Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا 

Print Friendly, PDF & Email

آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا
بند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیا

کھول کے کھڑکی چاند ہنسا پھر چاند نے دونوں ہاتھوں سے
رنگ اڑائے پھول کھلائے چڑیوں کو آزاد کیا

بڑے بڑے غم کھڑے ہوئے تھے رستہ روکے راہوں میں
چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی ہم نے دل کو شاد کیا

بات بہت معمولی سی تھی الجھ گئی تکراروں میں
ایک ذرا سی ضد نے آخر دونوں کو برباد کیا

داناؤں کی بات نہ مانی کام آئی نادانی ہی
سنا ہوا کو پڑھا ندی کو موسم کو استاد کیا

شاعر ندا فاضلی

[poll id=”4″]

Views All Time
Views All Time
419
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   اس راہِ شوق میں میرے ناتجربہ ِشناس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: