Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

اسرائیلی وزیراعظم کتنابے بس ہے

Print Friendly, PDF & Email

سارہ نیتن یاہو اسرائیل کی خاتون اول ہے۔ اس کا خاوند نیتن یاہو چوتھی بار وزیراعظم بنا ہے۔ اس کی سیاسی جماعت  لکڈ(Likud)  اسرائیل کی سب سے مقبول جماعت ہے۔ آنے والے الیکشن میں اس کی پارٹی کی حکومت ہو گی۔ دیکھا جائے تو انتظامی سطح پر نیتن یاہو اپنے ملک کا مردِ آہن ہے۔ یہ بھی طے شدہ سچ ہے کہ دنیا کا سب سے مضبوط اور طاقتور حکمران ہے۔ امریکا کا صدر بھی بہت حد تک اس کے سامنے کم حیثیت ہے۔ سعودی عرب کا بادشاہ اور ولی عہد تک چوری چھپے اس سے ملتے رہتے ہیں۔ اردن میں ہونے والی ان ملاقاتوں کو کسی بھی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ذکر تک نہیں ہو گا لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کا بادشاہ اور شاہی خاندان اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے اسرائیلی وزیراعظم کی خوشنودی حاصل کرنے کی بھرپورکوشش کرتے ہیں اور بظاہر کامیاب بھی ہیں۔

ہمارے جیسے  ممالک کے لیے تو سعودی عرب کا شہنشاہ ’’خادمِ حرمین‘‘ ہے مگر مضبوط اور طاقتور ممالک کے سامنے اس کی رَتی برابر بھی اہمیت نہیں ہے۔ عرض کرنے کا مقصد انتہائی سادہ ہے۔کسی بھی زاویہ سے پرکھ لیجیے۔ نیتن یاہو دنیا کا طاقتور ترین سیاستدان ہے مگرعجیب بات یہ ہے کہ اپنے ملک یعنی اسرائیل میں’’نظامِ انصاف‘‘ کے سامنے وہ  بے بس ہے۔ وہ شخص جسے کسی بھی امریکی صدر سے ملنے کے لیے کسی خاص تردد کی ضرورت نہیں۔ اپنے ملک میں معمولی سے سرکاری اہلکار کے سامنے ایک ٹانگ پر کھڑا نظر آتا ہے۔ سارہ نیتن یاہو کافی عرصے سے اپنے ملک کی عدالتوں میں زیرِعتاب ہے۔ چند برس پہلے وزیراعظم ہاؤس کے چھوٹے سے ملازم نے عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ دائرکر دیا کہ سارہ نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ہے اور کرختگی سے کام لیتے ہوئے کمرے سے باہر نکلنے کا حکم دیا ہے۔ کافی دیر تک تو برداشت کرتا رہا۔ مجبور ہو کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

وزیراعظم کی بیوی عدالت کے سامنے دفاع کرنے میں ناکام رہی کیونکہ وزیراعظم ہاؤس کا کوئی ملازم بھی یہ جھوٹ بولنے کے لیے تیار نہیں تھا کہ وہ ایک بدتمیز عورت نہیں ہے۔ اپنی عزت بچانے کے لیے اس خاتون نے اس ملازم سے معافی مانگی اور پھراسے چالیس ہزار ڈالر بطور جرمانہ ادا کیے۔ یہ کوئی زیادہ دورکی بات نہیں۔ 2016ء کا واقعہ ہے مگر تین دن پہلے اسی خاتون پر ایک نیا مقدمہ دائر کیا گیا۔سارہ نیتن یاہو کھانے پینے کی شوقین عورت ہے۔ سرکاری رہائش گاہ کا شیف موجود ہے مگر اس کے ہاتھ کے بنائے ہوئے کھانے میں وہ لذتِ  نہیں جو بیگم صاحبہ کو پسند آئے۔ وزیراعظم سے کئی بار فرمائش کی کہ سرکاری اسٹاف میں کوئی نیا شیف رکھ لے مگر دنیا کے مضبوط ترین آدمی کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا کہ وہ اپنے گھر میں ایک ملازم کو نکال دے یا اس کی جگہ دوسرا بہتر باورچی تعینات کردے۔

اس کا چیف آف اسٹاف بھی یہی مشورہ دیتا تھا کہ وہ ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر چھوٹے سے چھوٹے اہلکار کو کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ اسرائیل کا ’’نظام عدل‘‘ اس درجہ فعال اور مضبوط ہے کہ اگر وہ شیف عدالت میں چلا گیا اور اس نے اپنی بے گناہی ثابت کردی، تو ہو سکتا ہے کہ یاہو کو وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑیں۔ بہرحال بیگم نے اس ساری صورتحال کا ایک اور حل نکالا۔اس نے شام کا کھانا تل ابیب کے ان باورچیوں سے منگوانا شروع کر دیا جو اسے پسند تھے۔ یہ تمام شیف تقریباً روزانہ یا ہفتے میں دو تین بار، سارہ نیتن یاہو کے پسندیدہ کھانے بنا کر وزیراعظم ہاؤس بھجوا دیتے تھے۔ یہ سلسلہ دو تین سال سے جاری تھا۔ کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی | محمد حنیف

سب کا خیال تھا کہ وزیراعظم کی بیوی کو کم ازکم یہ اختیار تو حاصل ہے کہ اپنی مرضی کا کھانا کھا سکے مگر ملک کی ’’وزارتِ انصاف‘‘ کو جب یہ پتہ چلا کہ وزیراعظم کی بیوی، سرکاری گھر میں مہنگے ترین کھانے باہر سے منگوا رہی ہے تو ان کے کان کھڑے ہو گئے۔ پولیس کے عام اہلکارکی ذمے داری لگی کہ وہ تفتیش کرے کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ وہ اہلکار وزیراعظم ہاؤس گیا اور وہاں کے ملازمین سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔ اسے چند دنوں میں پتہ چل گیا کہ سارہ، کھانے باہر سے منگواتی رہی ہے اور اس پرسرکاری پیسے خرچ ہوئے ہیں۔

معمولی سا اہلکار کس سطح کا ہو گا۔ شائد ہمارے ملک میں پولیس انسپکٹرسے بھی نیچے۔ ویسے میری نظر میں کوئی بھی سرکاری ملازم معمولی نہیں ہوتا۔ حالات انسانوں کو معمولی یا غیرمعمولی بنا دیتے ہیں۔ وزیراعظم ناتن یاہو جیسا دبدبے والا شخص اس اہلکار کے سامنے چوہا بن گیا۔ اہلیہ کو تفتیش میں شامل کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ تین سالوں میں سرکاری طور پر تقریباً ایک لاکھ ڈالر کا کھانا منگوایا گیا ہے۔تفتیشی افسر کا سوال صرف ایک تھا کہ کیا وزیراعظم ہاؤس میں شیف موجود تھا کہ نہیں۔ لازم ہے کہ جواب تھا کہ ہاں سرکاری باورچی تو موجود ہے۔ دوسرا سوال یہ تھاکہ اس کی موجودگی میں کھانا باہر سے کیوں منگوایا گیا۔ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سارہ نے جب یہ جواب دیا کہ سرکاری شیف کے ہاتھ میں وہ ذائقہ ہی نہیں جو اسے پسند ہے تو معاملہ بے حد بگڑ گیا۔

پولیس کے اہلکار نے فوراً کہا، کہ اگر آپکو اپنے شیف کا کھانا پسند نہیں تھا تو پھر بھی آپ سرکاری پیسے سے ذاتی ذائقے والا کھانا کیسے منگوا سکتی ہیں؟ یہ تو آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس شوق کے لیے تو اپنی جیب سے ادائیگی ہونی چاہیے تھی۔ بیگم صاحبہ کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ جناب میں ملک کے وزیراعظم کی بیوی ہوں، ٹرانسفر اس مشکل مقام پر کرواؤنگی کہ ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔ ہاں تمہاری ترقی بھی رکوا دونگی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔معمولی سے اہلکار نے تحقیقات کو مکمل کیا اور رپورٹ وزارت انصاف میں بجھوا دی۔ وہاں قانونی ماہرین نے جائزہ لیا اور انھیں یقین ہو گیا کہ وزیراعظم کی بیگم نے سرکاری شیف کی موجودگی میں ایک لاکھ ڈالر کا کھانا سرکاری خزانہ سے منگوایا ہے لہذا اس کے خلاف مقدمہ دائر ہونا چاہیے۔ چند دن پہلے سارہ نیتن یاہو پر مقدمہ دائر کیا گیا۔ آپیقین کرینگے کہ اس پر کون کون سی دفعات لگائی گئیں۔

فراڈ، رشوت ستانی، بددیانتی اور قوم کے اعتماد پر پورا نہ اُترنے کے الزامات۔ یعنی صرف ایک لاکھ ڈالرکے ناجائزخرچ نے دنیا کے مضبوط ترین شخص کی بیوی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔’’وزارتِ انصاف‘‘کا وزیر بھی نیتن یاہوکی سیاسی جماعت کا ہے۔وزیرکی مجال نہیں تھی کہ اپنے ماتحت عملے کو صرف کہہ سکے کہ وزیراعظم کی اہلیہ کو معمولی سی رعایت دے دو۔ چلواتنی سخت دفعات نہ لگاؤ۔ مگر اسرائیلی وزیراعظم، حکومت کے دوران، اپنے ماتحت افسروں اور وزارت کے سامنے مکمل طور پر لاچار نظر آیا۔ حالت یہ ہے کہ سارہ نیتن یاہو پر پورے ملک میں شدید تنقید ہو رہی ہے۔ سارہ کو ان جرائم کی بنیاد پر پانچ سال قید ہو سکتی ہے۔

عرض کرنے کا مقصد ہے کہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ زندہ معاشرے اپنے قائدین پر کتنی کڑی نظر رکھتے ہیں۔ یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ قانون کی حکمرانی کس کو کہتے ہیں۔ انصاف کس چڑیا کا نام ہے۔ مساوات اور برابری کیا ہوتی ہے۔ ماضی کا کیا ذکر کریں۔ آپ گزشتہ بیس برسوں میں پاکستانی صدور، وزراء اعظم، وزراء اعلیٰ اور گورنروں کے اخراجات کی فہرست بنا لیں۔اس خرچے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں۔ ایک تو وہ تمام پیسہ جو سرکاری کاموں اور ڈیوٹی میں خرچ ہوا اور دوسرا خرچہ جو انھوں نے اپنی ذات اور اپنے خاندان پر خرچ کیا۔ سرکاری پیسے کا ذکر کر رہا ہوں۔ یقین فرمائیے کہ آپ ان کے اخراجات کو دیکھ کر ششدر رہ جائینگے۔ صرف ان کے کھانے یعنی کچن کے اخراجات سالانہ سطح پر کروڑوں سے اوپر ہیں۔ اب تو یہ معاملہ اربوں میں جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   انڈیا کی نہیں،اپنی فکرکیجیے - ایاز امیر

ملک امیر محمد خان آخری نسل کے امین تھے جو ذاتی اخراجات اپنی جیب سے خرچ کرتے تھے۔ شائد ملک معراج خالد کا بھی یہی وتیرہ ہو مگر طویل عرصے سے کوئی ایسا حکمران نہیں آیا جس نے اپنے اہل خانہ کے اخراجات پر کڑی نظر رکھی ہو یا جائز حدود میں رکھنے کے احکامات جاری کیے ہوں۔ کچن کو چھوڑ دیجیے۔ جس نے اپنی طرزِ زندگی، سفر اور عمل کو سادگی کی طرف مائل کیا ہو۔ کیا کسی ادارے کو تفتیش کرنے کی ہمت ہے کہ وہ ان اخراجات پر نظر رکھ سکے۔ شائد تحقیق کا لفظ مشکل ہو۔ اس طرزِعمل میں فوجی اور عوامی بادشاہوں میں رَتی برابر بھی فرق نہیں۔

اچھی طرح یاد ہے کہ چند برس پہلے ایک وزیراعلیٰ نے اپنے خاندان میں تیس سرکاری گاڑیاں تقسیم کر رکھی تھیں۔ بیٹے، بیٹیاں، داماد، بہویں اور دیگر رشتے دار سرکاری خرچے پر زندگی کے تمام اہتمام پورے کر رہے تھے۔ ان کے گھروں کے تمام اخراجات، وزیراعلیٰ ہاؤس سے پورے کیے جا رہے تھے۔ انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ گزشتہ پندرہ بیس سال میں ہمارے پاس ایک بھی ایسی مثال نہیں جس میں سرکاری وسائل کو ’’شیرمادر‘‘ سمجھ کر استعمال نہ کیا گیا ہو۔

کھانا منگوانے کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر تک ہیلی کاپٹر بھجواناتو بالکل معمولی سی بات ہے۔ اسکو تو برا سمجھا ہی نہیں جاتا بلکہ یہ تو حق ہے۔ یہاں تک ہوا ہے کہ اچھے تکے کباب اور مچھلی تلنے والوں کو سرکاری جہاز سے غیرممالک میں منگوایا گیا ہے۔ صرف اسلیے کہ وزیراعظم یا صدر صاحب کو غیرملکی شیف کا ذائقہ پسند نہیں تھا۔ کبھی بھی اس نکتہ سے حاکمین کی سرکاری رہائش گاہوں کے اخراجات پر غور کریں، تو پسینے چھوٹ جائیں گے۔

کسی نے بھی سرکاری پیسہ پر رحم نہیں کیا۔ ہم سارا دن اسرائیل اور صیہونی سازشوں کا ذکر کرتے ہیں۔ چلیں، حوصلہ کر کے، ایک آدھی مثال تو نکال لیں جہاں ہمارے صدر، وزیراعظم یا دیگر گورنمنٹ ہاؤسز میں بیگم صاحبہ کی مرضی کے بغیر پتا بھی ہلتا ہو۔ دراصل ہم اپنے دشمن خود ہیں۔ اپنے مجرم بھی خود ہیں کیونکہ ہم منافق لوگ ہیں، لہذا حقیقت کا سامناکرنے سے گھبراتے ہیں، بلکہ اس کے وجود سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔ مگر اور کتنی دیر یہ سب کچھ چلتا رہیگا۔ یا شائد ہمیشہ ہی ایسا ہوتا رہیگا۔ مجھے یہاں بہتری کی توقع بالکل نہیں ہے! ہو سکتا ہے، آپکو ہو!

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Views All Time
Views All Time
504
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: