Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

تا گور کے اوپر وہ گل اندام نہ آیا

Print Friendly, PDF & Email

تا گور کے اوپر وہ گل اندام نہ آیا
ہم خاک کے آسودوں کو آرام نہ آیا

بے ہوش- مئے عشق ہوں کیا میرا بھروسا
آیا جو بخود صبح تو میں شام نہ آیا

کس دل سے ترا تیر- نگہ پار نہ گذرا
کس جان کو یہ مرگ کا پیغام نہ آیا

دیکھا نہ اسے دور سے بھی منتظروں نے
وہ رشک- مہ- عید لب بام نہ آیا

سو بار بیاباں میں گیا محمل- لیلیٰ
مجنوں کی طرف ناقہ کوئی گام نہ آیا

اب کے جو ترے کوچے سے جاؤں گا تو سنیو
پھر جیتے جی اس راہ وہ بدنام نہ آیا

نے خون ہو آنکھوں سے بہا ٹک نہ ہوا داغ
اپنا تو یہ دل میرؔ کسو کام نہ آیا
شاعر میر  انتخاب عمیر سعید

Views All Time
Views All Time
287
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   یہ زکر ہے فرزند حسین ابن علی کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: