Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email
“آپ آخر اپنے باس کو کہتے کیوں نہیں کہ تنخواہ بڑھائیں؟ تین سال ہو گئے اسی تنخواہ کو۔ مہنگائی کس قدر بڑھ چکی ہے اور تنخواہ وہیں کی وہیں۔ اخراجات پورے کرنے کے لیے ہر ماہ کچھ نا کچھ ادھار لینا پڑ جاتا ہے۔کب تک ادھار لے لے کر گزارہ کریں گے۔ اب تو ادھار بھی نہیں مل رہا” بیوی کافی زور سے بول رہی تھی۔”میں تو بارہا باس سے کہہ چکا ہوں کہ ہماری تنخواہ بڑھائیں لیکن کیا کروں بڑھا ہی نہیں رہے۔ ہر بار ایک ہی جواب کہ ابھی کمپنی کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ ” شوہر نے جواب دیا۔
اگلے دن وہ آفس گیا تو باس کا موڈ حسبِ معمول خراب تھا۔ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر بے عزتی ہو رہی تھی۔ اور وہ اپنے دل کی بھڑاس باہر آ کر اپنے دوسرے ساتھی کے سامنے نکال رہا تھا۔
اس پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے آفس ورک کے لیے وہ دو ہی تو لوگ تھے۔ بارہا ایک دو بندے بڑھانے کی درخواست کے باوجود مالکان کا خیال تھا کہ بس یہی دو لوگ سارے کام کرنے کے لیے کافی ہیں۔باس کا رویہ دیکھ کر دوبارہ انکریمنٹ کی بات کرنے کی ہمت ہی نہ رہی اس میں۔
کچھ دن بعد باس کا موڈ اچھا تھا۔ اس نے سوچا کہ آج انکریمنٹ کی بات کی جائے۔”سر مہنگائی کافی زیادہ ہو گئی ہے اور پچھلے تین سال سے تنخواہیں نہیں بڑھیں۔ پلیز سٹاف کی تنخواہیں بڑھا دیں۔ مکان کا کرایہ بھی کافی بڑھ چکا ہے اور باقی اخراجات بھی اسی طرح ہیں۔ اب گزاہ مشکل ہو چکا ہے۔ ہر ماہ ادھار لے کر مہینہ پورا کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کے سکول کی فیس بھی بڑھ چکی ہے”۔
“اخراجات بڑھ گئے ہیں تو ہم کیا کریں؟ ہم نے کہا تھا شادی کرو اور بچے پیدا کرو؟ کمپنی کا کام بڑھ نہیں رہا اور تم لوگوں کو تنخواہیں بڑھانے کی پڑی ہوئی ہے۔ کوئی نیا کام تم لوگوں سے لایا نہیں جاتا۔ اور آفس میں بیٹھ کر بھی کام پورے نہیں کر رہے۔ پچھلے مہینے کی پرافٹ شیٹ بنائی ہے تم نے؟” باس کا موڈ یکلخت بدل گیا۔
“نہیں سر کام کا لوڈ بہت زیادہ ہے۔ ہم دو تو لوگ ہیں جو سارا آفس چلا رہے ہیں۔اکثر آفس کے بعد بھی دیر تک رکتے ہیں۔ دوسرے ضروری کاموں میں وقت ہی نہیں ملتا کہ پرافٹ شیٹ پر کام کر سکوں۔”
“بس بہانے تمہارے پاس بے بہا ہیں۔ چلو جا کر بیٹھو کوئی سیلری نہیں بڑھ رہی۔ اور ہاں سنو یہ بیس لاکھ کا چیک لو کمپنی اکاؤنٹ سے اور ٹریول ایجنٹ کو بھجوا دو۔ اگلے ہفتے میں فیملی کے ساتھ سنگا پور جا رہا ہوں کچھ دن طبیعت بحال کرنے کے لیے۔”
اس نے مردہ دل سے چیک پکڑا اور باہر آ گیا۔ بیس لاکھ کا چیک اس کی حسرتوں پر قہقہے لگا رہا تھا۔
Views All Time
Views All Time
236
Views Today
Views Today
7
یہ بھی پڑھئے:   محسن کش معاشرہ

قمرعباس اعوان

پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ دوستی کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ سوشل ویب سائٹس سے کافی اچھے دوست بنائے جنہیں اپنی زندگی کا سرمایہ کہتے ہیں۔ قلم کار ان کا خواب ہے اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نےبہت محنت کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: