Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ہندی فلم رنگ رسیا

Print Friendly, PDF & Email

2011 کی بالی ووڈ فلم “رنگ رسیا” 19 ویں صدی کے عظیم ہندوستانی پینٹر راجا روی ورما کی بائیو گرافی ہے جسے ہدایت کار کیتن مہتا نے فلمی روپ بخشا ہے ۔فلم کا آغاز دورِ حاضر سے ہوتا ہے ۔ ایک آرٹ گیلری میں راجا روی ورما کی بنائی پینٹنگز کی نمائش ہو رہی ہے اور ہال کے باہر سیکڑوں افراد اس “فحاشی” کے خلاف پر تشدد احتجاج کر رہے ہیں ۔ احتجاجیوں کے مطابق مذکورہ پینٹنگز ہندوستانی ثقافت و اقدار کے خلاف ہیں لہٰذا ان کی نمائش فی الفور روک دی جائے ۔

اسی دوران فلم نوآبادیاتی دور میں چلی جاتی ہے ۔ عدالت جاری ہے ، جیوری اراکین راجا روی ورما (رندیپ ہوڈا) کو کینہ توز نگاہوں سے گھور رہے ہیں ۔ ان پر الزام ہے انہوں نے ہندو دیوی دیوتاؤں کی توہین اور اپنی پینٹنگز میں انسانی جسم کو ننگا دکھا کر اعلیٰ ہندوستانی ثقافت و اقدار کو چیلنج کر کے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے ۔

فلم ایک بار پھر پیچھے چلی جاتی ہے ۔ جنوبی ہند کی ایک تامل ریاست ، جہاں معصوم بچہ روی ورما دیواروں کو پینٹ کر رہا ہے ۔ ریاست کا حکمران بچے کی صلاحیتوں سے خوش ہو کر اس کی سرکاری سرپرستی کرتا ہے ۔ بچہ بڑا ہونے کے بعد ایک جانب “راجا” کا خطاب پاتا ہے دوسری جانب ریاستی سربراہ کی موت کے بعد حاسد ولی عہد کے حکم پر ممبئی ہجرت کرتا ہے ۔ ممبئی میں اس کی ملاقات سوگندھا (نندنا سین) سے ہو جاتی ہے ۔ وہ سوگندھا کو ہندو دیویوں کا ماڈل بنا کر فن پارے تخلیق کرنے لگ جاتا ہے ۔ راجا روی ورما کے مطابق ہندوستان آرٹ اور اساطیر کی سرزمین ہے ۔ یہاں کی اساطیر محیرالعقول اور دم بخود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ انہیں دنیا کے سامنے لانا اور نئی نسل کو اپنی مائتھالوجی سے آشنا کرنا ضروری ہے ۔

 وہ مائتھالوجی کو تصویروں میں قید کرنے نکل جاتا ہے ۔ متھ جو سیکولر ، آزاد خیال اور روشن فکر ہے ۔ جہاں جنس گناہ نہیں فن کا درجہ رکھتا ہے ، جہاں مرد و عورت کا ملاپ حسین ترین لمحہ مانا جاتا ہے ، جہاں انسانی جسم کے خدوخال کو قدرت کی بہترین صنّاعی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ راجا روی ورما تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دیوی دیوتاؤں کی تصاویر بناتا ہے ۔ مائتھالوجی ………. ہندو مائتھالوجی کے مختلف ڈھنگ ، روپ اور پہلو رنگوں میں ڈھل کر کاغذ پر ابھرتے ہیں ۔ وہ سوگندھا کو دیوی کے روپ میں پیش کرتا ہے ۔

یہ بھی پڑھئے:   عریاں مناظر اور ننگی گالیاں، کیا یہی ہے نیا بھارتی فارمولہ؟

 ایک جرمن کیمرہ مین اور ایک مقامی سرمایہ دار سیٹھ گووردن داس (پاریش راول) کی مدد سے تصاویر پرنٹ ہو کر ہر ہاتھ ، گھر ، دوکان تک پہنچنے لگتے ہیں ۔ شودر جنہیں برہمن اقدار کے تحت مندر جانے اور بھگوان کے درشن کی اجازت نہیں ، راجا روی ورما کی بدولت بھگوان خود ان کے گھر پہنچ جاتا ہے ۔ راجا روی ورما انسان اور خداؤں کے درمیان کسی امتیاز کا قائل نہیں ۔ وہ چھوت چھات کے برہمن تصور کو ماننے سے بغاوت کرتا ہے ۔ وہ جنس کو ممنوعہ تسلیم کرنے سے انکاری ہے ۔ اس کے مطابق جنس جمالیاتی احساس ہے ، سکون آور اور خوبصورت ۔

 وہ دنیا کو ، انسانوں کو ، انسانوں کے جذبات ، احساسات و تخلیقات کو رنگوں میں ڈھالتا ہے ۔ رنگ ہی تو زندگی ہے ، رنگ ہی زندگی کو زندگی کا احساس دلاتے ہیں ، رنگ نہیں تو کچھ نہیں ۔ وہ رنگوں کا عاشق ہے ، رنگوں پہ مرتا اور رنگوں پہ جیتا ہے ۔ وہ ہنوستانی سینما کے بانی دادا صاحب پھالکے کو اپنی جمع پونجی تھما کر کہتا ہے ، جاؤ ہندوستان کو چلتی پھری تصویروں (سینما) سے آشنا کرو ۔

دوغلا سماج سوگندھا کی برہنہ چھاتی کو مقدس گنبد ، تخلیق کا اوزار اور نسائیت کی خوبصورت علامت سمجھنے کی بجائے اسے شہوت کا آلہ تصور کر کے سوگندھا کو رنڈی کے نام سے پکارتا ہے ۔ ایک ننگی لڑکی دیوی کے مقدس نام کی حق دار نہیں ہو سکتی ؛ سماج اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے ۔ راجا روی ورما کی اس رنگین دنیا کو ، اظہار کی آزادی کو سماج پیروں تلے روندتا اسے غیر ہندوستانی اور نوآبادیاتی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے ۔

 سماج کے ٹھیکیداروں کی عدالت آج بھی جاری ہے ۔ سماج کے یہ ٹھیکے دار عورت کو عزت دینے سے منکر ہیں ۔ وہ چھوت چھات کے قائل ہیں ، وہ رنگوں سے نفرت کرتے ہیں ، وہ زندگی کو بے رنگ کر دینے کے خواہش مند ہیں ۔ مودی کے ہندوستان میں یا شاید ہماری آج کی دنیا میں سماجی ٹھیکے داروں کی یہ عدالت تاحال جاری ہے ۔

“رنگ رسیا” کیتن مہتا کی مزاحمت ہے جسے رندیپ ہوڈا نے ایک سپاہی کی طرح آگے بڑھایا ہے اور ان کا ساتھ دیا ہے نندنا سین نے ۔ نندنا سین نے اداکاری کے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آتا کہاں حقیقت ہے اور کہاں مجاز ۔ نندنا سین نے کمالِ جرات کے ساتھ مقدس گنبد اور تخلیق کے سوتوں کا دلکش نظارہ دکھایا ہے ۔ جب وہ سندیش سیندیلیا کی موسیقی کی مدھر دھنوں اور سنیدھی چوھان اور روپ کمار راٹھور کی دلکش آواز کے دوش پر رنگوں کو جسم پر اوڑھ کر رنگوں میں ڈوبے رندیپ ہوڈا کے ساتھ جنسی عمل کرتی ہیں تو دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے ؛ “یہی ہے مرد و عورت کے ملاپ کا وہ حسین و رنگین منظر جسے رنگ آشنا انسان ہی تخلیق کر سکتا ہے” ۔

یہ بھی پڑھئے:   آگھاٹ ۔۔۔۔۔۔ مزدور ایکتا پہ بنی کلاسیکل فلم

کاہے ستائے رے پیا

کائے ستائے رے

پیڑھ نہ جانے چلیا رے

 نندنا سین نے ہندی سینما کو بہت کم فلمیں دی ہیں مگر وہ جب بھی کسی فلم میں جلوہ گر ہوئیں خود کو منوا کر گئیں ۔ رندیپ ہوڈا تو غالباً مشکل کرداروں کے لیے ہی بنے ہیں ۔

فلم کی سینماٹوگرافی کو گلے لگانے کو جی چاہتا ہے ۔ مناظر کی عکاسی بھی کسی پینٹنگ کی طرح کی گئی ہے ۔ ہرچند “رنگ رسیا” کو مکمل قرار دینا مشکل ہے مگر یہ طے ہے کہ مذہبی گھٹن اور عدم برداشت کے اس بھیانک ماحول میں “رنگ رسیا” ہوا کا ایک خوش گوار جھونکا ہے ، امیدِ بہار کی علامت اور راجا روی ورما کی مزاحمت کو دو آتشہ بنانے کا جرات مندانہ قدم ۔ 2011 میں بنی “رنگ رسیا” کو بڑی جدوجہد کے بعد 2014 کو سینما پر آنے کی اجازت ملی ۔ سینسر بورڈ کے مطابق فلم مخربِ اخلاق ہے ، عورت کی چھاتی فحش ہے ۔ بھلا عورت کی چھاتی بھی فحش ہوسکتی ہے؟۔

“رنگ رسیا” کو رنگوں کی چاہت میں دیکھنا چاہیے ۔ اسے آزادیِ اظہار کے استعارے ، عدم برداشت کے خلاف جنگ اور رواداری کی علامت سمجھ کر دیکھئے ۔ واضح رہے یہ فلم صرف فکری بالغان کے لیے ہی مخصوص ہے ۔

Views All Time
Views All Time
135
Views Today
Views Today
1

ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کا تعلق لیاری، کراچی سے ہے اور وہ سیاست و شوبز پہ لکھتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: