شیو کرانے کا ذکر اس کے قتل کی ایک روایت میں موجود ہے۔ لالو نائی جگے کا نائی بھی تھا اور باورچی بھی۔ ایک واردات کے بعد جگے نے بوہڑ کے درخت کے نیچے کچھ آرام کیا۔ لالو کو کہا کہ پہلے شراب دو اور پھر کھانا تیار کرو۔ لالو نے جگے کو ڈھیر ساری شراب دی۔ اس کے دل میں انگریز کے انعام کا لالچ آ گیا۔ جگا شراب پی کر سویا ہوا تھا کہ لالو نائی نے حملہ کر دیا اور اس بہادر ڈاکو کا کام تمام ہوا ؎
جگا ماریا بوہڑ دی چھاویں
تے نو من ریت بھج گئی
یعنی جگے کو بوہڑ کے درخت نیچے قتل کیا گیا اور نو من ریت بھیگ گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جگا بہت صحت مند اور طاقت ور جوان تھا۔ قتل کے وقت جگے کی عمر تیس سال تھی۔ اس نے اپنی بساط کے مطابق انگریز سے بدلہ لیا اور غریبوں کی مدد کی۔ جگے کی شخصیت اور اصلی کردار کے بارے میں مزید ریسرچ کی ضرورت ہے. بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
470
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: