بلوچستان یونیورسٹی پر “اخلاقی خودکش” حملہ

Print Friendly, PDF & Email

کچھ دنوں سے بلوچستان یونیورسٹی میں ادارے کی تاریخ کا بدترین اسکینڈل میڈیا اور عوام الناس میں زیر بحث ہے۔ یہ اخلاقی پستی کی اعلیٰ مثال قائم کرتا ہوا اسکینڈل شاید اپنی سنگینی میں اُس معاشی بحران سے بھی سنگین ہے، جس سے مادر علمی آج کل دوچار ہے۔ معاشی بحران کی تو شاید دیر بدیر کہیں سے بھر پائی ہو جائے، لیکن  طلباء و طالبات  کو غیر اخلاقی اور نازیبا ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے پر مبنی یہ اسکینڈل یونیورسٹی کو ایک ایسا زخم ہے، جس سے برسوں خون رستے رہنے کا امکان ہے۔ جس کے آثار ابھی سے  بلوچستان کے تمام طبقات کی طرف سے شدید مذمت اور والدین میں پائی جانے والی تشویش کی صورت میں ابھی سے نظر آرہی ہے۔ بلوچستان، جہاں مجموعی طور پر تعلیمی اعداد و شمار پہلے ہی کچھ اچھی نہیں وہاں لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم تو ایک ایسا راستہ ہے جو کہ کئی طوفانوں سے ہو کر گذرتا ہے ۔بلوچستان جس کی مجموعی معاشی اور تعلیمی ترقی کے اینڈیکیٹر پہلے ہی کمزور ہیں۔ ایک طرف  یہاں وسائل کی کمی ہے تو دوسری طرف یہاں تعلیم   کی صورتحال pathetic ہے. یہاں عموماََ 5 ویں تک لڑکی کو تعلیم دے کر کہا جاتا ہے کے بہت ہو گئی یہ تعلیم ، اب اسے کسی کے پلو باندھ کر رخصت کر دیا جانا چاہئے۔

بہت کم لڑکیاں  FA/BAتک تعلیم حاصل کر پاتی ہیں۔کچھ پڑھے لکھے  باشعور گھرانے اور افراد اپنی بچیوں کو آگے پڑھنے کے لیے یونیورسٹی کی اجازت دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر یونیورسٹی پر اخلاقی “خود کش” حملہ کیا جائے تو اُس کی لہریں بڑی دور تک جانے کا امکان لاحق ہو جاتا ہے۔  انتہائی دکھ اور قرب سے کہنا پڑتا ہے کہ مادر علمی پر وہ افتاد آن پڑی ہے،  یا پھر اسے جان بوجھ کر اس بدناموسی سے دوچار کیا گیا ہے۔ یہ حملہ نہ فقط ایک ایسے عظیم ادارے پر کیا گیا کہ جس  نے اپنی کوکھ سے بلوچستان کے متعدد تعلیمی اداروں کو جنم دیا ہے، بلکہ یہ حملہ صوبے کہ دوردراز علاقوں میں بسنے والے باہمت والدین اور طلبہ و طالبات پر کیا گیا ہے جنہوں نے تمام تر روایتوں کی قیود اور رکاوٹوں کو پار کرتے ہوئے، اس درس گاہ کو تعلیم اور آگاہی کا ابھرتا مرکز بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے گذشتہ برسوں میں بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد بڑھ کر کل تعداد کا چالیس فی صد ہونا، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کس طرح ہماری بچیوں اور بہنوں نے آگے بڑھ کر اپنے گھرانوں اور اقوام کی شان کو اونچا کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔گو کہ مجموعی طور پر ہمارے لئے یہ بڑی شرمندگی اور درد کا مقام ہے، لیکن باشعور اقوام ہر قسم کے بحرانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حاصلات اور ترقی کی راہیں دوبارہ سے متعین کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   زندگی میں ہر مشکل سے لڑنا پڑتا ہے۔

 یہ وقت مایوس ہونے اور منہ چھپانے کا نہیں بلکہ مقابلہ کرنے اور یونیورسٹی کے چہرے کو داغدار کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا ہے۔ حکومت وقت، تمام سیاستی و سماجی تنظیموں ، اُدبا، دانشوروں اور والدین کو سامنے آکر اپنے بچوں خاص طور پر بہنوں اور بیٹیوں کے مستقبل کا دفاع کرنا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کے چند افراد اس اِیشو کو سیڑھی بنا کر  بچیوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان کے قدم مضبوط کرنے کے برعکس، ان پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کے درپے ہیں جو کے اس یونیورسٹی کے واقعے سے زیادہ افسوسناک ہے۔ کسی انسانی آبادی میں اگر کچھ “بھیڑیے” گھس آئیں اور انسانوں کو اپنی بھوک کا شکار بنائیں تو ان سے خوفزدہ ہو کر آبادیاں خالی نہیں کی جاتیں، بلکہ ان بھیڑیوں کا مؤثر تدارک کیا جاتا ہے۔

پوری دنیا میں اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں مگر معاشرے ایک نئے اور جوش ولولے کے ساتھ اس کا مقابلہ  کر کے یہ ثابت کرتے ہیں کے ایسے عناصر ہمارا راستہ نہیں روک سکتے  ۔میں اپنی بہنوں اور بچیوں کی ہر ممکنہ مدد کا یقین دلاتے ہوئے کہنا چاہتی ہوں کے وہ اپنے حوصلے بلند رکھیں اور اپنی تعلیم کی راہ میں آنے والی ہر روکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اپنے منزل مقصود تک پہنچیں۔کیونکہ ایک عورت ہی آنے والی نسل کی سوچ تبدیل کرسکتی ہے۔ جس طرح سردار بہادر خان یونیورسٹی پر خونی خودکش حملے سے ہمارے بچیوں کے حوصلے پست ہونے کہ بجائے اور بلند ہوئے تھے، میں امید کرتی ہوں کہ ہماری مادر علمی بلوچستان یونیورسٹی بھی اس “اخلاقی خود کش” حملے سے نبردآزما ہوکر تعلیم، ترقی اور آگاہی کی نئی راہیں متعین کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے:   داستانِ ویلنٹائین مبارک - ماہ وش خان بنگش

پروفیسر نیلم مومل براہوئی اکیڈمی  کی مرکزی جوائٹ سیکرٹری  ہیں۔

 

Views All Time
Views All Time
232
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: