Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بلوچستان بھی ہمارا اٹوٹ انگ ہے | رضوان ظفر گورمانی

Print Friendly, PDF & Email

کشمیری مجاہد شہید برہان الدین مظفر وانی کی برسی کے موقع پر بھارتی بلاگرز پاکستانیوں کو اس بات کا طعنہ دیتے نظر آئے کہ کشمیر کی مسلح جدوجہد فریڈم فائیٹنگ اور بلوچستان کی مسلح کاروائیاں بغاوت کیسے ہیں؟ ہم جتنا مرضی ان سے اختلاف کر لیں مگر حقیقت نہیں بدلنے کی اور حقائق یہی ہیں کہ ہمارا موقف کشمیریوں اور بلوچوں کے معاملے میں متضاد ہے چونکہ دونوں مسائل ایک دوسرے سے مختلف ہیں اس لیے ان کا حل بھی مختلف ہے اور مسلح جدوجہد بھی مختلف ہے ۔کشمیریوں کا مسئلہ بلوچوں سے اس طرح بھی مختلف ہے کہ وہاں کے کشمیریوں کو ریاست (بھارت) سے نیا گلہ نہیں اور نہ ہی اس کی وجہ محرومی ہے وہ اک آئیڈیالوجی کے تحت جبر و غلامی سے آزادی چاہتے ہیں جبکہ بلوچستان کا سارا مقدمہ محرومی کی بیساکھیوں پر ٹکا ہے۔

بلوچوں کی احساس محرومی بھی اک حقیقت ہے ہم سارا الزام وہاں کے سرداروں اور ممبران اسمبلی پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ میں سرائیکی وسیب سے تعلق رکھتا ہوں وسیب کے پینسٹھ کے قریب ممبران قومی اسمبلی ہیں اور سرائیکی ممبران اسمبلی ہر قابل ذکر بڑا ریاستی عہدہ انجوائے کر چکے ہیں مگر علاقے کی محرومی دور نہیں ہو سکی کیونکہ پاکستان میں ایک جاہل اشرافیہ کلب ہے  جس کے ممبران کے درمیان اک نادیدہ معاہدہ ہوا ہوا ہے یہ ملک کے یا عوام کے لیے نہیں بس اپنی ذات کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں

اب اس مسئلے کے تدارک کے لیے ہم ہتھیار اٹھا لیں یہ بھی کسی طور جائز قدم نہیں

عوام کو اس مسئلے پر پرامن تبدیلی لانی ہو گی کیا گارنٹی ہے کہ الگ ریاست کے حصول کے بعد بلوچستان کا جاہل اشرافیہ کلب ثمرات نچلے لیول تک پہنچائے گا۔

یہ باغی لیڈران رات کو نو بجے اپنے بیرونی آقاؤں کو رپورٹس دیتے ہیں یہ بلوچستان کے نوجوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

اور ادھر ریاستی اشرافیہ اس مسئلے کو بزور طاقت حل کرنا چاہتی ہے جو یقیناً قابل ستائش نہیں۔ بنگالیوں کو بزور طاقت رام کرنے کی کوشش کا انجام ہم دیکھ چکے ہیں۔ اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح زیادہ دنوں تک ہم دنیا کو بے وقوف بنا پائیں گے تو یہ ہماری خام خیالی ہے پھر یہ جنگ اب تو محرومی کی جنگ سے پہچان کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے بنگالی اور پنجابی کی پہلی لڑائی پہچان کی ہے آج بھی ہمارے نزدیک زبان صرف اپنی بات سمجھانے کا اک ٹول ہے جب کہ حقیقت میں اک زبان کا مطلب ہے اک ثقافت اور ثقافت کسی بھی قوم کی پہچان ہوتی ہے اردو بنگالی تنازعہ صرف زبان کا تنازعہ نہیں تھا ثقافت کا تنازعہ تھا بالکل اسی طرح جیسے ایران اور سعودی مخاصمت شیعہ سنی نہیں بلکہ نسلی و ثقافتی برتری کی مخاصمت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   پیشے کاانتخاب کیسے کریں؟

بھٹو صاحب بلاشبہ اک ذہین سیاستدان تھے مگر انہوں نے بھی محافظ فورس اور بلوچی زبان تنازعہ بذور طاقت حل کرنے کی کوشش کی جس نے بلوچ قوم میں پاکستانی حکومت کے خلاف نفرت کے بیج بوئے اور پھر اس نفرت کو بعد میں آنے والے حکمرانوں نے کھاد دے کر تناور درخت بنا دیا۔ آج بلوچ نوجوان تعلیم یافتہ ہے وہ پڑھ لکھ گئے ہیں تو ان کے لئے روزگار نہیں۔اُس بے روزگار بلوچ نوجوان کی جگہ خود کو رکھ کر سوچیں جو روز اس امید پر اٹھتا ہے کے شاید آج کا سورج اس کے لیے خوش خبری لائے مگر شام تک ناامیدی اور گہری ہوجاتی ہے۔ اب تو یہ حال ہے خاکروب کی نوکری کے لیے بھی ایم اے پاس نوجوان درخواست دیتے ہیں ، لیکن ان کو وہ بھی نہیں ملتی۔ مایوسی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ امیر صوبے کے غریب تعلیم یافتہ نوجوان اب مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ہر سال صوبہ بلوچستان کی حکومت تین سے چار ہزار ملازمتوں کا اعلان تو کرتی ہے، پر سال و ماہ گزر جاتے ہیں لیکن ان اعلانات پر عمل درآمد نہیں‌کیا جاتا۔ وفاق میں تو بلوچستان کا کوٹہ صرف 6 فیصد رکھا گیا ہے جس میں‌ صرف ایک تا چار گریڈ کی ملازمتیں ہوتی ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔ظا ہر ہے جب انسان بھوکا ہو تو وہ یقیناََ غلط راستے کا ہی انتخاب کرے گا اوپر سے ٹیکنالوجی نے ہر چیز دسترس میں کر دی ہے نوجوان چیزوں کو سمجھ سکتے ہیں آٹے میں نمک کے برابر درجہ چہارم کی ملازمتیں دے کر اوپر پنجابی بیوروکریسی مسلط کر دیتے ہیں۔ سوئی کی گیس سے لے کر سینڈک کے سونے تک ان کی آنکھوں کے سامنے نکال کے لے جایا جاتا ہے اور بدلے میں انہیں کیا ملتا ہے افسران کی طرف سے جھڑکیاں؟ اب اک باشعور نوجوان نسل کس طرح احساسِ محرومی، ناانصافی اور جبر میں جیئے گی؟وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کا جو کوٹہ رکھا گیا ہے، اس پر عمل درآمد نہیں‌ہوتا۔ جس سے نوجوانوں‌ میں‌ احساسِ محرومی بڑھتا ہے اور اس احساس محرومی کو سردار اور دوسری پاکستان مخالف قوتیں ہتھیار بنا کر نوجوانوں کو ورغلاتی ہیں اوپر سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہر بلوچ نوجوان کو شک کی نظر سے دیکھنا جلتی پہ تیل کا کام کرتا ہے۔ گمشدہ افراد کی لسٹ میں  بڑھتا  ہوا اک نیا نام اک خاندان کو باغی کرنے کا موجب بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   غیرت

جئے شاہ نوارانی کے دھماکے میں بلوچستان میں طبی سہولتوں کا فقدان کھل سامنے آیا  اور انفراسٹرکچر کی حالت بھی سب کو نظر آئی۔ جب روڈز نہ ہونے کے باعث امدادی کاروائی اور مریضوں کی ہسپتال منتقلی میں گھنٹوں لگ گئے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ پورے بلوچستان میں دو بڑے ہسپتال ہیں رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کے رہائشی علاج کے لئے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کر کے یا کوئٹہ جاتے ہیں یا ملتان کا رخ کرتے ہیں۔ اول تو مریض کے راستے میں دم توڑ جانے کے قوی امکانات ہوتے ہیں اگر کوئی خوش نصیب بڑے ہسپتال تک پہنچ بھی جائے تو بڑی تعداد میں  مریضوں کے دباؤ کی وجہ سے عملے کی کمیابی، بیڈز اور دوائیوں کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسے میں بلوچ قوم ہم سے کتنا مطمئن ہو گی ہر ذی شعور بہتر سمجھ سکتا ہے۔ صرف یہی نہیں جس طرح آبائی علاقے میں پہنچانے کے لیے لوکل ویگنوں کی چھتوں پر پولیس ٹریننگ سنٹر حملے کے شہدا کے جسد خاکی رکھ کر انسانیت کی تذلیل کی گئی کیا اس کے بعد بھی ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست بلوچستان کے حقوق دینے میں سنجیدہ رہی ہے۔

پاکستان سے الحاق  کے وقت سے سنتے آ رہے ہیں کہ بلوچستان سے نا انصافی ہو رہی ہے اک ہی سکرپٹ کو آنے والی ہر حکومت دہراتی ہے یعنی کردار بدلتے رہتے ہیں فسانہ وہی رہتا ہے اور ان کی محرومی دور کرنے کے لئے عملی اقدامات کوئی نہیں کرتا حکومت کو اب سمجھنا ہو گا کہ حب الوطنی کے نام پر لیکچر دینے کی بجائے بلوچستان کو اس کا حق دینے کا سوچیں۔ گمشدہ افراد کی بازیابی کی بات کریں۔سوئی کی گیس کی رائلٹی دیں، سینڈک کے سونے میں حصہ دیں، گوادر میں حق ملکیت دیں، انڈسٹریز لگانے کی بات کریں، روزگار کے ذرائع بڑھانے کی بات کریں، صاف پانی، تعلیم، صحت اور دوسرے بنیادی حقوق کی بات کریں تاکہ کوئی بھی دشمن بلوچستان کے نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔

 

Views All Time
Views All Time
543
Views Today
Views Today
1

رضوان گورمانی

رضوان ظفر گورمانی ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔ تعلق کوٹ اددو سے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: