پی ایس-11 لاڑکانہ کا ضمنی الیکشن – ایک تجزیہ

Print Friendly, PDF & Email

جی ڈی اے+پی ٹی آئی+جے یو آئی(ایف) کے امیدوار کامیاب

  سردار معظم علی خان عباسی31557  ووٹ لیکر پی پی پی کے جمیل سومرو کو شکست دے چکے  ، جن کے ووٹ 26032   ہیں اور سارے کے سارے 138 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج موصول ہوئے ہیں۔۔۔

شکست کا پس منظر :

2018ء میں نثار کھوڑو کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تو انہوں نے اس نشست پر اپنی بیٹی ندا کھوڑو کو کھڑا کردیا۔  معظم علی خان اس وقت 32178 ووٹ لیکر کامیاب ٹھہرے۔ مدمقابل ندا کھوڑو 21811 ووٹ لیکر شکست کھاگئیں۔ انہوں نے معظم علی خان کی کامیابی کو چیلنج کیا اور سپریم کورٹ نے معظم علی خان عباسی کی کامیابی کو کالعدم قرار دے ڈالا۔ لیکن ندا کھوڑو پھر نجانے کیوں ضمنی الیکشن میں نامزد نہ کی گئیں؟  ضمنی الیکشن میں جی ڈی اے، پی ٹی آئی اور جے یو آئی ایف کا اتحاد قائم رہا امیدوار پھر معظم علی خان عباسی تھے-

پی پی پی نے اس مرتبہ عرصہ دراز سے کراچی بلاول ہاؤس میں مینجریل پوسٹ پر کام کرنے والے جمیل سومرو کو لاڑکانہ درآمد کرکے اپنا امیدوار بنایا۔ یہ فیصلہ اندرون خانہ خود نثار کھوڑو کو بھی قبول نہیں تھا اور نہ ہی پی پی پی ضلع لاڑکانہ کے سابق ضلعی عہدے داران سمیت بہت سارے عہداران اور کارکنان کو قبول تھا لیکن جب چئیرمین بلاول بھٹو جمیل سومرو کو یہ الیکشن لڑوانے پر بضد تھے تو کون کھل کر مخالفت کرسکتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   عاشق نمبر 309

بلاول بھٹو سمیت پارٹی کے سب ہی لوگ اس ضمنی الیکشن میں سرگرم تھے اور جمیل سومرو کو کامیاب کروانے کے لیے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگارہے تھے۔ پی ایس-11 لاڑکانہ کا یہ حلقہ گزشتہ دس سالوں میں سیوریج، سینی ٹیشن اور ڈرینج کے شدید ترین مسئلے کا شکار رہا، دس سالوں میں اس حلقے میں ترقیاتی کام انتہائی ناقص ہوئے، اس حلقے میں پارٹی کے کارکنوں کا سب سے بڑا شکوہ یہ رہا کہ یہاں پر ان کی بات سُننے والا کوئی نہیں تھا، نوکریاں بیچنے بلکہ نوکریاں دلوانے کے جھانسے میں پیسے بٹورنے تک کی خبریں عام ہوئیں۔ پھر اس حلقے سے سابق جنرل سیکرٹری پی پی پی  تعلقہ لاڑکانہ خیر محمد شیخ کو ٹکٹ نہ ملنے پر شیخ برادری کی  جو پی پی پی کی حامی تھی تقسیم ہوئی اور یہ تقسیم آج تک باقی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ایس-11 لاڑکانہ میں سردار معظم علی خان عباسی کو جی ڈی اے، جے یو آئی ایف، پی ٹی آئی کی حمایت حاصل تھی، اگرچہ یہاں سے بیگم عباسی کے بیٹے حاجی منور عباسی بطور آزاد امیدوار کھڑے تھے لیکن اُن کی، صفدر عباسی، ناھید خان سمیت پی پی پی ورکرز پارٹی سے وابستہ کئی ایک کارکنان بھی معظم علی عباسی کو ہی سپورٹ کرتے پائے گئے۔

اس حلقے میں کئی ایک برادریوں کے عام لوگوں میں سندھ حکومت سے شکوے شکایات بھی زیادہ تھے۔۔۔۔ جیسے کلہوڑو برادری اپنے سرپنچوں کے ساتھ 2018ء میں بھی معظم علی کی حمایت کررہی تھی اور اب ضمنی الیکشن میں بھی وہ اسی کی حمایت پر پکا رہی۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھئے:   جمشید دستی ہوش محمد شیدیؒ ہرگز نہیں مگر ۔۔۔ حیدرجاوید سید

معظم علی خان 2013ء میں قومی اسمبلی کی نشست پر  لاڑکانہ عوامی اتحاد کے طور پر پہلی بار الیکشن میدان میں اترے تھے اور 28000 سے زائد ووٹ لیے تھے مگر وہ ایاز سومرو سے ہار گئے تھے جن کے ووٹ 50 ہزار سے زائد تھے۔  اس اتحاد نے لاڑکانہ کی 20 یونین کونسلوں میں سے چار پر بلدیاتی الیکشن میں جیت حاصل کی تھی۔۔

یہ مان بھی لیا جائے کہ نیب اور مقامی الیکشن کمیشن نے یہ الیکشن پی پی پی سے چھین لیا تو سوچنے والی بات یہ ہے کہ لاڑکانہ کا حلقہ این اے-200 اور اس کے نیچے صوبائی حلقے پی ایس 10 اور پی ایس 11 میں مخالف امیدواروں کے ووٹوں کا تناسب بڑھتا ہی جاتا ہے، کیوں؟ جیت اور ہار کا مارجن کم ہورہا ہے۔

Views All Time
Views All Time
119
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: