Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

سر زمینِ پنج آب : جدید زرعی اصلاحات کی منتظر

Print Friendly, PDF & Email

تاریخ گواہ ہے کی متحدہ ہندوستان کی غذائی ضروریات کا بیشتر حصہ متحدہ پنجاب ہی پورا کیا کرتا تھا۔ تقسیم کے بعد بھی دونوں اطراف ،یہ سہرا پنجاب کے ماتھے پر ہی سجا رہا۔

بھارتی پنجاب کے سکھوں نے اپنے آباواجداد کے اس ورثہ کو خوب سنبھالا اور روایات کے امین ثابت ہوئے۔ اس کے برعکس مغربی پنجاب میں زرعی نظام قائم تو ہے مگر بہت سے سقم کے ساتھ۔صنعتی انقلاب اور نام نہاد ترقی کے نام پر تقریباًُ تمام بڑے شہروں میں بہترین صنعتیں قائم بھی ہوئیں اور بلاشبہ لاتعداد افراد کو بہترین روزگار کے مواقع بھی میسر آئے مگر شہری اور دیہی معاشرت کے حوالے سے وسائل اور سہولیات کا توازن بگڑتا گیا۔ اسی صنعتی انقلاب کی وجہ سے لوگ ان بڑے شہروں کا رخ اختیار کرنے لگے اور حکومتیں بھی ان ہی شہروں میں بہترین سہولیات فراہم کرنے میں لگی رہیں۔ وقت کا پہیہ رواں دواں رہا اور رفتہ رفتہ حالات سنگینی اختیار کرتے چلے گئے ۔

آج پنجاب میں ترقی عروج پر لیکن معاشرت زوال پزیر ہے۔ لاہور جیسا شہر بہترین شاہراہوں اور بد ترین فضاؤں کا حامل ہے۔ ٹریفک کا اژدھام بہترین ذارئع مواصلات کی موجودگی کے باوجود سنبھل نہیں رہا۔ میٹرو بس پھر سپیڈو اور زیر تعمیر اورنج لائن جیسے وسائل بھی بڑھتی ہوئی آبادی کے لحاظ سے ناکافی ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے:   ٹیچنگ ہسپتالوں کے لئے کالا قانون

نئی حکومت کی ترجیحات اپنے کئے ہوئے انتخابی وعدوں کے حساب سے تو شائد درست ہوں لیکن انہوں نے ایسا کوئی نعرہ نہیں لگایا تھا کہ صحت و تعلیم کی بہتری کے علاوہ وہ اور کوئی کام نہیں کریں گے۔
زرعی اصلاحات اور فارمنگ سے متعلق ابھی تک کسی وزیر کی کوئی بریفنگ سامنے نہیں آئی۔ شجر کاری کا کوئی مربوط لائحہ عمل طے نہیں پایا۔

خیر بات تو پنجاب کی ہو رہی ہے۔ جہاں کبھی راوی رواں دواں تھا۔ جہاں بیشمار برساتی نالے بہتے تھے جن پر اب پٹواریوں کے تعاون سے آبادیاں اور فیکٹریاں قائم ہو چکی ہیں۔ جہاں کی بہترین زرعی زمینوں پر کالونیاں بسائی جارہی ہیں۔ دنیا کا بہترین باسمتی چاول ہماری ناقص زرعی پالیسی کی وجہ سے برآمد ہونے سے محروم ہے۔ ہمارے گوداموں میں گندم کے ذخیرے اس لیے برباد ہو رہے ہیں کہ ہمارے پاس دوراندیشی نام کی کوئی شئےموجود نہیں
ارباب اختیار کو سب سے بڑے صوبے کے سب سے بڑے مسئلے کے حل کی جانب خصوصی توجہ دینی ہو گی۔

Views All Time
Views All Time
361
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: