Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ہندو لڑکیوں کا جبری قبول اسلام

Print Friendly, PDF & Email

بنیادی طور پر یہ موضوع غلط العام ہے۔ اس میں مذہب کی تبدیلی اگر اہمیت رکھتی ہوتی تو اس کے ساتھ فوری شادی کا تردد شاید کبھی نہ کیا جاتا۔ اس پورے واقعہ میں مذہب سب سے زیادہ متاثرہ فریق دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ درحقیقت محض یہ پسند کی شادی کا عمل اور فعل ہے۔ آج تک ایسا ایک بھی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا جس میں جبری مذہب تبدیلی کا عمل الگ سے رپورٹ کیا گیا ہو ۔

میرا خصوصی دلچسپی کا موضوع پاکستانی میڈیا ہے۔ سکول جانے سے پہلے عربی قائدہ پڑھنے کے فوری بعد اس وقت کے چھپنے والے جملہ اخبارات پڑھنا عادت بنا لی تھی۔ یہ شاید 74 کی بات ہے۔ 84 میں لاہور سے جنگ شائع ہونا شروع ہوا تو اسے چاٹنا بھی عادت بن گئی مستقل تمام پاکستانی اخبارات بلا ناغہ حفظ کرنے کی یہ عادت پیشہ ورانہ زندگی میں داخلہ تک جاری رہی ۔ جس نے دو چیزوں کا سبق سکھایا کہ پاکستانی میڈیا کی نیو رکھنے والے اداروں نے محض اسے جمہوریت ۔ بھٹو اور پی پی پی کی مخالفت میں ڈیزائن کر رکھا ہے۔ معلومات کی کنٹرولڈ فراہمی اس انداز میں کی جاتی ہے کہ ایک متعصب اور معلومات سے نابلد بھٹو دشمن روبوٹ پیدا کیا جا سکے۔ 
بھٹو کی سندھ میں طاقتور موجودگی نے سندھ کو بھی نشانہ بنا رکھا ہے۔

جن واقعات اور سانحات کو پنجاب میں برپا ہونے پر اندرونی صفحہ پر شائع کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا اگر سندھ میں وہی وقوعہ رونما ہو جائے تو صفحہ اول پر جگہ مل جاتی ہے۔ 
پسند کی شادی کا رجحان ہمارے معاشرہ میں تیرہ چودہ سے لے کر 18 سال تک کی عمر کی بچیوں میں ہایا جاتا ہے۔ اسی عمر میں بچیاں خوابوں کی دنیا میں رہتی ہیں اور اڑ کر کسی آزاد فضا
میں منتقل ہونا چاہتی اور اس کیلئے کچھ بھی داو پر لگانے کو تیار رہتی ہیں۔ پسند کی شادی یا گھر سے بھاگ کر شادی کا یہ عمل پنجاب کے ہر ضلع میں کم از کم دو سے تین واقعات روزانہ کے تناسب سے ایک معمول ہے۔ اس میں غریب کلاس کی بچیوں کی تعداد 90 فیصد تک ہوتی ہے جو محض اپنے معاشی مسائل اور ماحول سے فرار چاہتی ہیں۔ 5 سے 7 فیصد اپر مڈل کلاس کی بچیاں جو سچ مچ کسی love affair کا شکار ہوتی ہیں۔ 
یہی تناسب سندھ میں بھی ہے۔پنجاب میں یہ معاملہ عیسائی اور مسلمانوں کی غریب ترین کلاس میں زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   جو اماں ملے تو کہاں ملے

سندھ میں ہندو آبادی کی موجودگی اور خصوصی طور پر ہندو آبادی کے بڑے حصہ کی معیشت کی بربادی بھی اس کا ایک سبب ہے۔ 
گھر سے بھاگنا اور پسند کی شادی کے عمل پر ماں باپ کا احتجاج فطری رویہ ہے۔ اور بہت زیادہ ہوتا ہے۔ غیر عملی زندگی گذارنے والوں کیلئے لڑکی کا اغوا فلمی قسم کی داستان اور ناقابل قبول ہے۔ لیکن پولیس ۔ وکیل اور جج کیلئے یہ ہمیشہ ایک انتہائی عام معمول ہے۔ پولیس ایسے واقعات کی رپورٹ درج نہیں کرتی ۔ ہائی لائیٹ ہونے پر مقدمہ درج ہو جائے تو علاقہ کے سیاسی کارکن ۔ چودھری ۔ پنچایتی لوگ ایسے معاملات میں دخل اندازی کرنے سے بری طرح خوفزدہ ہوتے ہیں۔ اپنی سیاسی زندگی کے آغاز میں میں بھی ان واقعات کو اسی انداز میں دیکھا۔ ایک ملنے والے کی بیٹی اپنے کزن کے ساتھ بھاگ گئی۔ اس نے مجھ سے ہتھیار اور مسلح افراد کا مطالبہ کیا ۔ میں نے پورا کردیا۔ میرے بندے ایک مہینہ ان کے ساتھ ڈھونڈتے رہے اسی اثنا میں الیکشن کا اعلان ہو گیا۔ اگلے روز پتہ چلا کہ انہوں نے میرے بندے واپس بھجوا دیئے ہیں۔ لڑکے کے والدین نے ان کی منت کی شادی تسلیم کر لی گئی اور صلح ہو گئی وہ لڑکا میرے مقابلہ پر ضلع کونسل کا امیدوار بن کر آیا ۔ مجھے 400 سے زاید ووٹوں کا نقصان پہنچایا۔

اسی طرح کے متعدد واقعات سامنے آتے رہے۔ ان میں بالآخر راضی نامہ ہوتا ہے اور جو بھی سیاستدان لڑکی والے کی مدد کرے اس کی تباھی ہوتی ہے۔ فتح بالآخر لڑکے والے کی ہوتی ہے 
صلح کی کئی صورتیں ہیں۔ انتہائی چھوٹے طبقہ میں پیسوں کا لین دین معمول ہے۔ اپر مڈل کلاس میں ضد کرکے طلاق کروائی جاتی ہے اور لڑکی کی بالجبر شادی بعد میں کی جاتی ہے جو شریعت کی رو سے زنا بالجبر ہوتی ہے اور جاھل مذہبی والدین اس پر خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   کہتا ہے دل کہ اسکو بھی محشر پہ ٹال دے-ڈاکٹر ایم ایچ بابر

ممکن ہے کہ کوئی نہ کوئی ایسے سچے واقعات بھی ہو گئے ہوں۔ مگر جن واقعات میں لڑکیاں ماں باپ کے حق میں بیان دے دیتی ہیں ۔ ٹرائیل کے سٹیج پر ان میں بھی صلح ہو جاتی ہے ۔ صلح نہ بھی ہو ملزم سزا بھی ہو جائے تو سچ رضامندی سے جانا ہی ہوتا ہے۔ 
سندھ میں کیا میری ناقص رائے میں انڈیا میں اس سے متضاد یعنی مسلمان بچیوں اور یورپ میں بھی مسلمان بچیوں کی غیر مسلموں سے شادیاں ایک معمول بنتی جا رہی ہیں۔
ہاں اس میں حکومت کے کرنے کا کام ہندو ۔ عیسائی اور دیگر محروم طبقات کی معیشت کو ترجیحی بنیادوں پر مستحکم کرنا ہے۔ ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے ان طبقات کی معاشی اور معاشرتی سطح پر بلیک میلنگ سے بچایا جا سکے ۔ خصوصی طور پر متروکہ وقف املاک کی جائیدادوں کئ آمدنی ان طبقات کی عبادت گاہوں اور مسلمان عہدیداروں کی چراگاہ بنانے کی بجائے ان کی آمدنی کا ذریعہ بنائی جائیں۔
۔




Views All Time
Views All Time
119
Views Today
Views Today
6

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: