Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

منبر رسول ﷺ پر بڑھتا ہوا تفرقہ اور جھگڑے

Print Friendly, PDF & Email

دوستوں نے کہا کہ پچھلے کئی مہینوں بلکہ دو، چار سالوں سے منبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نواسہ رسول اور اہل بیت عظام علیہم السلام کی مجلس پڑھنے والوں کے درمیان جھگڑے اس حد تک بڑھے کہ لوگ اسپیکر پر ویڈیو کیمروں کے سامنے ایک دوسرے کو گالیاں بھی دے رہے، اور اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی ایک دوسرے سے باہم دست و گریبان ہیں۔ ایک گروپ ذاکرین، خطباء اور نوحہ خوانوں کو ننگی گالیاں دے رہا ہے تو دوسرا گروپ علمی شخصیات اور مجتہدین کو ننگی گالیاں دینے سے دریغ نہیں کر رہا۔ تقریباََ آدھ صدی کی عمر کو پہنچنے والا ہوں اور مجالس سنتے، صف عزا بچھاتے اور قومیات میں کارکنی کرتے بھی 33 سے زیادہ سال ہو چکے ہیں۔ اس لئے جو کچھ بھی اس عرصہ میں ہوا وہ نظروں کے عین سامنے ہے۔ زندگی بھر علم والوں، اخلاص سے ذمہ داریاں سرانجام دینے والوں اور عقل کا استعمال کرنے والوں کی صحبت حاصل کرنے کی مسلسل کوششیں کی ہیں جس کی وجہ سے یہ شرف رہا ہے کہ خود اگرچہ خواندہ نہیں مگر ان بزرگوں و مخلصین کی محافل سے علم و فہم کے سبق لیتے لیتے نیم خواندگی کی منزل پر فائز ہو ہی چکے ہیں۔

متفق الیہ مرکزیت کا نہ ہونا کافی عرصہ سے اہل تشیع کا پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے۔ علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کے بعد حامد علی موسوی صاحب اور شہید علامہ عارف الحسینی کے درمیان جو دھڑے بندی ہوئی اس نے قوم کی سیاسی اہمیت و حیثیت کو ہی شدید نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس میں عقائد میں اختلافات کے شدید مسائل بھی پیدا ہوتے رہے۔ پاکستانی شیعوں کی بدقسمتی ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح یہاں متفق الیہ قیادت نہیں ہے۔ مثلاََ ایران والوں کے پاس اپنی قیادت ہے اور اسی طرح عراق والوں کے پاس بھی۔ بحرین، یمن، نائیجیریا، شام، لبنان، کویت اور حتی کہ سعودی عرب کو دیکھ لیجئیے، ہر جگہ مرکزی نظام قیادت موجود ہے مگر جہاں بھی جنوبی ایشیائی شیعہ پہنچے وہاں قیادت میں مرکزیت باقی نہیں رہ سکی۔ شاید انڈیا، پاکستان کے پانی میں ہی یہ جراثیم ہیں کہ ہجوم کو قوم میں تبدیل نہیں ہونے دیتے۔ یورپ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا کو دیکھ لیجئیے جہاں پاکستانی، انڈین پہنچے وہاں شیعہ قیادت میں مرکزیت قائم نہیں رہی بلکہ تنظیم دھڑے بندیوں کا بھی شکار ہوئی اور غالی، مقصر، نصیری جیسے جھگڑے بہر صورت پیدا ہوتے چلے گئے۔

علامہ عارف الحسینی شہید تو خود کو شیعہ منواتے منواتے اور قیادت منواتے منواتے اپنی شہادت تک کوشاں رہے مگر ان کے بعد بھی پہلے جو صرف چھوٹے موٹے فکری اختلافات تھے ساجد نقوی گروپ اور حامد موسوی گروپ میں وہ اب شدید ترین اور ناقابل اصلاح حدود تک پہنچ چکے ہیں۔

ساجد نقوی گروپ نے اپنی تنظیم، محنت، وسائل اور نوجوانوں کے ساتھ کی وجہ سے اپنی حیثیت مسلم کروا لی تھی مگر 1995ء میں ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کے بہیمانہ قتل کے بعد تنظیمی نوجوانوں کی بڑی کھیپ (بشمول یہ فقیر) ان سے الگ ہو گیا۔ ساجد نقوی گروپ کمزور ہوتا گیا مگر اس نے اپنی فعالیت کو مدرسہ کی طرف موڑ لیا۔ درحقیقت ساجد نقوی کی ختم ہوتی قیادت کو وفاق علمائے شیعہ اور جامعہ المنتظر نے ہی سانس دلوایا۔ نوجوان تو بکھر گئے مگر مدرسوں کی مدد سے ساجد نقوی گروپ مساجد، امام بارگاہوں کے ذریعہ شیعیت پر مسلط رہا۔ شہروں میں تو ان کو کوئی نہیں پوچھتا مگر دیہاتوں، شمالی علاقہ جات، پارہ چنار، کوئٹہ، جنوبی پنجاب، اندرون سندھ جیسے علاقوں میں ساجد نقوی کا اثر و نفوذ بہت زیادہ ہے کیونکہ وہاں کے لوگ بنیادی طور پر ملا پرست ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   کچھ یادیں کچھ باتیں - حیدر جاوید سید

حامد موسوی گروپ کبھی بھی منظم نہیں رہ سکا تھا اور نہ آج ہے۔ یہ ہمیشہ سے ہی ذاکرین اور خطیبوں کے ذریعہ عامہ الناس کی حمایت ڈھونڈنے کی کوشش کرتا تھا۔ ذاکرین اور خطیبوں کے اپنے اندر چونکہ بہت زیادہ گروپنگ ہے اس لئے موسوی گروپ کبھی بھی ساجد نقوی گروپ کے لئے سنجیدہ مسئلہ نہیں بن سکا۔ ساجد نقوی گروپ کے پاس وسائل کی کمی نہیں اور بذات خود ساجد نقوی بہت بڑی جائیداد اور وسائل کے مالک ہیں جبکہ موسوی گروپ مانگے تانگے کے وسائل پر انحصار کرتا ہے۔

غالی، مقصر جیسا موجودہ اصل مسئلہ سنہ 2000ء کے بعد شروع ہوا جب ذاکرین، خطیب اور ماتمی حضرات میں تشہد میں اشہد علی ولی اللہ کو واجب قرار دینے کی مہم شروع ہوئی۔ 2010ء کے بعد اس میں بتدریج شدت آتی گئی اور پچھلے دو، تین سالوں میں یہ معاملہ اتنا سخت ہو گیا کہ تشہد میں شہادت ثالثہ پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے ایک دوسرے کو سٹیج پر ماں، بہن کی گالیاں دینا شروع ہو گئے۔ بعض جگہوں پر ذاکرین اور خطیب اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے مولا علی مشکل کشاء علیہ السلام کو علی اللہ کہنا شروع کر دیا جبکہ علی جل جلالہ کہنا تو عام سی بات بن چکی ہے۔

ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ کب اور کیوں حامد موسوی گروپ علی اللہ کہنے والوں کے ساتھ شامل ہوا۔ شاید یہ ذاکرین، خطیبوں اور ماتمیوں میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کو اپنے حق میں کیش کروانا چاہتے تھے یا شاید بذات خود اس نظریہ شہادت ثالثہ کے قائل تھے۔

آج کل اس معاملہ میں آگ لگی ہوئی ہے کیونکہ ایک مجلس میں خطیب آصف رضا علوی نے کہیں بیان کیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو مولا علی مشکل کشاء علیہ السلام نے خلق کیا تھا۔ اس کے اس بیان کی ریکارڈنگ بھی کی گئی ہے اور اس کی بنیاد پر موضع چند رائے لاہور کے ایک رہائشی چوہدری نشان علی نے اس پر توہین خدا و توہین رسالتﷺ کا مقدمہ درج کرنے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کر دی۔ آصف علوی کے مشیر خاص سے اس فقیر نے پوچھا کہ جناب عالی یہ بیان اس نے کیوں دیا ہے تو جواب ملا کہ یہ مسئلہ ہماری کتابوں میں ولایت تکوینہ کی شکل میں موجود ہے۔ ان کے بقول ولایت تکوینہ یہ ہے کہ اللہ پاک کے امر سے الہٰی اختیارات مختلف اوقات میں عموماََ انبیاء کرام علیہم السلام اور خصوصاََ چہاردہ معصومین علیہم السلام کو حاصل رہے ہیں۔ اس لئے مردوں کو زندہ کرنے کے معجزات، سورج کو پلٹانے اور چاند کے دو ٹکڑے کرنے جیسے معاملات دراصل ولایت تکوینہ کے ہی عکاس ہیں۔ یہاں تک تو چلیں بات قابل گوارا ہے مگر آصف علوی کے بیان میں براہ راست حضرت آدم علیہ السلام کی مولا علی مشکل کشاء علیہ السلام کے ہاتھوں خلقت بیان کی گئی ہے اور ولایت تکوینہ کا ذکر ہی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ چوہدری ذیشان علی پکا مرید ہے ڈھکو صاحب کا اور سیاسی طور پر ساجد نقوی گروپ کے اشاروں پر چلتا ہے۔

ساجد نقوی گروپ حکومتی انتظامیہ میں اپنے پرانے اور مضبوط تعلق کی وجہ سے فی الحال اس معاملہ میں مضبوط دکھائی دیتا ہے کہ اس نے آصف علوی، غضنفر تونسوی، جعفر جتوئی، عاقل رضا، علی حسنین نجفی وغیرہ پر مختلف اضلاع میں داخلہ اور مجالس پڑھنے پر پابندی لگوانا شروع کر دی ہے۔ جبکہ اس رخ پر تونسوی و علوی گروپ بیک فٹ پر نظر آ رہا ہے اگرچہ عدالتی محاذ میں حامد موسوی گروپ اور ماتمیان کے تعاون کی وجہ سے وہ اپنے خلاف حکومتی کاروائی سے محفوظ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   جوتے کی نوک پہ - چوہدری انور چوہان

اس معاملہ کو حل کرنے کے لئے 16 جنوری 2019ء کو پنڈی بھٹیاں میں ملک کے نامور ذاکرین اور پاکستان علماء بورڈ میں موجود شیعہ علماء کے درمیان ایک میٹنگ ہوئی. اس میں یہ عہد کیا گیا کہ اس وقت منبر امام حسین علیہ السلام سے غیر ذمہ دار افراد کی جانب سے شیعہ عقائد کے خلاف ہونے والی باتوں اور نظریات کا کیسے سد باب کیا جائے کہ جن باتوں کی وجہ سے شیعہ قوم میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور شیعہ دشمن عناصر ان باتوں کی وجہ سے مکتب اہل بیت ع کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں۔
علماء و ذاکرین نے شیعہ مسلمہ عقائد اور عزاداری سید الشہداء علیہ السلام کے دفاع و تحفظ کی خاطر ایک اصلاحی کمیٹی تشکیل دی اور مل کر سب نے ایک ضابطہ اخلاق ترتیب دیا کہ جس کے دائرہ میں رہتے ہوئے ہر اہل منبر گفتگو کرنے کا پابند ہوگا اور جو اس کی مخالفت کرے گا اصلاحی کمیٹی اس کے خلاف ہونے والے کسی بھی مناسب اقدام کی تائید کرے گی۔ اس اجلاس میں یہ بھی طے پایا تھا کہ منبروں سے ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور چہاردہ معصومین علیہم السلام کو الہی خصوصیات کا حامل قرار دینے سے باز رکھا جائے۔ اس ضابطہ اخلاق پر ذاکرین کی طرف سے ذاکر ریاض حسین شاہ رتووال، ذاکر وسیم عباس بلوچ، شوکت رضا شوکت، علامہ علی ناصر تلہاڑا اور دیگر نے شرکت کی جبکہ ساجد نقوی گروپ کی طرف سے جامعہ المنتظر کے محمد افضل حیدری، اور دیگر مدارس سے مولانا آفتاب جوادی وغیرہ نے دستخط کئے اور اس 11 رکنی کمیٹی کے رکن بنے۔

اس اجلاس اور ضابطہ اخلاق کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اکثر خطیبوں، ذاکروں، بانیان مجالس، ماتمی انجمنوں نے اسے نمائندہ اجلاس ماننے سے ہی انکار کر دیا ہے اور اجلاس کرنے والوں اور اس میں شرکت کرنے والوں کو ننگی گالیاں دی جا رہی ہیں۔ اس معاملہ میں پنڈی سے ایک ماتمی کور کے سرپرست اور لاہور سے سمن آباد کے ایک بانی نے زیادہ ہی ات مچائی ہوئی ہے۔ دوسری طرف ملا گروپ بھی پہلے سے زیادہ زور و شور سے ذاکرین، خطیبوں کے خلاف پراپیگینڈہ کر رہا ہے اور شاید 54 یا 56 ذاکرین، خطیبوں کے خلاف عدالت میں دعوے دائر کئے جا رہے ہیں جن میں سے اکثر توہین رسالت دفعہ 295 سی کے تحت ہیں یعنی دیوبندی مسلح گروہوں کو ٹارگٹ کلنگ کے لئے شکاروں کے نام بتائے جا رہے ہیں۔

اس وقت صورتحال بہت خطرناک ہے جس میں مجھے لاشیں گرتی نظر آ رہی ہیں۔ ذاکرین، خطیب، بانیان مجالس اور ماتمی انجمنیں ہوش کی بجائے جوش سے کھیل رہی ہیں جس میں ان کا نقصان بھی ناقابل تلافی ہوگا اور انہیں ذلت بھی ملے گی کیونکہ ساجد نقوی کی قیادت میں ملا گروپ بہت منظم، وسائل سے مالامال، مذہبی جذبات سے پھولے نہ سمایا ہوا اور سیاسی و حکومتی اثر و رسوخ کا مالک ہے۔
یاد رہے کہ جہالت اور جذبات کبھی بھی علم اور نظم و ضبط کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔

Views All Time
Views All Time
1008
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: