Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

عورت مارچ میں عورتوں کے حقیقی مسائل کہاں گئے؟

Print Friendly, PDF & Email

2008 کے اپریل کے مہینے کا وسط چل رہا تھا ہمارے ایک دوست (جو ان دنوں بی اے کے طالب علم تھے یا بی اے کلئیر کر چکے تھے اور مزدور کسان پارٹی سے وابستہ تھے آج کل وکیل ہیں اور 2013 میں مزدور کسان پارٹی کے پلیٹ فارم سے ایم پی اے کا الیکشن لڑ چکے ہیں) نے کہا کہ یکم مئی یوم مزدور پر لاہور پریس کلب چلنا ہے ریلی کے لیے۔ میں نے حامی بھر لی۔ لاہور پریس کلب پہنچے تو وہاں کچھ دیر بعد ایک گاڑی آئی جس میں سے دو مرد اور ایک خاتون جینز اور کرتے میں ملبوس نکلے۔ ہاتھوں میں مہنگے موبائل اور منرل واٹر کی بوتلیں۔ انہوں نے پہلے سے موجود کچھ ایسی ہی کلاس کے مزید لوگوں کے ساتھ سلام دعا کی اور ریلی شروع ہو گئی۔ وہاں سے مال روڈ آگئے۔ اب آگے آگے وہ لیڈ کر رہے تھے پیچھے کچھ پلے کارڈز اکا دکا بینر اٹھائے مزدور چل رہے تھے۔ ہم بھی ساتھ ساتھ۔

گھنٹے دیڑھ بعد ریلی اپنے اختتام کو پہنچی۔ بابا نجمی نے بھی اپنی شاعری سے مزدوروں کا دل گرمایا۔ ریلی سے فارغ ہو کر پینوراما سنٹر والی سائڈپر سروس روڈ پر سائے میں کھڑے ہو کر کوسٹر کا انتظار کرنے لگے اور لیڈران اے سی گاڑیوں میں سوار یہ جا وہ جا۔ اور اس دوران ہمارے دوست نے وہاں موجود شربت والے کو آٹھ دس گلاس شربت دینے کا کہا۔ شربت بناتے ہوئے اس ریڑھی بان نے میرے دوست سے پوچھا “پاء جی اے سارے بندے ایتھے کیوں اکٹھے ہوئے نیں؟(بھائی جان یہ سارے بندے آج یہاں کیوں اکٹھے ہوئے ہیں)” میرے دوست نے کہا” اسیں سارے مزدور آں تے مزدوراں دے حق وچ ریلی کڈی اے اج” (ہم سب مزدور ہیں اور آج مزدوروں کے حق کے لیے ریلی نکالی ہے) وہ ریڑھی بان حیران ہو کر بولا “سر جی تہاڈے ہتھ وچ دو دو موبائل نیں تسیں وی مزدور او؟” جس کے جواب میں سوائے ایک شرمندہ مسکراہٹ کے میرے دوست کے پاس جواب نہ تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

کل کا عورت مارچ دیکھ کر مجھے یہ واقعہ یاد آگیا۔ جتنے بینرز اٹھائے خواتین نظر آئیں ان میں سے ایک بھی مجھے اس مڈل کلاس کی خاتون نظر نہیں آئی جس کو حقیقی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔ یہ اپنے لباس سے اور حلیے سے ساری کی ساری وہ کلاس نظر آرہی تھی جس نے گھر کے کام کاج کے لیے “ماسیاں” یا “چائلڈ لیبر کرنے والی بچیاں” رکھی ہوتی ہیں۔ اور ان کی تنخواہ بھی چار پانچ ہزار کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ ان پر تشدد کے واقعات جو رپورٹ ہوتے ہیں وہ اکثر سوشل میڈیا پر جگہ پاتے رہتے ہیں۔

ذہن میں یہی سوال کل سے گردش کر رہا ہے کہ یہ والی خواتین کون سی آزادی، کون سے مزید حقوق، کون سا معاشرہ چاہتی ہیں جس کے لیے مظاہرے کر رہی ہیں؟ ان کے مطالبات میں مڈل کلاس کی یا لوئر مڈل کلاس کی خواتین کو درپیش مسائل کا ذکر کیوں نہیں تھا؟کیا واقعی اس قدر حالات خراب ہیں جو اس قدر شور شرابہ ہے؟ جس طرح کی آزادی کی مانگ یہ ایلیٹ کلاس کی خواتین کر رہی تھیں وہ تو ہم نے بارہا اس کلاس میں پہلے سے دیکھ رکھی ہے۔

پھر کس کلاس کے یہ مسائل تھے جن کو یہ خواتین اجاگر کرنا چاہ رہی تھیں؟ سوشل میڈیا پر کل سے ان کے بینرز پر درج مطالبات گردش میں تھے وہیں بہت سی سوشل میڈیا بلاگرز ان مطالبات پر برہمی ، شرمندگی اور لاتعلقی کا اعلان کرتی پائی جارہی تھیں۔ کیا ایک عام تاثر جو پایا جاتا ہے کہ مختلف این جی اوز جس طرح کا ایجنڈا نافذ کرنا چاہ رہی ہیں اس قسم کے “مارچ” اور مظاہرے اس تاثر کو مزید تقویت نہیں دے رہے؟

Views All Time
Views All Time
357
Views Today
Views Today
2

قمرعباس اعوان

پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ دوستی کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ سوشل ویب سائٹس سے کافی اچھے دوست بنائے جنہیں اپنی زندگی کا سرمایہ کہتے ہیں۔ قلم کار ان کا خواب ہے اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نےبہت محنت کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: