Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ایک تھپڑ سے کچھ نہیں ہوگا – رانا تنویر عالمگیر

Print Friendly, PDF & Email

مولوی کے بعد صحافی پاکستان کی وہ مخلوق ہے جس سے کوئی کچھ نہیں پوچھ سکتا۔ جس پر کوئی ضابطہ، کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ جس کی چاہیں عزت اتار کے رکھ دیں۔ جسے چاہا فرشتہ بنا دیں۔ ٹی وی پہ بیٹھے اینکر سے لے کر معمولی نمائندے تک یہی صورت حال ہے۔ نیوز چینلز پہ سیاست دانوں سے لیکر ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کے لیے ضابطوں پر بحث و تکرار ہوتی رہتی ہے مگر جیسے ہی صحافیوں کے لیے ضابطے پر بات ہو تو آزادی صحافت کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں اور وزیراعظم تک کو معافی مانگ کے جان چھڑوانا پڑتی ہے۔ آج ایک عورت کو تھپڑ لگ گیا تو صحافت کے ساتھ ساتھ آزادی و حقوق نسواں کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ۔مگر تب کیا ہوتا ہے جب یہی چینل عورتوں کی ڈمی بنا کر ان کا مزاق بناتے ہیں؟ تب حقوق نسواں والے کہاں چلے جاتے ہیں جب خواتین ممبران اسمبلی تک کو چینلز پہ نچایا جاتا ہے۔ ان پہ جملے کسے جاتے ہیں۔ بیہودہ مزاق بنتے ہیں۔ اس پہ آج تک حقوق نسواں و انسانی حقوق کے متوالے کیوں نہیں بولے؟
ہر روز چینلز پہ سرکس ہوتا ہے اور سیاست دانوں کا تماشا بن رہا ہوتا ہے۔ کرپشن کی داستانیں سنائی جارہی ہوتی ہیں۔ مگر کبھی میڈیا والے نے یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا کہ اینکر کے پاس ذاتی جہاز کہاں سے آیا؟ اینکر چند سالوں میں ارب پتی کیسے بن گئے؟ صحافیوں پہ لفافوں کے الزامات میں کس حد تک سچائی ہے؟ 
کیا کبھی کسی چینل یا اخبار کے مالک نے یہ سوال اٹھایا کہ نمائندے ہمیں لاکھوں روپے سیکیورٹی کے نام کیوں اور کیسے دیتے ہیں ؟ انہیں اس سے کیا مفاد ہے؟ اشتہارات وغیرہ کی شرائط بھی پوری کرتے ہیں۔ یہ کبھی ڈسکس نہیں ہوگا کیونکہ اس سے آزادی صحافت کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔
کسے نہیں معلوم کہ پاکستان میں نمائندگی فقط بلیک میلنگ کے لیے لی جاتی ہے۔ تھانے اور دیگر سرکاری اداروں کے کرپٹ اہلکاروں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے لی جاتی ہے۔ مجبوروں کو ڈرا دھمکا کے بھتہ وصول کرنے کے لیے لی جاتی ہے۔ اپنے کالے دھندوں کو چھپانے کے لیے لی جاتی ہے۔ اس پر کتنے لوگ لکھتے ہیں؟ کیوں نہیں لکھتے؟ کون ہے جسے ان معاملات کی خبر نہیں؟
میرا دعویٰ ہے کہ اگر میڈیا مسلمان ہوجائے تو پورا پاکستان نہ صرف مسلمان ہوجائے بلکہ حقیقت میں اسلام کا قلعہ بھی بن جائے۔اور سیاست دان، مولوی،سرکاری اہلکار وغیرہ ایسے سیدھے ہوں کہ دنیا ہماری مثالیں دے۔ مگر بات وہی ہے کہ “اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کو کوئی بھی تیار نہیں” اور جب تک اپنی منجی تھلے ڈانگ نہیں پھیری جائے گی، تب تک بات بھی نہیں بنے گی۔ ایسے میں ایک تھپڑ سے کچھ نہیں ہوگا مگر شرم ہو تو تمام میڈیا کو یہ تھپڑ اپنے گال پہ محسوس کرنا چاہیے۔ شاعر سے معذرت کے ساتھ۔
مرے ملک کی صحافت کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

Views All Time
Views All Time
508
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جو کچھ کروا رہی ہے نون لیگ ہی کروا رہی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: